انڈیا: کیا ملک کی بڑھتی آبادی کو کسی خاص مذہب یا فرقے سے جوڑنا جائز ہے؟

یوگی ادتیہ ناتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیوگی ادتیہ ناتھ نے آبادی سے ’متعلق ایسے بین پہلے بھی دیے ہیں

انڈین ریاست اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے آبادی پر قابو پانے کی بات کرتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس سے آبادی میں عدم توازن کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

پیر کو عالمی یوم آبادی کے موقع پر یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ میں ایک پروگرام میں کہا کہ 'جب ہم خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے استحکام کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا ہو گا کہ آبادی پر قابو پانے کا پروگرام کامیابی سے آگے بڑھے لیکن آبادی کا عدم توازن نہیں ہونا چاہیے'۔

'ایسا نہ ہو کہ کسی طبقے کی آبادی میں اضافے کی شرح اور فیصد زیادہ ہو۔ کچھ مقامی لوگوں کی آبادی کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں آگاہی کے نفاذ کے ذریعے آبادی کے توازن کی صورتحال پیدا کرنی چاہیے'۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، 'یہ ہر اس ملک کے لیے تشویشناک ہے جہاں آبادی میں عدم توازن کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ مذہبی ڈیموگرافی کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت بعد وہاں افراتفری اور انتشار پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب آبادی پر قابو پانے کی بات آتی ہے تو ذات پات، مسلک، علاقہ، زبان سے اوپر اٹھ کر معاشرے میں یکساں طور پر بیداری کے ایک جامع پروگرام میں شامل ہونے کی ضرورت ہے'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اتر پردیش لا کمیشن نے اتر پردیش کی شرح آبادی (کنٹرول، استحکام اور بہبود) بل 2021 کا مسودہ پیش کیا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مجوزہ بل میں خاندانی منصوبہ بندی کو دو بچوں تک محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ تاہم بی جے پی حکومت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے۔

یوگی بمقابلہ نقوی کا تبصرہ

اتر پردیش انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ آنے والے برسوں میں اتر پردیش کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کسی مذہب اور ذات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کا مسئلہ ہے۔

نقوی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 'بے تحاشہ آبادی کا بڑھنا کسی مذہب کا نہیں، یہ ملک کا مسئلہ ہے، اسے ذات پات، مذہب سے جوڑنا جائز نہیں'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

مختار عباس نقوی کے اس تبصرہ کو بہت سے لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کی مخالفت میں دیکھ رہے ہیں۔ کمال آر خان، جو اپنے متنازعہ بیانات کے لیے مشہور ہیں اور خود کو فلمی نقاد کہتے ہیں، انہوں نے نقوی کے ٹوئٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا، 'بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے، جناب مختار عباس نقوی اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔آپ کے یہ کہنے سے کچھ نہیں ہونے والا ابھی تو دیکھتے جائیے کہ مسلمانوں پر اور کیا الزام لگایا جائے گا۔ آپ کسی بھی پارٹی میں ہوں، مسلمان تو رہیں گے ہی۔ آپ کے لئے نیک خواہشات ۔'

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے منگل کو ٹوئٹ کیا کہ انتشار آبادی سے نہیں بلکہ جمہوری اقدار کی تباہی سے پیدا ہوتا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے عالمی یوم آبادی پر ٹوئٹ کر کے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

اویسی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا، 'سنگھی عالمی یوم آبادی پر جھوٹی خبریں پھیلائیں گے۔ سچ یہ ہے کہ مودی حکومت میں انڈیا کے نوجوانوں اور بچوں کو تاریک مستقبل کا سامنا ہے۔ انڈیا کے کم از کم آدھے نوجوان بے روزگار ہیں۔ دنیا میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی انڈیا میں ہے۔ یہاں مسئلہ بڑی آبادی کا نہیں ہے۔ ہمیں صحت مند اور ہنر مند نوجوانوں کی آبادی کی فکر کرنی چاہیے اور مودی حکومت اس کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگلے سال انڈیا آبادی کے لحاظ سے چین کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ نومبر 2022 میں دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1950 کے بعد عالمی آبادی سب سے سست رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ 2020 میں ایک فیصد کی کمی آئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2030 تک دنیا کی آبادی 8.5 ارب اور 2050 میں 9.7 ارب ہو جائے گی۔

امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا میں تمام مذہبی گروپوں کی شرح پیدائش میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں 1951 کے بعد سے ملک کی مذہبی آبادی اور ساخت میں صرف تھوڑا سا فرق آیا ہے۔انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد ملک کی کل آبادی کا 94 فیصد ہے، یعنی دونوں مذاہب کے لوگوں کی آبادی تقریباً 120 کروڑ ہے۔

عیسائی، سکھ، بدھ اور جین مذاہب کے پیروکار انڈیا کی آبادی کا 6 فیصد ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر نے یہ مطالعہ مردم شماری اور ہر 10 سال بعد کیے جانے والے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے اعدادو شمار کی بنیاد پر کیا ہے۔ اس تحقیق میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انڈیا کی مذہبی آبادی میں کس قسم کی تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کے پیچھے بنیادی وجوہات کیا ہیں۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمجوزہ بل میں خاندانی منصوبہ بندی کو دو بچوں تک محدود کرنے کی بات کی گئی ہے

مسلمانوں میں شرح پیدائش سب سے زیادہ ہے

انڈیا میں مسلمانوں کی شرح پیدائش اب بھی تمام مذہبی گروہوں سے زیادہ ہے۔ 2015 میں اوسطاً ہر مسلمان عورت کے 2سے6 بچے تھے۔

اس کے ساتھ ہی ہندو خواتین کے بچوں کی اوسط تعداد 2 سے1 تھی۔ سب سے کم شرح پیدائش جین گروپ میں پائی گئی۔ جین خواتین کے بچوں کی اوسط تعداد 1 .2 تھی۔

مطالعہ کے مطابق، یہ رجحان بڑے پیمانے پر وہی ہے جو سال 1992 میں تھا۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی شرح پیدائش سب سے زیادہ (4عشاریہ 4) تھی۔ دوسرے نمبر پر ہندو (3عشاریہ 3) تھے۔

مطالعہ کے مطابق، 'اگرچہ شرح پیدائش کا رجحان یکساں ہے، تمام مذہبی گروہوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے'۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق آبادی کی شرح میں کمی خاص طور پر ان اقلیتی برادریوں میں آئی ہے جو گزشتہ چند دہائیوں سے ہندوؤں سے زیادہ تھیں۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں تمام مذہبی گروپوں کی شرح پیدائش میں نمایاں کمی آئی ہے

پیو ریسرچ سینٹر کی سینئر محقق اور مذہب کی ماہر سٹیفنی کریمر ایک دلچسپ پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

ان کے بقول، ’پچھلے 25 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم خواتین کی شرح پیدائش فی عورت دو بچوں کے قریب ہے‘۔

1990 کی دہائی کے اوائل میں انڈین خواتین میں اوسط شرح پیدائش 3.4 تھی جو 2015 میں کم ہو کر 2.2 ہو گئی۔ اس عرصے کے دوران مسلم خواتین کی شرح پیدائش میں مزید کمی آئی جو 4.4 سے کم ہو کر 2.6 ہو گئی۔

گزشتہ 60 سال میں انڈین مسلمانوں کی تعداد میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ہندوؤں کی آبادی میں تقریباً 4 فیصد کمی آئی ہے۔ دیگر مذہبی گروپوں کی آبادی کی شرح تقریباً ایک جیسی رہی ہے۔