|
جامعہ حفصہ کے خلاف مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی غیر سرکاری تنظیموں نے پیر کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور جامعہ حفصہ کےخلاف مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ایک سو سے زائد مرد اور خواتین نے شرکت کی اور مظاہرین نے اپنے بازوں پر سیاں پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر مذہبی انتہا پسندی کے خلاف نعرے درج تھے۔ ایک پلے کارڈ پر درج تھا ’ انتہا پسندی نامنظور ہمیں زندگی اور میوزک چاہیے‘ جبکہ دوسرے پر لکھا تھا ’ تیرا پاکستان میرا پاکستان نہیں بنےگا طالبان۔‘ مظاہرین مذہبی انتہا پسندی کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ یہ مظاہرہ چائینا چوک سے شروع ہوا اور مظاہرین مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس تک گئے جہاں وہ کافی دیر تک حتجاج کرتے رہے ۔ اس موقع پر ’پتن ترقیاتی تنظیم‘ کی سربراہ فرزانہ باری نے کہا کہ پہلے یہ مذہبی انتہا پسندی ملک کے دور دراز علاقوں خاص طور پر صوبے سرحد اور قبائلی علاقوں تک ہی محدود تھی لیکن اب یہ اسلام آباد تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جامعہ حفصہ نے شرعی عدالت کے قیام کا اعلان کیا جو کہ ایک غیر آئینی فعل ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ فرزانہ باری نے کہا کہ ’صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسند میوزک سنڑز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور شادی بیاہ کی تقریبات پر حملے کر رہے ہیں اور وہ خواتین کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے چہرے نہ ڈھانپے تو ان کے چہروں پر تیزاب پھینکا جائے گا۔‘ فرزانہ نے کہا کہ اس وقت پورا ملک مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے عام لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں لیکن حکومت لوگوں کے تحفظ اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے اور اس کے باعث حکومت کی رٹ ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وہ لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف احتجاج کرتی رہیں گی لیکن اس مظاہرے میں کئی ایسی خواتین تھیں جن کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ مظاہرے میں کیوں شریک ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ڈیل ملک تباہ کر دے گی‘17 April, 2007 | پاکستان ’مذاکرت میں اسی فیصد پیشرفت‘11 April, 2007 | پاکستان جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج09 April, 2007 | پاکستان ’خواتین کا اغواء، ایک سازش تھی‘31 March, 2007 | پاکستان شمیم رہائی کے بعد بھی عدم تحفظ کا شکار29 March, 2007 | پاکستان یرغمال بنائی گئی خواتین رہا29 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||