انڈیا کی ’گمشدہ بچیاں‘: کیا انڈیا میں پیدائش کے وقت جنسی تناسب بہتر ہو رہا ہے؟

Girls in India

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

کیا انڈیا میں پیدائش کے وقت جنسی عدم توازن یعنی لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کا پیدا ہونا اب معمول پر آنا شروع ہو گیا ہے؟

جی ہاں! امریکہ میں قائم پیو ریسرچ سنٹر کی ایک تحقیق کے مطابق ایسا سکھ برادری کے اندر تبدیلیوں کے باعث ہوا ہے۔ تھنک ٹینک نے تازہ ترین نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخز کیا ہے۔

یہ انڈین حکومت کی طرف سے صحت اور سماجی رویوں سے متعلق سب سے جامع سمجھا جانے والا سروے ہے، جو 2021-2019 کے درمیان کیا گیا تھا۔

اس سروے میں اس بات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی کہ پیدائش کے وقت جنس کا عدم توازن انڈیا کے بڑے مذہبی گروہوں میں کس طرح بدل رہا ہے۔

مطالعے میں کہا گیا کہ پیدائش کے وقت جنسی تناسب ہندوؤں، مسلمانوں اور عیسائیوں میں بہتر ہو رہا ہے لیکن سب سے بڑی تبدیلی سکھوں میں نظر آتی ہے، جو ایسا گروہ ہے جو پہلے سب سے زیادہ صنفی عدم توازن کا شکار تھا۔

تاہم ماہرین ان اعداد و شمار کی تشریح کرتے ہوئے احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ سروے میں انڈیا کے 330 کروڑ گھرانوں میں سے صرف چھ لاکھ تین ہزار کا احاطہ کیا گیا ہے۔

محقق اور کارکن صابو جارج کا کہنا ہے کہ ’اصل تصویر مردم شماری کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی جو پوری آبادی کو شمار کرتی ہے اور زیادہ درست حساب فراہم کرتی ہے۔‘

انڈیا میں میں اکثر گھرانے بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث جنس کے تناسب کا جھکاؤ مردوں کے حق میں رہتا ہے۔

اس کی جڑیں وسیع حد تک ثقافتی عقائد میں بھی نظر ڈھونڈی جا سکتی ہیں جیسے کہ ایک لڑکا خاندانی نام چلائے گا، بڑھاپے میں والدین کی دیکھ بھال کرے گا اور ان کی موت پر آخری رسومات ادا کرے گا - جبکہ بیٹیوں کو جہیز دینا پڑے گا اور وہ بالآخر گھر چھوڑ کر سسرال چلی جائیں گی۔

جب 1970 کی دہائی کے بعد قبل از پیدائش جنسی سکریننگ کی آسان دستیابی ہوئی تو یہ بڑے پیمانے پر پیدائش سے قبل بچیوں کے قتل کا سبب بنا۔

سنہ 1994 میں جنس کے انتخاب کے ٹیسٹ پر حکومتی پابندی عائد کیے جانے کے باوجود، مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بدستور جاری ہے۔

نوبیل انعام یافتہ امرتیا سین نے انڈیا کو ’لاپتہ خواتین کا ملک‘ قرار دیا اور اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ تقریباً چار لاکھ بچیاں یا مجموعی طور پر بچیوں کی پیدائش کا تین فیصد صنفی تعصب پر مبنی جنسی انتخاب کے نتیجے میں ہر سال زندگی حاصل نہیں کر پاتیں۔

Girls participate in a festival in Amritsar in Punjab

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنس کا انتخاب نہ کیا جائے تو پیدا ہونے والی ہر 100 لڑکیوں کے ساتھ قدرتی طور پر 105 مردوں کی پیدائش ہو گی لیکن انڈیا میں خواتین کی پیدائش کی تعداد کئی دہائیوں سے بہت کم ہے۔

سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈیا میں ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے میں 111 لڑکے تھے۔ NFHS-4 کے سروے کے مطابق یہ تعداد قدرے بہتر ہو کر تقریباً 109 ہو گئی اور اب یہ 108 پر ہے۔

پیو کا کہنا ہے کہ نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بیٹوں کی ترجیح کم ہوتی جا رہی ہے اور انڈین خاندانوں میں بیٹیوں کے بجائے بیٹوں کی پیدائش یقینی بنانے کی روش بھی کم ہوتی جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سب سے بڑی تبدیلی سکھوں میں دیکھی گئی ہے، یہ ایک ایسی کمیونٹی ہے جو انڈین آبادی کا دو فیصد سے بھی کم حصہ ہیں۔ انڈیا میں سنہ 2019 سے 2021 کے درمیان لاپتہ ہونے والی کل 90 لاکھ بچیوں میں سے تقریباً پانچ فیصد یا تقریباً 440,000 ان میں سے ہیں۔

انڈیا کے بڑے مذہبی گروہوں میں سے سب سے دولت مند، سکھ انڈیا میں پہلے تھے جنھوں نے پیدائش سے قبل بچیوں کے قتل کے لیے بڑے پیمانے پر جنس کے تعین کے ٹیسٹ کا استعمال کیا۔

سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں کمیونٹی کے اندر شرح پیدائش میں مردوں کا جنسی تناسب 130 پر تھا، یہ اب 110 پر آ گیا ہے جو 108 کی قومی اوسط کے بہت قریب ہے۔

اس رپورٹ کے مطبق ’یہ جنس کے انتخاب کو روکنے کے لیے حکومت کی برسوں کی کوششوں کے بعد ہوا ہے جس میں قبل از پیدائش جنسی شناخت کے ٹیسٹوں پر پابندی اور والدین سے ’لڑکی کو بچانے‘ پر زور دینے والی ایک بڑی تشہیری مہم شامل ہے اور تعلیم اور دولت میں اضافے جیسی وسیع تر سماجی تبدیلیاں بھی اس میں معاون ثابت ہوئیں۔ ‘

محقق اور کارکن صابو جارج کو انڈیا کے جنسی تناسب کے معمول پر آنے کے وعدے پر یقین نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سروے میں ایک نکاتی کمی صرف ایک معمولی بہتری ہے۔ اسے نارملائزیشن کہنا ایک مبالغہ آرائی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ NFHS-5 ڈیٹا ایک ایسے وقت میں جمع کیا گیا جب انڈیا وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کووڈ نے 40 لاکھ افراد کی جان لے لی، صحت کا نظام تباہ ہو گیا تھا اور بہت ساری دیگر صحت کی خدمات، بشمول پیدائش کی خدمات، پورے ملک میں متاثر ہوئیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ڈیٹا اکٹھا کرنا، خاص طور پر انڈیا کے کچھ بڑے علاقوں میں، یا زیادہ آبادی والی ریاستوں میں زیادہ مستند نہیں۔

Indian spectators watch as a float carrying a sign that reads "Congratulations! It's a Baby Girl" passes by during the Indian Republic Day parade in Delhi on January 26, 2015

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں جہاں سکھوں کی اکثریت ہے گذشتہ برسوں کے دوران پیدائش سے قبل قتلِ عام میں کمی آ رہی ہے۔

پنجاب میں مقیم ایک صنفی محقق امیت کمار کا کہنا ہے کہ انھیں تعداد میں کمی کے باوجود حقیقی رویوں میں بہت کم تبدیلی نظر آئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے آج کے بیانیے میں اور 100 سال پہلے کی کتابوں میں پائے جانے والے بیانیے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔

’پدرانہ ڈھانچے کے ایجنٹ بھی وقت کے ساتھ ساتھ تیار ہوتے ہیں، لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ وہی طرز عمل موجود ہیں، وہی رویے موجود ہیں، لیکن ان میں تبدیلی آتی ہے۔ اور کچھ مختلف نظر آتے ہیں۔ یہ نئی بوتل میں پرانی شراب ہے۔‘

مردانگی کے مطالعے میں پی ایچ ڈی کے طالب علم، جنھوں نے دو سال قبل پنجاب کے دیہی علاقوں میں ایک سروے کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ دو سال قبل ان کی ملاقات ایک 28 سالہ دیہاتی سے ہوئی جس نے کہا کہ اگر اس کی بیوی لڑکی کو جنم دیتی تو وہ اپنی بیٹی کو قتل کر دیتا۔

’پنجاب میں، ایک لڑکی کو ایک بوجھ، ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہ بہت عام اور ثقافتی طرز عمل بن گیا ہے کہ لوگ گوردواروں پر جا کر لڑکے کے لیے دعائیں لیے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ لوگوں سے براہ راست سوال پوچھیں تو، وہ ہمیشہ انکار کریں گے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں میں امتیاز کرتے ہیں۔

’لیکن اگر آپ گہرائی سے تحقیق کریں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ بیٹے کی ترجیح بہت زیادہ موجود ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ ایک بیٹا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس نے ان کی موت کے بعد رسومات ادا کرنی ہیں۔‘

کمار کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہورڈنگز اور اشتہارات سامنے آئے ہیں جو لوگوں کو جنس کی شناخت کے غیر قانونی ٹیسٹ کا سہارا لینے کے خلاف متنبہ کرتے ہیں اور اس سے عوام میں کچھ خوف پیدا ہوا ہے۔

’لہٰذا جنس کے تعین کے ٹیسٹ اور اسقاط حمل میں کچھ کمی آئی ہے لیکن یہ بہت کم ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر وہ اسقاط حمل کرنا چاہتے ہیں تو کس کلینک سے رجوع کریں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر آپ سرکاری جرائم کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو 2012 سے ’اسقاط حمل اور بچیوں کو لاوارث چھوڑنے‘ کے واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

کمار کا کہنا ہے کہ ’صرف رویے میں تبدیلی ہی بچیوں کو نظر انداز کرنے سے روک سکتی ہے، لیکن یہ ایک طویل مدتی عمل ہے۔

’رویوں کو بدلنے میں وقت لگتا ہے اور تبدیلی کی رفتار بہت سست ہے.‘