http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 02 August, 2007, 02:29 GMT 07:29 PST

پرمود مورجاریہ
بی بی سی، رادرم

پاکستانی فٹبال ٹیم ، برطانوی کھلاڑی

برطانیہ میں ایشیائی نژاد برطانوی مختلف لیگ سے فٹبال کھیلتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایشیائی کھلاڑی ٹاپ کلاس پریمئیر شپ فٹبالروں میں شامل نہیں ہو سکا ۔

فٹبال کے کھیل میں شہرت اور کامیابی حاصل کرنے کی خواہش میں اب کچھ کھلاڑی برطانیہ سے باہر قسمت آز مانے کی سوچ رہے ہیں اور دوسرے ممالک ان کے نوجوان ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

برطانیہ کے چھوٹے سے شہر رادرم میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے اراکان ایسے چند کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے برطانیہ آئے ہیں جو طویل المدت سپانسرشپ پر پاکستان کے لیے کھیلیں گے۔ فیڈریشن نے سو کھلاڑیوں میں سے 25 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جو ایک میچ میں حصہ لیں گے اور یہ کوئی عام میچ نہیں ہوگا بلکہ ان کھلاڑیوں کو فیڈریشن کے ممبران کو متاثر کرنا ہوگا۔

ان کھلاڑیوں میں اکیس سالہ عرفان بھی شامل ہیں۔ عرفان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک سنہرا موقع ہے میرا ہمیشہ سے ہی یہ خواب تھا کہ میں پاکستان کے لیے کھیلوں اور جب مجھے اس معلوم ہوا کہ اس طرح کا موقع مل سکتا ہے تو میں نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا‘۔

فیڈریشن کے رکن نوید حیدر خان نے بتایا کہ لاہور میں کوچنگ اکیڈمی کے ساتھ پاکستان میں حال ہی میں فٹبال کی قومی پیشہ ورانہ لیگ کا آغاز ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کو سپانسر کیا جائے گا اور اگر ان میں صلاحیت ہوگی تو تو انہیں پاکستان کی ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔اور لوگ انہیں ٹی وی پر دیکھیں گے اور لوگوں کے سامنے ان کا ٹیلنٹ آئے گا۔

رادرم میں ہونے والے اس میچ میں رادرم فٹبال کلب کے کوچ نوٹس لیں گے اور میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں میں موجود صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

کلب میں یوتھ ڈویلپمینٹ کے سربراہ مائک پریسٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کھلاڑیوں کی تلاش ہے جوکلب کی نوجوان ٹیم میں شامل ہو سکیں ۔