|
شاید حکمت عملی بدل جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ابو مصعب الزرقاوی کی موت کے بعد امکان یہ ہے کہ عراق میں القاعدہ کی قیادت ابوالمصاری نامی مصری عسکریت پسند سنبھالیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی گردش کر رہا ہے کہ زرقاوی کی موت سے عراق میں امریکی فوجوں کے خلاف جاری مزاحمت جلد ختم نہیں ہوگی۔ ایک سینیئر امریکی جنرل نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ زرقاوی کے اپنے ہی حلقے سے ملنے والی معلومات نے عراقی اور امریکی فوج کو انہیں ڈھونڈنے میں مدد دی ہے۔ اس بات سے ان حالیہ تـجزیوں کو بھی تقویت ملتی ہے کہ زرقاوی کی مقبولیت میں کمی آ چکی تھی اور وہ اپنے حلقے میں بھی اثر کھو رہے تھے۔ گزشتہ چند ماہ سے شدت پسندوں کی ویب سائٹس پر ان ظالمانہ طریقوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جو زرقاوی کا طرۂ امتیاز بن چکے تھے، خاص طور پر لوگوں کے سر قلم کیے جانے کی ویڈیو بنا کر پیش کرنا۔ پچھلے کچھ ہفتوں میں عراقی مزاحمت پر نظر رکھنے والےمختلف ذرائع نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ القاعدہ کے اندر بھی زرقاوی کی پوزیشن کو کم کیا جا چکا تھا۔ حال ہی میں اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری نے بھی زرقاوی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عراقی مزاحمت کے کئی حامیوں کو یہ خدشہ ہونے لگا تھا کہ زرقاوی کے ظالمانہ طریقوں سے مزاحمت کاروں کے اپنے مقاصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے حامی زرقاوی کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف بغض پر بھی بے چین تھے۔ زرقای کے گروپ کو اس الزام کا بھی سامنا رہا ہے کہ اس نے عراق اور اردن میں عام شہریوں پر خوفناک حملے کیے ہیں۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ زرقاوی کی موت سے عراقی انتظامیہ اور مزحمت کاروں کے لیے نئے امکانات سامنے آئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے نوری المالکی کی نوزائیدہ حکومت کے لیے زرقاوی کی ہلاکت ایک بڑی کامیابی ہے۔
نوری المالکی اب یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ ملک کو شیعوں او سنیوں کے درمیان خانہ جنگی کے خطرے سے نکال سکتے ہیں۔ زرقاوی پر حملے سے وہ اس بات کا ثبوت تو دے چکے ہیں کہ سکیورٹی کے معاملات میں وہ کتنے سخت گیر ہیں۔ لیکن دوسری طرف مزاحمت کار زرقاوی کی موت کو اپنی سرگرمیوں کو نئی سمت دینے اور زیادہ فعال ہونے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ عام شہریوں پر حملوں کی بجائے صرف سکیورٹی فورسز کو اپنا نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں عراقی عوام کی زیادہ حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں صدام حسین کی گرفتاری سے بہتری کی جو محدود امید پیدا ہوئی تھی وہ عراقیوں کو یاد ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ زرقاوی کی موت سے جو امید پیدا ہوئی ہے اس کی صبح ویسی ہی نہ ہو۔ ادھر افغانستان میں طالبان کے رہنما ملا محمد عمر نے کہا کہ ابو مصعب الزرقاوی کی موت سے افغانستان میں مغرب کے خلاف جاری جدو جہد کمزور نہیں ہوگی۔ ملا عمر کے نام سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں زرقاوی کی موت پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں شہید کہا گیا ہے۔ یہ بیان طالبان کے ترجمان محمد حنیف نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے خبر رساں اداروں کو پہنچایا۔ ملا عمر نے کہا ’ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ اچھی خبر دینا چاہتا ہوں کہ افغانستان اور دیگر اسلامی دنیا میں صلیبی طاقتوں کے خلاف جاری جنگ کمزور نہیں ہوگی۔‘ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کے مطابق جب نوے کی دھائی کے آخر میں زرقاوی نے افغانستان میں تربیتی کیمپ قائم کیا تھا تو وہ ملا عمر کو جانتے تھے۔ | اسی بارے میں ’نئی معلومات کا خزانہ ملا ہے‘09 June, 2006 | آس پاس ابو مصعب الزرقاوی کون تھے؟08 June, 2006 | آس پاس بم حملوں کا خدشہ، بغداد میں کرفیو09 June, 2006 | آس پاس ’الرزقاوی فضائی حملے میں ہلاک‘ 08 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||