بِٹ کوائن میں بجلی کا بے تحاشہ استعمال کیا کرپٹو کرنسی کو ڈبو سکتا ہے؟

    • مصنف, جسٹن راؤلٹ
    • عہدہ, نامہ نگار، امور ماحولیات

ہم سب ایسے لوگوں کی کہانیاں مسلسل سن رہے ہیں جو بِٹ کوائن کی دنیا میں لکھ پتی بن گئے۔

ان میں تازہ ترین اضافہ ایلون مسک ہیں۔

ان کی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی کمپنی ٹیسلا، اس سال فروری میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالیت کے بِٹ کوائن خریدنے کے بعد اب تک کاغذوں میں نو سو ملین ڈالر کا منافع کما چکی ہے۔

ایلون مسک جیسی مشہور شخصیت کے بٹ کوائن کی دنیا میں آنے سے ایک بٹ کوائن کی قیمت میں 58 ہزار ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔

لیکن یہ صرف اس ڈجیٹل کرنسی کی قیمت ہی نہیں جس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، بلکہ کمپیوٹر پر بٹ کوائن کی مائنِنگ یا کان کنی پر خرچ ہونے والی توانائی میں بھی بہت اضافہ ہو چکا ہے۔

اور جوں جوں اس کرپٹو کرنسی پر خرچ ہونے والی بجلی کے ماحول پر مضر اثرات کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہو رہا ہے، اس سے ایلون مسک کی ذات کو بھی دھچکا پہنچ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب امریکی وزارت خزانہ کی سکریٹری جینٹ ییلن سمیت کئی دوسری بڑی شخصیات نے بھی رواں ہفتے اس ڈجیٹل کرنسی پر شدید تنقید کی ہے۔

صدر جو بائیڈن کی سب سے بڑے معاشی مشیر کا کہنا تھا کہ ’بٹ کوائن خرید و فروخت اور ادائیگی کرنے کا ایک انتہائی غیر مؤثر طریقہ ہے کیونکہ ان ادائیگیوں پر جتنی توانائی (بجلی) خرچ ہوتی ہے اس کی مقدار حیران کن حد تک زیادہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یہ واضح نہیں ہے کہ بٹ کوائن کتنی توانائی استعمال کرتا ہے کیونکہ کرپٹو کرنسی ایک ایسی چیز ہے جس کا درست حساب کتاب رکھنا مشکل ہے۔

تاہم، اس بارے میں تمام لوگوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کے بٹ کوائن کی مائینگ ایک ایسا کاروبار ہے جس پر بہت زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں قائم متبادل مالیاتی ذرائع پر تحقیق کا مرکز (سینٹر فار آلٹرنیٹِو فائنینس) دنیا میں کرپٹوکرنسی کی مخلتف اقسام کے تیزی سے بڑھتے رجحان کا مسلسل مطالعہ کر رہا ہے۔

اس مرکز کے اعداد وشمار کے مطابق بٹ کوائن پر سالانہ جو بجلی خرچ ہو رہی ہے وہ 40 اور 445 ٹیرا واٹ آورز کے درمیان ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں سالانہ 300 ٹیرا واٹ آور بجلی خرچ ہوتی ہے جبکہ برازیل سالانہ تقریباً 445 ٹیرا واٹ آور بجلی خرچ کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ماحول پر بٹ کوائن کے مضر اثرات کی وجہ یہ بھی ہے کہ بٹ کوائنز کی مائنِنگ کرنے والے لوگ اکثر وہ بجلی استعمال کر رہے ہیں جو ماحول دوست ذرائع سے نہیں پیدا ہوتی۔

کیمبرج یونیورسٹی کے مرکز کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو چلانے کے لیے جو بجلی خرچ ہو رہی ہے اس کا دو تہائی حصہ ایسے ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے جنھیں دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا، یعنی فوسل فیول (تیل، گیس، کوئلہ وغیرہ)۔

بٹ کوائن کی تلاش اور اس کے لین دین میں اس قدر زیادہ کمپیوٹر کے استعمال، اور اس کے نتیجے میں بجلی کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ بٹ کوائن کی ٹیکنالوجی کو ڈیزائن ہی ایسے کیا گیا ہے کہ اس میں بہت زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ بٹ کوائن کا انحصار کمپیوٹرز کے بڑے بڑے نیٹ ورکس پر ہوتا ہے جو آپس میں جُڑے نہیں ہوتے۔

نئے بٹ کوائن دریافت کرنے والوں کو کانکن یا مائینرز کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف نئے بٹ کوائن بناتے ہیں بلکہ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس کرپٹو کرنسی میں ہونے والے ہر نئے لین دین کا اندراج بھی کرتے ہیں۔

اصل میں بٹ کوائن وہ انعام ہوتا ہے جو مندرجہ بالا معلومات کا درست ریکارڈ رکھنے والے کو دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو سے منسلک معاشیات کی پروفیسر اور بٹ کوائن کی محقق جینا پائٹرز کے بقول یہ چیز لاٹری کی طرح کام کرتی ہے، جو ہر دس منٹ کے بعد کھیلی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ڈیٹا پروسیسنگ سینٹرز میں یہ دوڑ لگ جاتی ہے کہ سب سے پہلے کون وہ ریکارڈ بھیجے گا جو بٹ کوائن کا نظام قبول کر لے گا۔

یہ پروسیسر خود سے ہی ایک ہندسہ بھی بناتے ہیں۔ یوں جو بھی سب سے پہلے صحیح ہندسہ اور اب تک کا ریکارڈ بتاتا ہے وہ انعام کا حقدار ہوتا ہے، اور یوں ہر دس منٹ بعد بٹ کوائن کا ایک نیا سلسلہ یا بلاک چین وجود میں آ جاتا ہے۔

آج کل ہر نیا بلاک چین بنانے والے کو انعام میں سوا چھ بٹ کوائن دیے جاتے ہیں، تقریباً 50 ہزار ڈالر فی بٹ کوائن کے حساب سے۔

جوں ہی ایک لاٹری ختم ہوتی ہے، پروسیسر ایک نیا ہندسہ نکالتا ہے اور یوں سارا عمل پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔

پرفیسر پائٹرز کہتی ہیں کہ انعام جتنا بڑا ہوتا ہے، اتنے ہی زیادہ مائنرز اس کھیل میں حصہ لینے لگتے ہیں۔

’وہ چاہتے ہیں کہ انھیں زیادہ سے زیادہ منافع ملے اور یہی وہ چیز ہے جس کے وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ بٹ کوائن بناتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ طاقتور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ پروسیسر کے نکالے ہوئے ہندسے کا جلد سے جلد سراغ لگا لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ توانائی (بجلی) کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا۔‘

بٹ کوائن میں زیادہ بجلی خرچ ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔

بٹ کوائن کا سافٹ ویئر یہ یقینی بناتا ہے کہ نئے ہندسے کا معمہ دس منٹ کے اندر اندر حل ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہندسے کا سراغ لگانے کے خواہشمند مائینرز کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یوں جوں جوں معمہ مشکل ہوتا جاتا ہے اسے حل کرنے کے لیے کمپیوٹنگ زیادہ ہو جاتی ہے جس کے لیے زیادہ بجلی چاہیے ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بٹ کوائن کو ڈیزائن ہی ایسے کیا گیا ہے کہ اس میں کمپیوٹر کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی ہو۔

اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ بلاک چین کا حساب کتاب جتنے زیادہ کمپیوٹرز میں ہوگا، اس سے بٹ کوائن زیادہ سے زیادہ محفوظ رہے گا۔ یوں اگر کوئی بھی مائینر اس کرپٹوکرنسی کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے باقی تمام مائینرز کی کُل کمپیوٹنگ سے زیادہ طاقتور کمپیوٹر استعمال کرنا پڑے گا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جوں جوں بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے، نئے بٹ کوائن بنانے اور پھر انھیں قائم رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کمپیوٹر استعمال ہوں گے، یوں لامحالہ بجلی کے استعمال میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

اس بات کا اندازہ کسی وقت بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کتنے مائینرز نئے بٹ کوائن بنا رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق آج کل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مائینرز ہر ایک سیکنڈ میں بٹ کوائن کے 160 کوئن ٹریلین اعداد وشمار پیدا کر رہے ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ایک کؤن ٹریلین ہندسوں میں کتنا ہوتا ہے تو ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔ جی ہاں 160,000,000,000,000,000,000

ڈِجیی کانومِسٹ نامی ویب سائٹ کے بانی اور بٹ کوائن کے ماہر ایلکس ڈی ورائیز کے بقول کرپٹوکرنسی کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ اس میں کمپیوٹر کا استعمال انتہائی زیادہ ہے۔

لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بٹ کوائن کو رواں دواں رکھنے کے لیے جو اربوں کھربوں کیلکولیشنز ہو رہی ہیں وہ کوئی بہت مفید کام نہیں کر رہی ہیں۔

ایلکس کہتے ہیں کہ ’یہ اعداد و شمار (یا کمپیوٹیشنز) کوئی مقصد پورا نہیں کرتے، انہیں فوراً ہی ردی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس وقت کمپیوٹرز یہ اعدادوشمار پیدا کرنے پر بہت زیادہ توانائی خرچ کر رہے ہیں، اور مسئلہ یہ ہے کہ اس توانائی (بجلی) کا زیادہ تر حصہ کوئلے، تیل اور گیس جیسے قدرتی ذخائر سے حاصل کیا جا رہا ہے۔‘

ایلکس کا مزید کہنا ہے کہ بٹ کوائن بنانے میں جس قدر زیادہ کوشش صرف ہوتی ہے، اس کی وجہ سے یہ مشکل ہے کہ اس کے دائرہ کار کو بڑھایا جا سکے۔

’اگر بٹ کوائن کو واقعی ایک دن ایک عالمی کرنسی کے طور پر اپنا لیا جاتا ہے تو ایک بٹ کوائن کی قیمت لاکھوں ڈالر تک پہنچ جائے گی، اور یوں بجلی پر خرچ کرنے کے لیے امریکہ کے تمام بجٹ سے بھی زیادہ دولت مائینرز کے ہاتھ میں آ جائے گی۔‘

ایلکس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا ’اس کے لیے ہمیں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار دوگنا زیادہ کرنا پڑ جائے گی۔

ایلکس نے یہ بھی بتایا کہ بٹ کوائن کے ڈایزائن میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ ایک سیکنڈ میں بٹ کوائن میں صرف تقریباً پانچ لین دین ہو سکتے ہیں۔‘

ان کے بقول یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے بٹ کوائن زیادہ مفید کرنسی نہیں ہے۔

اور اس خیال کی تائید فائنینس اور معاشیات کی دنیا کی نامور شخصیات بھی کرتی ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر اور آئی ایم ایف کے سابق چیف اکانومنسٹ، کین روگوف کے بقول ’کسی بھی اچھی اور کارآمد کرنسی کے لیے دو خصوصیات ضروری ہیں، ایک یہ کہ یہ کرنسی لین دین کا ایک مؤثر ذریعہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کی قیمت مستحکم رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن میں یہ دونوں خوبیاں موجود نہیں۔

’حقیقت یہ ہے کہ بٹ کوائن ایسی معیشت میں استعمال نہیں ہوتا جسے قانونی تحفظ حاصل ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک امیر شخص دوسرے امیر شخص کو بٹ کوائن فروخت کرتا ہے لیکن یہ کسی کرنسی کا حتمی استعمال نہیں ہے۔ اور جب تک اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو جاتا، بٹ کوائن کا کوئی دیرپا مستقبل نہیں ہو سکتا۔‘

پروفیسر کین روگوف اصل میں کہہ یہ رہے ہیں کہ بٹ کوائن کا واحد استعمال یہ ہے کہ اس سے سٹہ بازی ہو سکتی ہے۔

تو کیا اس کرپٹو کرنسی کی قدر کم ہو جائے گی؟

پروفیسر روگوف کا جواب تھا ’میرا اندازہ تو یہی ہے، لیکن میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ ایسا کب ہو گا۔‘