|
’الزرقاوی حملے میں بچ گئے تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق میں القاعدہ کے سینئر ترین رہنما ابومصعب الزرقاوی امریکی طیاروں کے حملے میں زندہ بچ گئے تھے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل کالڈ ویل نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے بعد جب عراقی پولیس جائے وقوع پر پہنچی تو الزرقاوی زندہ تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الزرقاوی نے اس سٹریچر سے بھی ہلنے کی کوشش کی تھی جس پر انہیں عراقی پولیس نے ڈالا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ ’سب نے مل کر انہیں واپس سٹریچر پر ڈالا لیکن وہ فوراً ہی زخموں کی وجہ سے ہلاک ہوگئے‘۔ ترجمان کے مطابق الزرقاوی نے اس دوران چند الفاظ بھی بڑبڑائے جو کسی کو سمجھ نہ آ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جب امریکی فوجی حملے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے الزرقاوی کو ان کے جسم کے نشانات اور چہرے کی مدد سے شناخت کیا۔ میجر جنرل کالڈ ویل کا کہنا تھا کہ’معلوم نہیں الزرقاوی فضائی حملے میں کیسے زندہ بچے‘۔ یاد رہے کہ بدھ کی شام امریکی ایف سولہ طیاروں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بعقوبہ کے قریب الزرقاوی کے ٹھکانے پر پانچ سو پاؤنڈ وزن کے دو بم گرائے تھے اور اس حملے میں وہ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی فوج کی جانب سے جمعرات کو الزرقاوی کی ہلاکت کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ان کی تصاویر بھی جاری کیں تھیں۔ ان تصاویر کے بارے مںی امریکی فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ’تصاویر کی خاطر الزرقاوی کے چہرے سے خون صاف کرنے کا فیصلہ دانستہ طور پر کیا گیا تھا‘۔ | اسی بارے میں ’نئی معلومات کا خزانہ ملا ہے‘09 June, 2006 | آس پاس بم حملوں کا خدشہ، بغداد میں کرفیو09 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی: خط اور وڈیو سے اقتباسات 08 June, 2006 | آس پاس ’الرزقاوی فضائی حملے میں ہلاک‘ 08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی کا آخری وڈیو 08 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||