دلی انتخابات: ’دلی کی سڑکوں پر انڈیا اور پاکستان کا مقابلہ ہوگا‘ کی ٹویٹ پر الیکشن کمیشن حرکت میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا کے الیکشن کمیشن نے ٹوئٹر سے درخواست کی ہے کہ وہ دلی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کے ایک امیدوار کی اس ٹویٹ پیغام کو ہٹا دے جس میں انھوں نے ریاستی انتخابات کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان مقابلہ قرار دیا تھا۔
جمعرات کو دلی کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے بی جے پی کے امیدوار کپل مشرا نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’آٹھ فروری کو دلی کی سڑکوں پر انڈیا اور پاکستان کا مقابلہ ہوگا۔‘
مشرا کی اس ٹویٹ میں انڈیا سے مراد بی جے پی اور پاکستان سے مراد دلی کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی لی جا رہی ہے اور یہ بحث ہو رہی ہے کہ اس ٹویٹ میں اشارہ تھا کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما مسلمانوں کے حامی ہیں۔
انڈیا کے الیکشن کمیشن نے ٹوئٹر سے کپل مشرا کی ٹویٹ ہٹانے کی درخواست اس وقت کی جب دلی کے انتخابی افسر نے اس سلسلے میں کمیشن سے رجوع کیا۔ الیکشن کمیشن نے مشرا کو ایک شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت کیوں نہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے؟
مشرا نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے مقام ’شاہین باغ میں پاکستان داخل ہو چکا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ٹویٹ میں دلی میں کئی مقامات پر مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے پوسٹ کیا تھا کہ ’دلی میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے پاکستان بنائے جا رہے ہیں۔‘
کپل مشرا نے کمیشن کو اپنے چار صفحے کے جواب میں لکھا ہے کہ ’دلی کے شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہزاروں لوگ ملک مخالف اور باغی نعرے لگا رہے ہیں اور عام آدمی پارٹی کے رہنما ان کی حمایت کر رہے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کے حمایت یافتہ باغی گروہوں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔‘
دلی میں اسمبلی انتخابات آٹھ فروری کو ہوں گے۔ مختلف جائزوں اور سروے میں ان انتخابات میں دلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی کی برتری کی بات کہی جا رہی ہے۔
بی جے پی نے اروند کیجریوال کی پارٹی کو شکست دینے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلا رکھی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے بی جے پی کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اروند کیجریوال پاکستان کی زبان میں بات کرتے ہیں‘۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کیجریوال کو دارالحکومت کے بیشتر شہریوں بالخصوص غریب طبقوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ بی جے پی عام آدمی پارٹی کی حمایت توڑنے کے لیے قوم پرستی اور ہندوتوا کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عموماً جارحانہ رخ اختیار کرنے والے کیجریوال نے ان دنوں انکساری کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ کیجریوال اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے جے این یو میں طلبہ پر حملے کے واقعات اور شاہین باغ کے احتجاج جیسے معاملوں سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے۔
بی جے پی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ کسی طرح انھیں شہریت کے قانون کی مخالفت یا کسی دوسرے سیاسی تنازعے میں پھنسایا جا سکے مگر عام آدمی پارٹی رائے دہندگان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے صرف اپنی کارکردگی کی بات کر رہی ہے۔














