بھنگ والی ٹھنڈائی: ’بابا کا پرساد‘ جو منھ میٹھا کر کے میلوں میں جان پھونک دیتا ہے

،تصویر کا ذریعہDiptendu Dutta/Stringer/Getty
- مصنف, چارکیسی رامادریا
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
میں وراناسی کے بل کھاتے اور تنگ راستوں پر چلا جا رہا تھا جہاں دیواروں پر پان کی پِیک تھوکنے کے سُرخ نشانات جا بجا موجود تھے۔ میں شہر کے قدیم ترین مضافاتی علاقے گوڈولیا چوک کی جانب گامزن تھا۔ میں وہاں کاشی ویشوناتھ ’ٹھنڈائی گھر‘ کی تلاش میں گیا تھا جو ایک چھوٹی سی گلی میں لگنے والا ایک سٹال ہے جس کی ملکیت کملیش کمار پاٹک نامی شخص کے پاس ہے۔
یہ سٹال مختلف چیزوں کے ساتھ ساتھ ’ٹھنڈائی‘ نامی مشروب کی فروخت کے لیے مشہور ہے۔
ٹھنڈائی دودھ سے بنتی ہے، اور اس میں کچھ مصالحے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ سیب، آم، یا پپیتے کے فلیورز (ذائقوں) میں بھی دستیاب ہے۔ مگر اس سٹال پر سب سے مقبول ٹھنڈائی کی قسم ’سپیل ٹھنڈائی‘ ہے جس میں تازہ کٹی ہوئی بھنگ (گانجھے کے مادہ پودے کے پتوں سے بنا مواد) شامل کی جاتی ہے۔
انڈیا میں ثقافتی طور پر بھنگ کی بہت اہمیت رہی ہے۔ انڈیا میں اس سے ایک خاص مطلب لیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا پودا جسے تباہی کے ہندو دیوتا شوا نے ترجیح دی تھی۔ ہندوازم میں یہ عقیدہ معروف ہے کہ شیوا نے بھنگ کا استعمال کیا تھا تاکہ وہ دنیا کی اچھائی کے لیے اپنی ذات کے اندر توجہ دے سکے اور وہ لامحدود طاقت اور اختیار حاصل کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ہندو مذہب کی چار مقدس ترین کتابوں ’اتھاروا ویدا‘ میں بھنگ کے پودے کو زمین پر پانچ مقدس ترین پودوں میں ایک کہا گیا ہے۔ اس میں اسے ’آزاد کروانے والا‘ اور ’خوشی کا باعث‘ بننے والا پودا قرار دیا گیا ہے۔
اگرچہ انڈیا میں نارکوٹکس ڈرگز کا ایکٹ 1985 بھنگ کی پیداوار، فروخت، اور استعمال کو منع کرتا ہے مگر مخصوص مقاصد کے لیے اس کے پتوں کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسلمیر اور پشکار جیسے قصبوں میں حکومت کی جانب سے منظور شدہ بھنگ کی دکانیں بھی ہیں۔ وراناسی میں پاٹک کے سٹال جیسی 200 کے قریب دکانیں ہیں۔ یہ نشہ آور جزو انڈیا کی براہمن برادری میں ہمیشہ سے مقبول رہا ہے جن میں روایتی طور پر نشہ آور اشیا جیسا کہ شراب کے استعمال کی ممانعت رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کے قدرے زیادہ مذہبی علاقوں میں جیسا کہ وراناسی میں یہ عام بات ہے کہ آپ کو ’بابے‘ اور ’سادھو‘ چِلم سے بھنگ پیتے نظر آتے ہیں۔
پاٹک کی فیملی گذشتہ 150 سال سے وراناسی کے مشہور کاشی وشواناتھ مندر کے باہر بھنگ فروخت کر رہی ہے۔ پاٹک اپنی مشروب بنانے کے لیے اشیا حکومت کی جانب سے منظور شدہ بھنگ کی دکان سے خریدتے ہیں۔ وہ اسے گرم بانی میں بھگو کر کوٹتے ہیں تاکہ اس کی ایک پیسٹ بن جائے جو زیر استعمال لائی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAroon Thaewchatturat/Alamy
شیوا کے لیے عقیدت مندوں کی جانب سے سپیشل ٹھنڈائی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہ روایتی طور پر بابا کا وہ پرساد ہے جو منگل آرتی کے دوران صبح تین بجے پیش کیا جاتا ہے۔‘
بھنگ کا ہندو تقریبات جیسا کہ شیوراتی (شیوا کی رات) اور ہولی (رنگوں کا میلا) میں بھی اہم کردار ہے۔ ان میلوں کے دوران روایتی ٹھنڈائی میں بھنگ شامل کرنے کی وجہ سے عام طور پر سڑکوں پر خوشی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ پاٹک کہتے ہیں کہ میلے کے دنوں میں وہ عام وقت کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈائی بیچتے ہیں۔
میں نے پہلی اور آخری مرتبہ سپیشل ٹھنڈائی کچھ سال پہلے ہولی کے میلے کے دوران پی تھی۔ مجھے ابتدائی طور پر خوشی کا احساس ہوا اور پھر میں وہمی کیفیت میں چلا گیا جو کہ کئی گھنٹے تک رہی۔ جب میں نے پاٹک کی دکان پر باقاعدگی سے آنے والے صارفین کو دیکھا تو میں ان کی متواتر ٹھنڈائی پینے کی صلاحیت دیکھ کر حیران رہ گیا۔
اگرچہ ٹھنڈائی کو عام طور پر بھنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر اسے لسی میں ملا کر بھی پیا جاتا ہے۔ وشوناتھ مندر کے قریب ایک اور دکان بھی ہے، بلو لسی شاپ، جس میں لسی کی 80 اقسام پیش کی جاتی ہیں، اور ایک ‘سپیشل‘ قسم جس کی تشہیر نہیں کی جاتی، اور صرف ان کو دی جاتی ہے جو خاص طور پر آ کر یہ مانگتے ہیں۔
بھنگ پکوڑوں میں بھی ملائی جاتی ہے، سموسوں میں ڈالی جاتی ہے، چٹنیوں اور اچار میں بھی ملائی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے منطور شدہ بھنگ کی دکانیں بھنگ ملے لڈو بھی فروخت کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Hindustan Times/Getty
اس کے علاوہ مقامی حکیم کہتے ہیں کہ تھوڑی مقدار میں استعمال کرنے سے بھنگ کے طبعی فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ہندو مذہب میں کہا جاتا ہے کچھ بھگوانوں اور شیطانوں نے ایک مرتبہ سمندروں کو پھینٹنا شروع کیا تاکہ وہ لافانیت کا مشروب نکال سکیں۔ مگر شیوا بھگوان نے پہنچ کر اس عمل سے نکلنے والا ’ہالاہالا‘ زہر پی لیا جس کی وجہ سے اس کی گردن نیلے رنگ کی ہو گئی (جس کی وجہ سے ان کا نام نیل کانتھ پڑ گیا) اور انھیں شدید تکلیف ہونے لگی۔ پاروتی نے اس موقع پر انھیں درد کے علاج کے لیے بھنگ پیش کی۔
مزید پڑھیے
جب 19ویں صدی کے وسط میں انگریز انڈیا پر حکومت کرنے لگے تو ابتدائی طور پر انھیں اس ملک میں بھنگ کے وسیع استعمال پر حیرانی ہوئی اور جلد ہی انھوں نے اس ‘دوا‘ کے اثرات اور ثقافتی اہمیت کے بارے میں تحقیق شروع کر دی تھی۔
انگریزوں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘اس پودے کے استعمال کو منع یا محدود کرنے سے بڑے پیمانے پر لوگ ناراض اور پریشان ہوں گے۔ لوگوں سے اُن کے سکون کا ذریعہ، بیماروں کا علاج، اور شیطانوں سے بچاؤ کا طریقہ چھن جائے گا۔‘
آج تک بھنگ انڈیا کی ثقافت اور روحانیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مگر میں اس یادگار ہولی کی صبح کے بعد سے اس سے بچ کر ہی رہتا ہوں۔











