|
’ہارتے ہارتے بھی جیت سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے مایہ ناز بلے باز اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے اوپنر سچن تنڈلکر کا خیال ہے کہ بھارتی ٹیم میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف موجودہ سیریز میں ہارتے ہارتے جیت کے سفر پر گامزن ہو جائے۔ منگل کو ناگپور میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے لیے تنڈلکر کو ڈاکٹروں نے فٹ قرار دے دیا ہے لہذا وہ اس ٹیسٹ میں اپنی ٹیم میں کھیل سکیں گے۔ آسٹریلیا کو اس سیریز میں صفر کے مقابلے میں ایک میچ کی سبقت حاصل ہے۔ تنڈلکر نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ سن دو ہزار ایک میں بھی ابتدا میں بھارتی ٹیم سیریز ایک صفر سے ہار رہی تھی لیکن آخری نتیجہ یہ تھا کہ بھارت نے یہ سیریز دو ایک سے جیت لی تھی۔ ’ہمیں صرف کوشش کرنی ہے اور ہمیں بہت ہی بنیادی باتوں کی طرف دھیان دینا ہوگا تاکہ ہم اچھی کرکٹ کھیل سکیں۔‘ تنڈلکر اس سال اگست سے کہنی میں تکلیف کی وجہ سے کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے۔ ان کے معالج کا کہنا ہے کہ ’تنڈلکر نے وہ سب کچھ کیا جو انہیں کرنے کو کہا گیا تھا اور اب انہیں کرکٹ سے دور رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تنڈلکر نے فٹنس ٹیسٹ بھی پاس کر لیا ہے اور وہ اپنے تمام شارٹس کھیل سکتے ہیں۔‘ معالج کا کہنا تھا کہ اب تنڈلکر کو کہنی میں کوئی درد محسوس نہی ہوتا اور انہیں مزید علاج کی ضرورت نہیں ہے لیکن انہیں چند باتوں پر عمل کرنا ہوگا تاکہ انہیں دوبارہ یہ تکلیف نہ ہو۔ تنڈلکر نے اب تک ایک سو چودہ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے 9470 رن بنائے ہیں جن میں 33 سنچریاں شامل ہیں۔ انہیں بھارتی ٹیم کے موجودہ کوچ سنیل گواسکر کا 34 ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ برابر کرنے کے لیے صرف ایک سنچری کی ضرورت ہے۔ تنڈلکر اگرچہ کرکٹ میں واپس آ رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے ’کافی دنوں کے بعد ایک دم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا شروع کرنا یقیناً مشکل ہوگا۔ میں آخری مرتبہ نو ہفتے قبل کھیلا تھا۔ میں آسٹریلیا کے خلاف پوری سیریز ہی کھیلنا چاہتا تھا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||