انڈین ڈوسا: دنیا بھر میں ڈوسا آخر اتنا مقبول کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میناکشی جے
- عہدہ, بی بی سی کے لیے
اگرچہ جنوبی انڈیا میں ہزاروں سالوں سے ڈوسا بطور ناشتہ کھایا جا رہا ہے لیکن اب اس نے ایک ایسے فاسٹ فوڈ کی شکل اختیار کر لی ہے جو دن یا رات کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔
یہ اتوار کے دن ناشتے کا وقت تھا۔ میں نے پانی کی چند بوندوں کو گرم توے پر چھڑکا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کہیں یہ ٹھنڈا تو نہیں، پرفیکٹ۔ ’میں نے توے کے بیچوں بیچ ڈوسے کا پتلا بیٹر ڈال دیا اور آہستہ سے اسے توے پر پھیلایا، پھر چولہے کی آنچ کو بڑھاتے ہوئے میں نے ایک چمچ گھی ڈوسے کے ارد گرد ڈالا۔ جلد ہی ڈوسا کناروں سے تھوڑا سا اٹھنے لگا جس کے بعد میں نے ڈوسے کو پلٹ کر دوسری طرف سے سینکنا شروع کیا۔
اگرچہ سنہری رنگت کا یہ گول ڈوسا فرانسیسی کریپے یا روسی بلینی کی طرح نظر آتا ہے لیکن یہ جنوبی انڈیا کا ایک باریک پین کیک ہے جو بھگوئے ہوئے چاول کے آٹے اور کالے چنے کے خمیر سے بنایا جاتا ہے۔ یہ 2000 سالہ قدیم ڈش ہے جسے لاکھوں انڈینز بہت پسند کرتے ہیں اور یہ دنیا کے تقریباً ہر حصے میں ملتا ہے۔ چنئی سے پیرس کے 'لا چیپل علاقے تک جسے ’تمل ٹاؤن‘ یا ’مِنی جافنا‘ بھی کہا جاتا ہے۔‘
میں نے احتیاط سے گرم پین کیک کو ایک پلیٹ میں سامبر کے ساتھ رکھا جو ایک مصالحے دار، دال سے بنا پیسٹ ہے اور پھر میں نے ڈوسے کا نوالہ بنا کر اسے سامبر میں ڈبویا اور مزے لے کر کھایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی انڈیا میں اسی طرح لاکھوں لوگ ہر صبح یہ متناسب اور اطمینان بخش ناشتہ کھاتے ہیں، سامبر کے ساتھ اکثر چٹنی کا استعمال بھی ہوتا ہے۔ ڈوسا جسے ڈوسائی بھی کہا جاتا ہے، جنوبی انڈیا کے مختلف علاقوں میں اس کے کئی نام ہیں اور اب یہ دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں مختلف اجزاء اور مصالحے دار آلو جیسی چیزیں شامل کی جاتی ہیں اور زیادہ تر مقامات پر اسے مصالحہ ڈوسا کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روایتی ڈوسائی یا ڈوسا کم از کم دو ہزار سالہ پرانا ہے جس کا قدیم ادب میں ذکر کیا گیا تھا اور نسل در نسل اسے آگے بڑھایا گیا۔ جنوبی انڈیا کی ریاستیں تامل ناڈو اور کرناٹک اس پر اپنا حق جتاتی ہیں۔
کتاب سٹوری آف آور فوڈ میں کھانے کے مؤرخ کے ٹی اچھایا نے کہا ہے کہ شاہ سومیشوارا سوم، جنھوں نے موجودہ ریاست کرناٹک کے کچھ حصوں پر حکمرانی کی تھی، انھوں نے 12 ویں صدی کی سنسکرت ادبی کتاب منسوالاسا میں ڈوسا کا ذکر 'دوساکا' کے طور پر کیا ہے۔ تاہم، ڈوسائی کی پرانی قسم جیسے میل اڈائی (دال اور چاول سے بنی ہوئی پین کیک جو ناریل کے دودھ میں بھیگی ہوئی ہو) بہت پہلے تامل خطے میں کھائے جارہے تھے۔
اپل اور میل اڈائی کا ذکر تیسری اور چوتھی صدی کی دستاویز میں کیا گیا ہے۔
ڈوسا کس کا ہے اس بارے میں کسی بحث و مباحثے کے باوجود، 19ویں صدی میں کھائے جانے والے ڈوسے کے لیے کرناٹک کے اڈوپی خطے کے باورچیوں کو خطاب دیا گیا ہے۔ قدیم دور میں ڈوسائی زیادہ نرم پھولا ہوا ہوتا تھا۔
تاہم بیسویں صدی کے اوائل تک بہت سارے اڈوپی شیف انڈیا کے بڑے شہروں میں ہجرت کرچکے تھے اور اس کے معمولی اور وسیع پیمانے پر دستیاب اجزا کے باعث اسے ایک سستے ناشتے کے طور پر پورے انڈیا میں مصالحہ ڈوسا کے نام سے مقبول بنا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2003 میں چنئی کے سراونا بھون نامی رستوران کی چین نے دبئی سے آغاز کرتے ہوئے مختلف ممالک میں اپنے ریستوران کھول کر ڈوسے کو اگلی سطح تک پہنچایا۔ اور پوری دنیا میں ڈوسے کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انڈین باقاعدگی سے یہ ڈش کھاتے ہیں جن میں امریکہ کی نائب صدر کے عہدے کی موجودہ امیدوار کملا ہیرس بھی شامل ہیں گذشتہ نومبر میں ڈوسا بناتے ہوئے ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
ڈوسا اب انڈیا میں صحت مند خوراک کے رجحان سے بھی جڑ گیا ہے کیونکہ اس کے خمیر کے عمل سے آنے والی پروبائیوٹک خصوصیات کی وجہ سے اسے دیسی انڈین سُپر فوڈ سمجھا جانے لگا ہے۔
چاول، کالے چنے اور میتھی کے بیج کو پیسنے کے بعد بھگو کر اسے ایک برتن میں قدرتی طور پر سات سے آٹھ گھنٹے تک خمیر بنانے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے پیسنے کے بعد کچھ چمچ نمک ملایا جاتا ہے۔
لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا اور خمیر کے عمل کی وجہ سے آخری خمیر شدہ ملغوبے میں ضروری امینو ایسڈ کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ مائکروبیولوجسٹ ڈاکٹر نوانیتھا ٹی نے وضاحت کی کہ اس سے اینٹی غذائی اجزا (جیسے فائٹیک ایسڈ) کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس طرح یہ ایک انتہائی غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔
دلی میں فلاح و بہبود کی مشیر ڈاکٹر سری لکشمی کا کہنا ہے کہ قدیم آیوروید ٹیکسٹ میں آیور وید کے ماہرین بھی 'ڈوسا اور اڈلیکو 'جو کہ چاول کے آٹے سے بنی ہوتی ہے اور اسے سٹیم کیا جاتا ہے، پٹھوں کو مضبوط بنانے، قبض یا کمزوری دور کرنے کی بہترین خوراک بتاتے ہیں۔
ڈاکٹر سری لکشمی کا کہنا ہے ’اگرچہ زیادہ تر انڈینز کے لیے ڈوسائی ایک ناشتہ یا کھانا ہے جو اب ایک فاسٹ فوڈ آئٹم بنتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت کھایا جاتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی اس کے اجزا اور اسے بنانے کی آسانی کی وجہ سے ڈوسا کے ریستوران اب ملک کے ہر کونے کے ساتھ ساتھ ملک سے باہر بھی پائے جاتے ہیں اور ڈوسے کی مختلف اقسام موجود ہیں جن کے اندر آلو کے علاوہ ہر طرح کی سبزیوں اور گوشت تک کا استعمال کیا جانے لگا ہے۔‘
مثال کے طور پر تامل ناڈو میں، جب خمیر شدہ ملغوبے میں بہت زیادہ ملغوبے پیدا ہو جاتا ہے یا بیٹر کھٹا ہو جاتا ہے تو اس سے اتپم بنا لیا جاتا ہے جو ایک پیزے کی شکل کا ہوتا ہے جس پر سبزیوں کی ٹاپِنگ استعمال کر سکتے ہیں۔
جبکہ اتپم میں کالے چنے کی بجائے ناریل کا دودھ استعمال ہوتا ہے۔ ڈوسے میں ہر وقت نئی قسمیں تخلیق کی جارہی ہیں۔ انڈیا میں چینی کھانوں کے زیرِ اثر شیچوان ڈوسا سے لے کر، شمالی انڈیا سے متاثر ہو کر پنیر مکھن مصالحہ ڈوسہ تک موجود ہے، یہاں تک کہ میکڈونلڈ نے دسمبر 2019 میں 'میک ڈوسا مسالہ برگر' بھی متعارف کروایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
31سالہ رتیش بھٹڈ اور 33 سالہ یوگیش بھٹڈ دونوں بھائی ہیں۔ ان بھائیوں کی یہ دوسری نسل ہے جو ڈوسے سے مختلف اقسام بنا کر کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔ رتیش کا کہنا ہے کہ 'ہم کسی بھی وقت میں تقریباً 70 اقسام کے ڈوسے بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پنیر، پیاز اور مونگ پھلی کی چٹنی والا ان کا مخصوص ڈوسا بہت مقبول ہے اور ہر مہینے تقریباً پانچ ہزار ڈوسے آسانی سے فرخت ہوجاتے ہیں۔ حیدرآباد میں ان کے ریستوران طلبا اور دفتر جانے والے لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔
جنوبی انڈیا میں مصالحہ ڈوسا ایک ناشتے یا فاسٹ فوڈ کے علاوہ مقدس کھانا بھی سمجھا جاتا ہے اور اس سے ’بھگوان کا بھوگ لگایا جاتا ہے اور اسے پکانے کے روایتی طریقوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔‘
ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے دوران مصالحہ ڈوسا کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے. مارچ کے آخری ہفتے میں لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے انڈین فوڈ ڈلیوری کمپنی سوگی کے ذریعہ تین لاکھ 31 ہزار 423 مصالحہ ڈوسا ڈلیور ہوئے تھے۔
چاہے وہ کسی مندر میں ہو، سڑکوں پر یا گھر میں، ڈوسا کی بہت سی مختلف قسمیں ہیں اور یہ کھانا انڈین ثقافت میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔
میرے گھر میں ڈوسا صرف ایک اور ڈش نہیں، یہ ایسے جذبات کی طرح ہے جنھیں بیان نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔









