بٹ کوائن: ایران میں بجلی کا بلیک آؤٹ، کرپٹو کرنسی مائننگ پر پابندی

ایران نے شہروں میں بجلی کے غیر متوقع بریک ڈاؤن کے باعث بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسی کی مائننگ پر چار ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے۔

صدر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس کو بتایا کہ بریک ڈاؤن کی وجہ خشک سالی ہے جس کی وجہ سے پن بجلی کے منصوبوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی مائننگ کا عمل جس میں 85 فیصد غیر قانونی طور پر ہو رہی ہے، روزانہ گرڈ سے دو گیگا واٹ بجلی کھینچ رہا ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی کُل بٹ کوائن مائننگ کا 4.5 فیصد ایران میں ہوتا ہے۔

ایلیپٹک نامی فرم کے مطابق اس سرگرمی سے ملک خود پر عائد اقتصادی پابندیوں کو چکمہ دیتے ہوئے کرپٹو کرنسی کی مد میں کروڑوں ڈالر جمع کر رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں سامان درآمد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب سنہ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ کر لیا تھا، تو اس کے نتیجے میں ایران کے بینکوں کو عالمی مالیاتی نظام سے کاٹ دیا گیا تھا اور اس کی تیل کی برآمد کو نقصان پہنچا تھا۔

بٹ کوائن بلاک چین کے اصول پر کام کرتا ہے جو کہ لین دین کا ایک ڈیجیٹل لیجر یا کھاتہ ہے۔ مائنرز کا کام بٹ کوائن میں لین دین کی پڑتال کرنا ہوتا ہے جس کے بدلے میں اُنھیں بٹ کوائن ملتے ہیں۔ اس میں بے تحاشہ کمپیوٹنگ توانائی لگتی ہے جس کے لیے بہت زیادہ بجلی چاہیے۔

ایلیپٹک کے مطابق ایران حکومت نے کرپٹو کرنسی کی مائننگ کو سنہ 2019 میں قانونی قرار دیا تھا اور اس کے بعد اس نے لائسنسنگ کا طریقہ کار شروع کیا جس کے تحت مائنرز کو اپنی رجسٹریشن کروانی ہوتی ہے، بجلی کی بلند قیمت ادا کرنی ہوتی ہے، اور اپنے مائن کیے گئے بٹ کوائن ایران کے مرکزی بینک کو فروخت کرنے ہوتے ہیں۔

ایران میں بجلی کی قومی تقسیم کار کمپنی نے سنیچر کو کہا کہ لائسنس یافتہ کرپٹو کرنسی مائنرز نے رضاکارانہ طور پر بجلی کی کمی کے باعث اپنی مائننگ بند کر دی ہے۔

صدر روحانی نے بدھ کو کہا تھا کہ غیر لائسنس یافتہ مائنرز چھ سے سات گنا زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں اور اس لیے اُنھیں 22 ستمبر تک تمام کرپٹو کرنسی سرگرمیاں بند کرنی پڑ رہی ہیں۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ توانائی نے حق بجانب طور پر ایرانیوں سے اس غیر متوقع بلیک آؤٹ پر معافی مانگی ہے جس سے گذشتہ ہفتے تہران سمیت کئی شہروں میں گھر اور کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔