ستلج کے سیلابی پانی میں بہہ کر پاکستان پہنچنے والے انڈین نوجوانوں پر قصور اور لاہور کی جیلوں میں کیا بیتی؟

،تصویر کا ذریعہKuldeepBrar/BBC
- مصنف, کلدیپ سنگھ برار
- عہدہ, بی بی سی پنجابی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
یہ 2023 کا واقعہ ہے جب انڈین پنجاب میں مون سون کے موسم کے دوران ہونے والی شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث دریائے ستلج کے کناروں پر موجود زرعی زمین زیرِ آب آ گئی۔ اس صورتحال کے باعث انڈین کسانوں کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
ضلع فیروزپور کے گاؤں کلچے کے رہائشی جوگندر سنگھ، گرمیج سنگھ اور چھندر سنگھ سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکٹر کو نشیبی علاقے سے اونچی جگہ منتقل کر رہے تھے، جب وہ پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آ گئے اور اپنے ٹریکٹر سمیت ہی بہہ گئے۔
ان تینوں افراد کے اہلِخانہ کو کچھ خبر نہ تھی کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا۔ تاہم کچھ دنوں بعد پاکستان سے آنے والی خبروں کے ذریعے انھیں معلوم ہوا کہ یہ تینوں افراد تیز پانی میں بہہ کر پاکستان کی حدود میں پہنچ گئے تھے اور گرفتار کر لیے گئے۔
ان تینوں افراد کے گھر والوں نے مقامی سیاسی رہنماؤں اور حکام سے اُن کی واپسی کی اپیلیں کیں، مگر کوئی حل نہ نکلا۔ اس واقعے کے تقریباً ڈھائی سال بعد پاکستان نے حال ہی میں ان تینوں کو انڈیا کے حوالے کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جوگندر سنگھ نے بتایا کہ ’ہمارا کھیت انڈیا، پاکستان سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے۔ اس روز ہمارا ٹریکٹر پانی کے ریلے میں پھنس گیا تھا۔ جب ہم اسے نکالنے گئے تو سیلابی پانی کے تیز بہاؤ نے ہمیں پاکستان پہنچا دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہاں (پاکستان) کچھ لوگوں نے ہماری روداد سُنی، ہمیں بیٹھنے کو کہا اور پھر پولیس کو بلا لیا۔ پولیس نے ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور ہمیں ساتھ لے گئی۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور پوچھا کہ کیا وہ جان بوجھ کر سرحد عبور کر کے پاکستان آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKuldeepBrar/BBC
’ہم نے انھیں بتایا کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، ہم ستلج ندی کے بہاؤ میں بہہ کر یہاں پہنچے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جوگندر سنگھ کے مطابق جب پولیس کو یقین ہو گیا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہے تو ان کے رویے میں نرمی آ گئی۔
’پہلے ہمیں قصور جیل بھیجا گیا اور بعد میں لاہور جیل۔ ہمیں دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جاتا تھا۔ وہاں دوسرے انڈین قیدی بھی موجود تھے جو مختلف جرائم میں سزا کاٹ رہے تھے، مگر ہمیں اُن سمیت کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔‘
جوگندر نے مزید بتایا کہ ’تقریباً 15 ماہ بعد جج صاحب سے اجازت ملنے کے بعد مجھے ہفتے میں ایک بار گھر والوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اسی وقت مجھے معلوم ہوا کہ میرے پیچھے میرے والد کی وفات ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم کبھی انڈیا واپس جا پائیں گے، مگر پھر ایک دن اچانک بتایا گیا کہ آپ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ سُن کر ہم بہت خوش ہوئے۔ ہم حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے گھر لوٹ سکے۔‘
جوگندر سنگھ کی اہلیہ سروج رانی کہتی ہیں کہ ’ہمیں جوگندر سنگھ اور اُن کے دوستوں کے ستلج ندی میں بہہ کر پاکستان پہنچنے کی خبر اُن کے لاپتا ہونے کے 25 دن بعد ملی۔ اس سے پہلے ہم نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔‘
’جب ان کی گرفتاری کی خبر ملی تو ہم بہت غمگین ہوئے۔ بچے روتے رہے اور سکول نہیں گئے۔ جوگندر سنگھ ہی گھر کا واحد کمانے والا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اُن کے شوہر جوگندر سنگھ ہارویسٹنگ مشینوں پر فورمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ تین بھائی ہیں اور آٹھ ایکڑ زمین پر کھیتی بھی کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شوہر کی گرفتاری سے قبل ہی اُن کا خاندان مالی مشکلات کا شکار تھا۔ ’سیلاب نے ہماری زرعی زمین کا کچھ حصہ بہا دیا اور جب پانی اترا تو چار ایکڑ پر لگی گندم کی فصل بھی ضائع ہو گئی۔‘
شوہر کی واپسی پر انھوں نے کہا کہ ’ہم نے گردواروں، مندروں اور مساجد میں دعائیں کیں۔ ہمیں امید نہیں تھی کہ جوگندر زندہ رہ پائیں گے۔ ہمارے دو بچے پرائیویٹ سکول میں پڑھتے تھے۔ ایک بچے کو فیس نہ دینے پر سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر اس سب کے باوجود اب ہمارا پورا خاندان بہت خوش ہے کہ وہ گھر واپس آ گئے ہیں۔‘
گرمیج سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’2023 میں ہم ٹریکٹر کو نشیبی جگہ سے اونچی جگہ لے جا رہے تھے کہ دریائے ستلج کے تیز بہاؤ نے ہمیں بہا کر پاکستان پہنچا دیا۔ وہاں پہنچتے ہی مقامی لوگوں نے ہمیں پکڑ لیا۔‘
’ہم نے لوگوں سے درخواست کی کہ ہمیں مقامی پولیس یا فوج کے حوالے کر دیا جائے تاکہ ہم واپس جا سکیں۔ انھوں (پاکستانیوں) نے کسی محکمے کو فون کیا جس کے اہلکار ہمیں نقاب پہنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ جب اہلکاروں کو ان کے بیان کے حقیقت ہونے کا یقین ہو گیا تو انھوں دوسرے قیدیوں کی طرح ہی کھانا بھی دیے جانے لگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم واپس جا پائیں گے، مگر جب جیل میں حکام نے ہمیں رہائی سے متعلق بتایا تو خوشی کے باعث دو دن نیند نہیں آئی۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ اس عرصے کے دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے اور روزانہ اپنی رہائی کی دعائیں کرتے تھے۔ اُن کی غیر موجودگی نے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی مگر اب وہ اپنے بچوں اور خاندان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کے بھی شکر گزار ہیں۔
گرمیج سنگھ کی والدہ منجیت کور نے بتایا کہ ’ہمیں کئی دن بعد خبر ملی کہ ہمارا بیٹا ستلج ندی میں ڈوب گیا ہے۔ بیٹے کے بغیر ہماری کوئی زندگی نہیں تھی۔ ہم روز دعائیں کرتے رہے اور بہت مشکل دن گزارے۔‘
انھوں نے کہا کہ اب وہ بہت خوش اور صحت مند ہیں۔’ شکر ہے کہ خدا نے میرے بیٹے کو دوسری زندگی دی۔‘
ایڈووکیٹ مہر سنگھ مال نے وضاحت کی کہ جو لوگ سیلاب یا دیگر حادثات کی وجہ سے پاکستان کی سرحد پار کر جاتے ہیں، ان کی وہاں سکیورٹی ایجنسیاں تحقیقات کرتی ہیں اور اس کے بعد ایک طریقہ کار کے تحت انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس سے رابطہ کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو جائے کہ دوسرے ملک جانا ارادی نہیں تھا تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے قیدیوں کو واپس ان کے ملک بھیج دیتے ہیں، تاہم اس ضمن میں واپسی کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا کیونکہ یہ سب تحقیقات پر منحصر ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے واپس آنے والے ہر شخص پر انڈیا میں مقدمہ چلانا ضروری نہیں اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ سرحد پار کرنا ارادی عمل تھا یا حادثاتی۔
بارڈر سکیورٹی فورس کے انسپکٹر دیپ سنگھ نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے پاس اس کیس کے حوالے سے زیادہ تفصیلات نہیں ہیں۔ ’ہمارے پاس صرف اُن کی واپسی کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور معلومات نہیں ہیں۔‘













