|
انگلینڈ کرکٹ بورڈ، دورہ پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آئندہ دورہ پاکستان کے دوران حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کےماہرین کا ایک وفد پاکستان جا رہا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کے کرکٹ بورڈز کا یہ وفد پاکستان میں ان تمام شہروں اور میدانوں کا دورہ کرئےگا جہاں انگلینڈ کی ٹیم اس سال کے آخرمیں پاکستانی ٹیم کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی اور پانچ روزہ میچ کھیلی گی۔ اس دورے کے دوران کھیلے جانے والے میچوں کی تاریخوں کا اعلان ایک سے دو ہفتے میں کر دیا جائے گا۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے میڈیا آفیسر کولن گبسن نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ دورے کی تفصیلات طے کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں حتمی پروگرام کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی پروگرام کے مطابق انگلینڈ کرکٹ ٹیم پچیس اکتوبر سے بائیس دسمبر تک دورہ کرے گی اور اس دوران یہ پاکستان کرکٹ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ایک روزہ میچ کھیلے گی۔ اس کے علاوہ ٹوینٹی 20 بین الاقوامی میچ بھی کھیلے جانے کا امکان ہے۔ کراچی میں میچ کھیلنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کراچی میں سن دوہزار دو میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورے کے دوران بم دھماکے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش اور سری لنکا نے کراچی کے نیشل اسٹیڈیم پر میچ کھلیے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہر یار خان نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انگلینڈ کے دورے کے دوران یہ تاثر ملے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں ایسی جگہوں پر میچ کھیلنے پر مجبور کر رہا ہے جہاں وہ میچ کھیلنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیموں کو کراچی میں سات آٹھ دن قیام کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا بھارت ٹیم نے بھی اسی وجہ سے کراچی میں ٹیسٹ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ انگلینڈ نے آخری مرتبہ پانچ سال قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور نیشنل اسٹیڈیم میں آخری روز شام کے ڈھلتے سائے اور کم ہوتی ہوئی روشنی میں میچ جیت کر سیریز ایک صفر سے جیت لی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||