آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کا یوم جمہوریہ تنازعات کا شکار: ’شہدا سے غداری‘ اور گاندھی کی پسندیدہ دھن سے انحراف کی بازگشت
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا میں ’یوم جمہوریہ‘ کی تقریبات ایک مرتبہ پھر تنازعات کا شکار بنتی نظر آ رہی ہیں۔
اس کی ابتدا اگرچہ ریاست مغربی بنگال کی نمائندہ جھانکی (نمائش) کو سالانہ پریڈ میں شامل نہ کرنے کے فیصلے سے ہوئی مگر اب ’بیٹنگ ریٹریٹ‘ میں ’ابائیڈ ود می‘ کی دُھن شامل نہ کرنے کے فیصلے نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کو مزید متنازع کر دیا ہے۔
جبکہ انڈیا گیٹ پر گذشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل روشن ایک مشعل کی یہاں سے منتقلی بھی جاری تنازع کو ہوا دے رہی ہے۔
انڈیا اپنا یوم جمہوریہ ہر سال 26 جنوری کو مناتا ہے کیونکہ تقسیم ہند کے بعد سنہ 1950 میں اِسی دن ملک میں نئے آئین کا نفاذ ہوا تھا جس کے ذریعے انڈیا کو ’جمہوریہ‘ قرار دیا گیا تھا۔
گاندھی کی پسندیدہ ’ابائیڈ ود می‘ کی دھن پر تنازع
22 جنوری کو انڈین حکومت کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی جس میں انڈین بحریہ کے اہلکار یوم جمہوریہ کی ریہرسل پریڈ میں 70 کی دہائی کے دو مشہور بالی وڈ گانوں کی دُھن پر رقص کرتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ دھن ’ونس اپون اے ٹائم‘ کے ایک گانے ’دنیا میں لوگوں کو‘ اور فلم ’کاروان‘ کے گیت ’مونیکا او مائی ڈارلنگ‘ کو ملا کر بنائی گئی ہے۔
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازع بڑھ گیا۔ وزارت دفاع نے ابھی تک سرکاری طور پر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے لیکن قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اتوار کو انڈین میڈیا میں خبریں آئیں کہ مودی سرکار نے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر انڈین گانوں کی دھنیں بجانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کی خبر کے مطابق ’سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ رواں سال صرف انڈین دھنیں شامل کی جائیں گی۔ ’ابائیڈ ود می‘ کی دھنیں نہیں پیش ہوں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی دھنیں شامل ہوں سکیں۔ معروف گیت ’اے میرے وطن کے لوگو‘ ایک انڈین دھن ہے اور یہ دھن ان لوگوں کے اعزاز میں بجائی جائے گی جنھوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔ نو آبادیاتی ماضی کی چیزوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ’ابائیڈ ود می‘ کی دھن سنہ 1950 سے سالانہ بیٹنگ ریٹریٹ تقریب میں بجائی جاتی رہی ہے، لیکن رواں سال 26 گانوں کی فہرست جو آفیشل طور پر ہفتے کے روز جاری کی گئی ہے اس میں اس دھن کا ذکر نہیں ہے۔
یہ مہاتما گاندھی کی پسندیدہ دھن بھی تھی۔
بیٹنگ ریٹریٹ کی تقریب قومی فخر کے طور پر منائی جاتی ہے۔ اس دوران آرمی بینڈ میوزیکل پرفارمنس بھی پیش کرتے ہیں۔ اس میں انڈین اور مغربی دونوں دھنیں شامل تھیں۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس حکومتی اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس کے سینیئر لیڈر اور منموہن سنگھ حکومت میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
پی چدمبرم نے کہا: ’ابائیڈ ود می ایک مسیحی دعا تھی جو 1847 میں لکھی گئی تھی، لیکن اب یہ صرف مسیحی دعا نہیں ہے۔ اب یہ تمام مذاہب سے منسلک ہے۔ یہ دعا 1950 سے بیٹنگ ریٹریٹ تقریب کا حصہ تھی۔ مجھے اور کروڑوں شہریوں کو دکھ ہے کہ یہ دعا جمہوریہ کے 72ویں سال میں چھوڑ دی جائے گی۔ بی جے پی حکومت کی عدم برداشت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کے رویہ اور اشتعال انگیز اقدامات کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘
مہاتما گاندھی کے پڑپوتے گوپال کرشن گاندھی نے اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’یہ دعا کس کی بے عزتی ہے؟ اس سے ذلت کون محسوس کرتا ہے؟ زخم بھرنے والے اس گیت سے کس کو تکلیف ہو سکتی ہے؟ میں یقین نہیں کر سکتا کہ انتظامیہ اس گانے کی خوبصورتی، روحانیت اور انسانی اپیل اور اس دعا کو پسند کرنے والے لوگوں کے لیے اتنی بے حس ہے۔ گاندھی کو یہ گیت بہت پسند تھا۔‘
امر جوان جیوتی (مشعل) کی منتقلی
’امر جوان جیوتی‘ (مشعل) پر ہونے والا تنازع بھی حکومت پر تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ یہ مشعل گذشتہ پانچ دہائیوں سے دلی کے قلب میں واقع انڈیا گیٹ پر مسلسل روشن تھی۔
اس مشعل کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 26 جنوری 1972 کو انڈیا گیٹ پر سنہ 1971 کی جنگ میں مارے جانے والے انڈین فوجیوں کی یاد میں نیشنل وار میموریل کے طور پر شروع کیا تھا۔
یوم جمہوریہ کے موقع پر بی جے پی حکومت نے امر جوان جیوتی کو انڈیا گیٹ سے ہٹا کر اس سے ملحق ’وار میموریل‘ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حزب اختلاف کی پارٹی کانگریس نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا: ’امر جوان جیوتی (مشعل) کو بجھانا ان ہیروز کی ہمت اور قربانی کی توہین ہے جنھوں نے 1971 کی جنگ لڑی۔ بہادری کی اس تاریخ کو مٹانے کی بی جے پی کی سازش کو کوئی بھی محب وطن برداشت نہیں کرے گا۔ مودی حکومت کا شہدا کی توہین کا یہ رویہ انتہائی قابل نفرت ہے۔‘
کانگریس کے علاوہ کئی اپوزیشن لیڈروں نے بھی امر جوان جیوتی تنازع پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راشٹریہ جنتا دل کے ایوان بالا کے ایم پی اور پارٹی کے ترجمان منوج کمار جھا نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا: ’میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ آپ نے ہندوستان کی شاندار تاریخ میں کوئی حصہ نہیں ڈالا ہے، اس کی وجہ سے احساس کمتری ضرور ہوا ہو گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شعلہ 50 سال سے روشن تھا وہ بجھ جائے گا؟‘
بنگال کی جھانکی کی پریڈ میں عدم شمولیت
رواں برس یوم جمہوریہ کی تقریبات پر ہونے والا پہلا تنازع ریاست بنگال کی جھانکی (نمائش) کو پریڈ میں شامل نہ کرنے سے شروع ہوا تھا۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے گئے اپنے دو صفحات کے خط میں اسے ’بنگال کے لوگوں کی توہین اور جدوجہد آزادی میں ان کے کردار سے انکار‘ قرار دیا ہے۔
ان کے علاوہ بی جے پی رہنما اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے نے بھی اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 26 جنوری کی پریڈ میں بنگال کے ٹیبلو (جھانکی) کو کیوں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے اپنے خط میں لکھا: ’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یوم جمہوریہ کی پریڈ میں حصہ لینے والی جھاکیوں کا انتخاب انتہائی شفاف ہے۔
’آرٹ، ثقافت، موسیقی اور رقص کے نامور سکالرز پر مشتمل یہ کمیٹی کئی روز تک ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اس کی سفارش کرتی ہے۔ اس بار 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تجاویز میں سے 12 تجاویز کو منظوری دی گئی ہے۔‘
لیکن ممتا بنرجی نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے لکھا: ’اس فیصلے سے ریاست کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔ جھانکی کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ یا جواز نہیں بتایا گیا ہے۔‘