گڑ: جنوبی ایشیا کا مقبول میٹھا بھی اور علاج بھی

گُڑ کے پیڑے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگُڑ جنوبی ایشیا کے بہت سے پکوانوں کا لازمی جزو ہے
    • مصنف, عائشہ امتیاز
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

میری امی جنوبی ایشیا کی بڑی بوڑھیوں کے دیسی نسخوں پر پکا یقین رکھتی ہیں اور ان کے خیال میں چند ہی ایسے امراض ہیں جن کا علاج وہ غذا سے نہیں کر سکتیں۔ ان کے دیسی نسخوں کی پٹاری میں ایک چیز سب سے نمایاں ہے اور ان کے تیار کردہ خاص قسم کے معجونوں اور کسیلے جوشاندوں میں سے یہ ہی ایک چیز ہے جسے آسانی سے نِگلا جا سکتا ہے۔

پہلی بار میں نے اپنی ماں کے کہنے پر گڑ اس وقت چکھا تھا جب مجھے خیبر پختونخوا میں شدید زکام ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ بظاہر میلی اور بدنما سی ڈلی کیسے صحت بخش ہو سکتی ہے مگر جیسے ہی اس کی مٹھاس میرے حلق سے اتری تو میں نے خود میں توانائی اور گرمی محسوس کی۔

اس کے بعد جلد ہی مجھے پتا چل گیا کہ یہ چیز دیسی ادویاتی غذا اور خوش دائقہ میٹھائی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ دراصل یہ تو صدیوں پرانی ایک روایت کا نچوڑ تھا۔

پاکستان میں تو گڑ گنے کے تازہ رس کو اچھی طرح پکا کر حاصل کیا جاتا ہے لیکن بہت سے دوسرے خطوں میں یہ پام، کھوپرے کے پانی اور کھجور کے رس سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔

پہلے تو رس کو کڑھاؤ میں اچھی طرح پکا کر گاڑھا کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد اس کی ڈلیاں بنائی جاتی ہیں۔ اسے کولمبیا اور جزائر غرب الہند میں پنیلا، جاپان میں ککوٹو اور برازیل میں راپاڈورا کہا جاتا ہے۔

گُڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں جہاں گنّے کی سو سے زیادہ اقسام پیدا ہوتی ہیں، دنیا کا 70 فیصد سے زیادہ گُڑ بنتا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق گنے کے اس طرح جمائے ہوئے رس میں موجود خواص مثلاً گلوکوز، فرکٹوز اور دوسرے معدنیاتی نمک ضائع نہیں ہوتے جیسا کہ چینی بنانے کے پیچیدہ عمل میں ہوتا ہے۔

چینی بنانے کے لیے نتھارنے کا جو عمل کیا جاتا ہے اس سے ’کثافتیں‘ تو دور ہو جاتی ہیں مگر اس سے باریک غذائی اجزا بھی زائل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس گڑ بنانے کے عمل میں ایسا نہیں ہوتا اور اس کی تمام غذائیت اور کیلشیم اور میگنیشیم جیسے صحت افزا اجزا قائم رہتے ہیں۔

ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر حکیم عبدالحنان کہتے ہیں کہ ’گڑ بنانے کی شروعات کا مقصد گنے کی فصل کو محفوظ رکھنا بھی ہو سکتا ہے تاکہ قدیم انسان اپنے لیے سال بھر مٹھاس بہم پہنچاتا رہے۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ برِ صغیر میں گنّا چھ ہزار سال قبلِ مسیح میں برما اور جزیرہ نما ملاوی سے آیا تھا۔

ایگلریکلچر آف دا شگر کین کے مصنف اے سی بارنس لکھتے ہیں کہ ’یہ توانائی کا سب سے سستا ذریعہ ہے جو زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر کاشت کیا جا سکتا ہے۔‘

انڈیا میں گنے کی سینکڑوں اقسام پیدا ہوتی ہیں جن سے دنیا کا 70 فیصد گڑ بنتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی اسے وسیع پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔

غذائی محقق ہیرولڈ میکجی اپنی کتاب ’آن فوڈ اینڈ کُکِنگ: دا سائنس اینڈ لور آف دا کیچن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس کی مخصوص مہک انڈین، تھائی، برمی، جنوبی ایشیائی اور افریقی پکوانوں کو الگ پہچان دیتی ہے۔‘

گُڑ

،تصویر کا ذریعہSaqib Rafique

،تصویر کا کیپشنجنوبی ایشیا میں گڑ پکوان میں میٹھاس اور بعض بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں گڑ کے دانوں اور ڈلوں سے بھری بوریاں بڑے بازاروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ گھروں میں گڑ مخصوص پکوانوں یا علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

بہت سے مسافر گڑ کا حلوا ساتھ رکھتے ہیں۔ اس میں تِل، مونگ پھلی اور دوسرے خشک میوے ملا کر اس کے لڈو بھی بنائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے سرد علاقوں میں گڑ کی چائے بھی بڑے شوق سے پی جاتی ہے، خاص طور سے شاہراہوں پر ٹرک ڈرائیوروں کے لیے بنے تھڑوں پر۔

دیہی علاقوں میں تو بچوں کو ٹافی کی جگہ بھی دیا جاتا ہے۔ ضیا تبارک ’سٹریٹ فوڈ پی کے‘ نامی یوٹیوب چینل چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’مجھے یاد ہے بچپن میں ہم کتنی بے چینی سے اس ریڑھی والے کا انتظار کرتے تھے جو تِل کے لڈو اور مونگ پھلی والی چِکی (دونوں گڑ کے شیرے میں بنائے جاتے ہیں) لے کر آیا کرتا تھا۔‘

رس ملائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگڑ کو خود میٹھے کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے اور اس کی مدد سے میٹھے پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں

تبارک نے دہائیوں بعد خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ میں گڑ کی گھریلو صنعت کے بارے میں اپنے چینل کے لیے پروگرام کیا۔

یہاں کے کاریگر نہایت سادہ طریقے سے گڑ بناتے ہیں اور گنے کے رس کو پکانے کے لیے آگ بھی گنے کے گودے سے جلائی جاتی ہے۔ اس طرح اس فصل کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔

تبارک کو گڑ بنانے کے اس عمل سے جذباتی لگاؤ پیدا ہو گیا: ’بالآخر اس قدرتی لولی پاپ کو بنتے دیکھ کر مجھے یہ پریوں کی داستان سی لگی۔‘

پاکستان میں گڑ کے کئی مصرف ہیں۔ خواتین اسے حیض سے قبل اٹھنے والے درد میں آرام کے لیے یا بچے کی پیدائش کا عمل تیز کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، والدین فولاد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بچوں کو کھلاتے ہیں۔ بڑے بوڑھے کھانے کے بعد ہاضمہ بہتر کرنے اور جوڑوں کے درد میں آرام کے لیے گڑ کی ایک ڈلی چباتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی ایسا ہی کرنے کو کہتے ہیں۔

علاج کی غرض سے گڑ کا استعمال ہزاروں برس سے ہوتا آیا ہے۔ خیال ہے کہ گڑ اگر تین سال یا اس سے پرانا ہو تو اس میں زیادہ ادویاتی اثر ہوتا ہے۔ علاج اور جراحی سے متعلق بعض قدیم کتب میں پرانے گڑ کے فوائد کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ خون صاف کرتا ہے، صفرا (پتے کی رطوبت) سے پیدا ہونے والے بدنی نقائص کو دور کرتا ہے اور جوڑوں کا درد رفع کرتا ہے۔

ایران کے قدیم طریقۂ علاج میں بھی گڑ کے کئی خواص بیان کیے گئے ہیں جس کے مطابق انسان کے چار مختلف مزاجوں (صفرا، دَم، سودا، بلغم) پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گڑ خون کی افزائش کرتا ہے۔

آیورویدہ طریقہ علاج میں بھی گڑ کی اہمیت بیان کی گئی ہے جس کے مطابق یہ انسانی جسم کی تین توانائیوں میں سے ایک وتا دوشا میں توازن پیدا کر کے شفایابی کے عمل میں تیزی لاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذائقہ قابل برداشت بنانے کے لیے دوسری دواؤں میں بھی ملایا جاتا ہے۔

گڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگنّے کے رس کو پکا کر گاڑھا کیا جاتا ہے جس کے بعد اس سے گڑ کی ڈلیاں بنائی جاتی ہیں

کراچی میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور مشرقی طب کے ماہر ڈاکٹر محمد نوید کے بقول ’یہ کیلشیم، فاسفورس، فولاد اور میگنیشیم جیسے غذائی اجزا کا ذخیرہ ہے جو قوت مدافعت بڑھانے، جگر صاف کرنے، قبض دور کرنے، بلغم نکالنے اور دار چینی ملا گڑ ماں کی چھاتیوں میں دودھ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘

مگر کراچی کی آغا خان یونیورسٹی کی ڈاکٹر سارہ ندیم کا کہنا ہے کہ شوگر یا ذیابیطس ہونے کی صورت میں گڑ کا استعمال بہر حال خطرہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ذیابیطس کا شکار جسم چینی اور گڑ میں تمیز نہیں کرتا۔ البتہ گڑ کے ہاضمے کا عمل چینی کے مقابلے میں قدرے پیچیدہ ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار میں اضافہ دیر سے ہو مگر آخر کار ہوگا ضرور۔‘ اس لیے شوگر کے مریضوں کو دوسری میٹھی چیزوں کے ساتھ گڑ سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

گڑ میں موجود دوسرے غذائی اجزا کے بارے میں ان کا کہنا ہے ان کی بدن کو درکار مقدار کیے بہت زیادہ گڑ کھانا ہو گا۔

ڈاکٹر سارہ کے خیال میں ’گڑ میں موجود فولاد مکمنہ طور پر اس کڑاہی سے شامل ہو جاتا ہو جس میں گنے کا رس پکایا جاتا ہے۔‘

گڑ کی مٹھائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگڑ کے اندر مونگ پھلی اور تل وغیرہ ملا کر میٹھے سنیکس بنائے جاتے ہیں

تاہم پاکستان میں گڑ کی ثقافتی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک غذائی جنس سے زیادہ ایک سوچ ہے جس کے مطابق یہ بیماریوں کو ٹھیک کرتی ہے، نزلہ زکام ٹھیک کرتی ہے اور بدن میں فوراً توانائی پیدا کرتی ہے۔

یہ سوچ بہت گہری ہے اور نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ میری بیٹی نے جو پہلی مٹھاس چکھی وہ گڑ تھا اور میں جانتی ہوں جب بھی اسے نزلہ ہو گا میں اس کے لیے گڑ ملا پراٹھا دوں گی، بالکل ویسے جیسی میری ماں نے میرے لیے کیا اور ان کی ماں نے ان کے لیے۔