کرکٹ ورلڈ کپ 2007: باب وولمر کی پُراسرار موت، فائنل میں امپائرز کی غلطی اور گلکرسٹ کے گلوو میں سکواش کی گیند

آسٹریلین ٹیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2007 میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم مجموعی طور پر چوتھی اور لگاتار تیسری مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

28 اپریل 2007 کی شام برج ٹاؤن کے کینزنگٹن اوول گراؤنڈ میں اندھیرا ہو چلا تھا۔ اس نیم تاریکی میں آئی سی سی کے صدر پرسی سون نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رکی پونٹنگ کو ورلڈ کپ کی ٹرافی تھمائی تو فاتح کھلاڑیوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے اور انھوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم مجموعی طور پر چوتھی اور لگاتار تیسری مرتبہ ورلڈکپ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن یہ جیت فائنل کے مبہم انداز میں خاتمے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اس کی وجہ مخصوص حالات میں کھیل جاری رکھنے کے آئی سی سی قوانین کی غلط تشریح تھی جس کی وجہ سے آئی سی سی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

صرف یہی ایک تنازع نہیں تھا جس نے سنہ 2007 کے عالمی کپ کو متاثر کیا ہو بلکہ یہ ورلڈکپ چند دیگر اہم واقعات کی وجہ سے بھی شہ سرخیاں میں رہا تھا جن میں سرفہرست پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت تھی جس نے اس عالمی کپ کے دیگر تمام معاملات کو پس منظر میں ڈال دیا تھا۔

وولمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

باب وولمر کی موت پُراسرار کیوں بن گئی؟

یہ ورلڈ کپ دو بڑی ٹیموں پاکستان اور انڈیا کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم ثابت نہ ہوا کیونکہ یہ دونوں ٹیمیں پہلے ہی راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہو کر عالمی مقابلے سے باہر ہو گئیں۔

پاکستانی ٹیم کے لیے آئرلینڈ کے ہاتھوں چونکا دینے والی شکست کا غم کیا کم تھا کہ کوچ باب وولمر کی اچانک موت اِس پر بجلی بن کر گری۔

باب وولمر آئرلینڈ کے خلاف میچ کی اگلی صبح اپنے ہوٹل کے کمرے میں بے ہوش پائے گئے تھے، انھیں ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں اُن کی موت کی تصدیق ہو گئی۔

یہ اطلاعات بھی تھیں کہ جب صفائی کرنے والے نے اُن کا کمرہ کھولا تو پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں جان ڈالنے والے وولمر کا بے جان جسم موجود تھا۔

جمیکا کی پولیس نے باب وولمر کی موت کی تحقیقات کا اعلان کر دیا اور یہ سوال گردش کرنے لگا کہ کیا یہ موت طبعی تھی یا انھیں قتل کیا گیا تھا؟

وولمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس بارے میں جمیکا کے پیتھالوجسٹ ایری سیشیا نے اپنی رپورٹ میں دعوٰی کیا کہ باب وولمر کی موت گلا گھونٹنے سے واقع ہوئی تھی۔

جمیکا کے ڈپٹی پولیس کمشنر مارک شیلڈز کے ہر روز نت نئے بیانات اور انکشافات نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔

وولمر کی موت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہوئے جمیکا کی پولیس نے کپتان انضمام الحق اور اسسٹنٹ کوچ مشتاق احمد سے بھی پوچھ گچھ کی تھی اور پاکستانی ٹیم کو ویسٹ انڈیز چھوڑنے سے منع کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں پولیس نے یہ کہہ کر پنڈورا بکس بند کر دیا کہ وولمر کی موت طبعی تھی اور انھیں قتل نہیں کیا گیا تھا۔

انضمام الحق ورلڈکپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ وہ باب وولمر کی موت کو اب تک نہیں بھول پائے ہیں۔

وہ بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'کپتان اور کوچ کی حیثیت سے ہم دونوں کا بہت اچھا ساتھ رہا۔ باب وولمر اپنے کام میں بہت مخلص تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آئرلینڈ کے خلاف میچ میں شکست کے بعد وہ تمام کھلاڑیوں کو حوصلہ دے رہے تھے۔ ہوٹل میں اپنے کمرے میں جانے سے پہلے انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ مستقبل کا کیا پروگرام ہے؟ میں نے جواب دیا اس وقت تو میری حالت ایسی نہیں کہ بات کر سکوں۔ صبح بات کریں گے لیکن اُن کی وہ صبح نہیں آ سکی۔'

وولمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فائنل میں کیا ہوا؟

ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی۔ میچ کو بارش کی وجہ سے 38 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔

آسٹریلیا نے چار وکٹوں پر 281 رنز بنائے۔ وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلکرسٹ نے صرف 104 گیندوں پر 149 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 13 چھکے اور آٹھ چوکے شامل تھے۔

میچ رکا تو سری لنکا کی ٹیم کو نظرثانی شدہ ہدف کے تحت 36 اوورز میں جیتنے کے لیے 269 رنز بنانے تھے تاہم وہ آٹھ وکٹوں کے نقصان پر215 رنز بنا سکی، اس طرح آسٹریلیا نے ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت یہ میچ 53 رنز سے جیت لیا۔

علیم ڈار، سٹیو بکنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیچ امپائرز علیم ڈار اور سٹیو بکنر نے کم روشنی کے باعث پہلے میچ روکا اور پھر دوبارہ شروع کروانے کا فیصلہ کیا جس پر آئی سی سی کو شرمندگی اٹھانا پڑی

امپائرز کیا غلطی کر بیٹھے؟

سری لنکا کی اننگز کے 33 ویں اوور کے اختتام پر امپائرز سٹیو بکنر اور علیم ڈار نے خراب روشنی کے سبب کھیل روک دیا۔ اس وقت سری لنکا کو جیتنے کے لیے 18 گیندوں پر 63 رنز درکار تھے۔

آسٹریلوی کرکٹرز یہی سمجھ رہے تھے کہ میچ ختم ہو چکا ہے کیونکہ اُن کے ذہنوں میں یہی بات تھی کہ میچ مکمل ہونے کے لیے بیس اوورز مکمل ہونے ضروری ہوتے ہیں اور ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت آسٹریلوی ٹیم آگے تھی یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی ٹیم نے جیت کا جشن منانا شروع کر دیا تھا لیکن سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب امپائرز علیم ڈار اور سٹیو بکنر نے میچ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر دیا۔

میچ دوبارہ شروع ہوا اور باقی ماندہ تین اوورز پورے کروائے گئے لیکن اندھیرا چھا رہا تھا اور سٹمپ کیمرے نے جب پچ دکھائی تو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔

امپائرز کے پاس میچ دوبارہ شروع کرنے کا جواز یہ موجود تھا کہ چونکہ میچ بارش نہیں بلکہ کم روشنی کی وجہ سے روکا گیا تھا لہٰذا آخری تین اوورز کروائے گئے۔

امپائرز نے بنیادی غلطی یہ کی کہ جب بیس اوورز ہو گئے تھے تو میچ رکنے کے بعد فیصلہ ڈک ورتھ لوئس کے تحت ہو جانا چاہیے تھا لیکن میچ امپائرز علیم ڈار اور سٹیو بکنر اس قانون پر عمل کرنے کے بجائے تین اوورز کھلانے میدان میں واپس آئے تھے۔

امپائرز کی قوانین سے لاعلمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے امپائر علیم ڈار نے آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ سے یہ بھی کہا کہ اگر آج کھیل ممکن نہ ہوا تو ریزرو ڈے کے لیے اگلے روز دوبارہ آنا ہو گا۔ رکی پونٹنگ کا کہنا ہے کہ جب علیم ڈار نے یہ بات کہی تو وہ یہ سمجھے کہ وہ ان سے مذاق کر رہے ہیں۔

سری لنکا کے کپتان جے وردھنے کا میچ کے بعد کہنا تھا کہ ’ہماری انڈر سٹینڈنگ یہی تھی کہ جب بیس اوورز ہو جائیں تو میچ کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت آنا چاہیے تھا۔

’روشنی اتنی کم ہو گئی تھی کہ ہمارے بیٹسمینوں کے لیے فاسٹ بولرز گلین مکگرا اور شان ٹیٹ کو کھیلنا ناممکن ہو گیا تھا، ہم میچ ختم کرنا چاہتے تھے اس مرحلے پر میچ جاری رکھنا ہماری طرف سے خیرسگالی کے جذبات کا حصہ تھا۔‘

سری لنکا کپتان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسری لنکا کے کپتان جے وردھنے کا میچ کے بعد کہنا تھا کہ ہماری انڈر اسٹینڈنگ یہی تھی کہ جب بیس اوورز ہو جائیں تو میچ کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت آنا چاہیے تھا

فائنل میں میچ ریفری کی ذمہ داری نبھانے والے نیوزی لینڈ کے جیف کروو نے تسلیم کیا کہ اس صورتحال میں ہم تمام میچ آفیشلز میچ کو اگلے دن مکمل کرنے کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے، جو غلط تھا۔

آئی سی سی نے اس واقعے کے بعد سزا کے طور پر فائنل کے تمام پانچوں میچ آفیشلز کو اگلے آئی سی سی ایونٹ کے لیے معطل کر دیا۔ ان میں میچ ریفری جیف کرو، فیلڈ امپائرز علیم ڈار، سٹیو بکنر، تھرڈ امپائر روڈی کرٹزن اور ریزرو امپائر بلی باؤڈن شامل تھے۔

اس طرح یہ پانچوں افراد ستمبر 2007 میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں موجود نہیں تھے۔

مزید پڑھیے

بیٹنگ گلوو میں چھپی سکواش کی گیند

اس عالمی کپ کا ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلکرسٹ نے یہ انکشاف کیا کہ انھوں نے فائنل میں اپنے بائیں ہاتھ بیٹنگ گلوو میں سکواش کی گیند رکھ کر بیٹنگ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کافی عرصے سے کرتے آ رہے ہیں جس کا مقصد بیٹ کی گِرپ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

گلکرسٹ نے یہ انکشاف ورلڈ کپ کے ختم ہونے کے بعد کیا تھا جس پر یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ کیا وہ قوانین کے تحت ایسا کر سکتے تھے؟ سب سے بڑا اعتراض سری لنکا نے اٹھایا تھا۔

کرکٹ کے قوانین مرتب کرنے والے ادارے ایم سی سی نے یہ بحث یہ کہہ کر ختم کر دی کہ گلکرسٹ نے سکواش کی گیند اپنے بیٹنگ گلوو میں رکھ کر کوئی غلط حرکت نہیں کی۔

ایڈم گلکرسٹ فائنل میں بیٹنگ کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلکرسٹ نے یہ انکشاف کیا کہ انھوں نے فائنل میں اپنے بائیں ہاتھ بیٹنگ گلوو میں سکواش کی گیند رکھ کر بیٹنگ کی تھی

سنہ 2007 کے عالمی کپ کو کئی پہلوؤں سے کامیاب ٹورنامنٹ نہیں کہا گیا۔

ویسٹ انڈیز کے شہرۂ آفاق کرکٹر سر ویوین رچرڈز نے آئی سی سی کی سخت سکیورٹی پالیسیوں کا گلہ کیا جس کی وجہ سے وہ تمام سرگرمیاں اور ہنگامہ خیزی اس ورلڈ کپ میں نظر نہیں آئی جو عام طور پر ویسٹ انڈیز کے میدانوں میں دکھائی دیتی ہے۔

سٹیڈیم تماشائیوں سے مکمل طور پر نہیں بھر سکے تھے جس کی وجہ سکیورٹی پالیسی کے ساتھ ساتھ مہنگی ٹکٹیں بھی تھیں۔