|
جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دیو بند مکتبِ فکر کے مدارس کے بورڈ ’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘ نے اسلام آباد کے زبردستی شریعت نافذ کرنے والے دو مدارس کو اپنے بورڈ سے نکال دیا ہے۔ بورڈ کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان نے پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کی انتظامیہ کے اقدامات کی وجہ سے ملک بھر کے مدارس کے بارے میں غلط تاثر پھیل رہا ہے اور یہ دونوں مدارس کے خلاف اقدامات کے لیے ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔‘ ’ہم نے انہیں بہت سمجھایا اور انہوں نے وفاق کی بات نہ مان کر خود کو بورڈ سے علیحدہ کرلیا اور بورڈ نے بھی انہیں علیحدہ کردیا۔‘ اسلام آباد میں خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات اور لڑکوں کے مدرسے جامعہ فریدیہ کے طلباء نے رواں سال جنوری میں حکومت کی جانب سے غیر قانونی مساجد کے انہدام کے بعد بچوں کی ایک سرکاری لائبریری پر قبضہ کر لیا تھا جو تاحال برقرار ہے۔ بعد میں طالبات اور طلباء نے برائی پھیلانے کے الزام میں ایک خاتون شمیم اختر کو ان کی بہو، بیٹی اور چھ ماہ کی نواسی سمیت گھر سے پکڑ کر مدرسے میں بند کر دیا تھا۔ ساٹھ گھنٹے کی حراست کے بعد شمیم اختر کو توبہ کرنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
جامعہ حفصہ اور فریدیہ کے طلباء کے اس قدم کو بعض مسالک کے جید علماء نے غیر شرعی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسلام کے مطابق غیرشرعی عمل کو روکنے کا اختیار ریاست کو ہوتا ہے نہ کہ کسی فرد یا ادارے کو۔ ایسی صورتحال میں حکومت اور دونوں مدارس کی انتظامیہ میں شدید تناؤ پیدا ہوا اور کشیدگی کم کرنے کی خاطر حکومت نے مدارس کی انتظامیہ سے بات چیت بھی کی تھی۔ مدارس کی طالبات جو ڈنڈے اٹھا کر مدرسے کے سامنے کھڑی رہتی ہیں ان میں سے بعض کے والدین خاصے پریشان ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایک باسی عبدالوحید نے پیر کو اپنی بیٹیوں سے مدرسے کے باہر ملاقات کے بعد بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سخت پریشانی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے متوقع آپریشن کی وجہ سے وہ اپنی بچیوں کے لیے فکرمند ہیں اور انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔ ضلع ایبٹ آباد کے گاؤں بٹنگی کے ایک اور رہائشی محمد جمیل نے بتایا کہ انہیں جامعہ حفصہ میں زیر تعلیم اپنی بچی اور تین بھتیجیوں کی فکر تو ہے لیکن وہ مسلمان ہونے کے ناطے ملک میں پھیلنے والی عریانی اور فحاشی کو روکنے کے بھی حامی ہیں۔ ’میں یہ نہیں کہتا ہے کہ جو طالبات نے کیا وہ ٹھیک ہے لیکن حکومت کو برائی کو روکنے کے لیے اقدامات بھی کرنے چاہیے اور لڑکیوں کی میراتھن ریس نہیں کروانا چاہیے۔‘ جامعہ حفصہ سے منسلک ایک مدرسے کے ناظم محمد شعیب نے بتایا کہ ان کی تین بہنیں اس مدرسے میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں۔ ’ آج میرے والد اپنی بیٹیوں کو لینے آئے لیکن میری بہنوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام پر حملہ ہوا ہے اور اس حالت میں وہ اپنی والدہ کی خدمت سے زیادہ مدرسے کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتی ہیں‘ جب ان سے پوچھا کہ کیا والدہ کا بچیوں پر کوئی حق نہیں تو محمد شعیب نے کہا کہ یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ مدرسہ کے نائب پرنسپل غازی عبدالرشید نے اس تاثر کو رد کیا کہ انہوں نے طالبات کو زبردستی روکا ہوا ہے۔ تاہم اپنے مدارس کے وفاق سے اخراج اور طلباء کا سال ضائع ہونے کے بارے میں سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنا جواب مشاورت کے بعد دیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جامعہ حفصہ کی طرف سے ایک شریعت کورٹ بھی قائم کی گئی ہے۔ مدرسے کے پرنسپل مولانا عبدالعزیز نے وزیر سیاحت نیلوفر بختیار کے فری فال چھلانگ کے بارے میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نیلوفر بختیار نے اپنے کوچ کو گلے لگا کر ایک غیر اسلامی فعل کیا ہے لہٰذا انہیں وزارت سے ہٹا دیا جائے۔ وزیر سیاحت نے اس فتوے کے جواب میں کہا تھا کہ مذکورہ کوچ ان کے والد کی عمر کے تھے اور اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو احتیاط برتنی چاہیئے۔ |
اسی بارے میں خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||