|
کراچی میں کھیلنے سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اہلکاروں نے کراچی میں ایک ٹیسٹ میچ اور دو ایک روزہ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ کراچی میں صرف ایک ون ڈےمیچ کھیلنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ منگل کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن جان کار، پلئرز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چئرمین رچرڈ بیون اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن سلیم الطاف اور جرنل منیجر کرکٹ آپریشن ذاکر خان کا ایک اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے مقابلوں کے لیے مجوزہ مقامات کے بارے میں تھا۔ اس اجلاس میں وہ دو برطانوی سکیورٹی اہلکار اینڈی اولمن اور ڈگلس ڈگ شامل تھے۔ یہ افراد کئی دنوں سے ان پاکستانی شہروں کا دورہ کر رہے تھے جن میں اس سیریز کے میچ کروانے کی پاکستان کرکٹ بورڈ نے تجویز رکھی تھی۔ اجلاس کے بعد پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن سلیم الطاف نے پانچ ایک روزہ میچوں میں سے پی سی بی دو کراچی ، دو لاہور اور ایک راولپنڈی میں کرانا چاہتا تھا تاہم انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اہلکار کراچی میں اپنی ٹیم کوصرف ایک ون ڈے میچ کھلانا چاہتے ہیں برطانوی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کا کراچی میں زیادہ دن قیام نہیں چاہتے۔اس کے علاوہ برطانیہ سے کئی کرکٹ شائقین بھی اس سیریز کو دیکھنے آئیں گے اور ان کی سکیورٹی کے مد نظر بھی کراچی میں قیام مختصر رکھنا چاہتے ہیں۔ سلیم الطاف کے بقول پی سی بی کی اب بھی یہ کوشش ہے کہ انہیں کراچی میں دو میچز کھیلنے کے لیے آمادہ کیا جائے تاہم اگر وہ نہیں مانتے تو کراچی کی بجائے راولپنڈی میں دو میچز کھیلے جا سکتے ہیں۔ سلیم الطاف نے کہا کہ برطانوی سکیورٹی ٹیم بقیہ تمام شہروں سے مطمئن ہے۔ سلیم الطاف کے بقول اگر دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز چاہیں تو ٹیسٹ میچز میں بھی نیوٹرل ایمپائرز کا تجربہ کیا جا سکتا ہے اور انگلینڈ کے ساتھ سیریز کے دوران ہم انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ سیریز کے کم از کم ایک ٹیسٹ میچ میں نیوٹرل ایمپائر رکھنے کا تجربہ کیا جائے، تاہم اجلاس میں اس پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ سلیم الطاف نے کہا کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پچیس اکتوبر سے شروع ہونے والی اس سیریز کے لیے شہروں کا اعلان ایک ڈیڑھ ہفتے تک کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||