اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | جامعہ حفصہ کی طالبات نے انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد دو پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا تھا |
اسلام آباد پولیس نے تین خواتین کو یرغمال بنانے اور دو پولیس اہلکاروں کو سرکاری گاڑیوں سمیت حراست میں رکھنے کے الزام میں جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے خلاف دو مقدمات درج کرلیے ہیں۔ درایں اثنا جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ یرغمال بنائی گئی خاتون شمیم اختر سہ پہر چار بجے ایک پریس کانفرنس میں توبہ کریں گی اور اپنے جرم کا اقرارِ کریں گی۔ دوسری طرف یرغمال بنائی گئی خاتون کے بیٹے نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مدرسے کی انتظامیہ دھونس دھاندلی کے ذریعے ان کی والدہ سے کوئی اقبالی بیان دلانے کی کوشش کرے گی۔ تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی افسر کے مطابق جامعہ حفصہ کے پرنسپل مولانا عبدالعزیز اور نائب پرنسپل مولانا عبدالرشید غازی سمیت اسی کے قریب نامعلوم طلبا اور طالبات کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ایک مقدمہ پولیس انسپکٹر کی جانب سے دو پولیس اہلکاروں اور پولیس موبائلز کو پکڑنے اور حراست میں رکھنے اور سرکاری کام میں مداخلت کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ جبکہ ایک اور مقدمہ مغوی خاتون شمیم اختر کے بیٹے کی درخواست پر گھر میں لوٹ مار کرنے، زبردستی گھر میں گھسنے اور ان کی والدہ، بہن اور بیوی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک طرف اسلام آباد انتطامیہ نے بے بسی ظاہر کرتے ہوئے پسپائی اختیار کی اور اپنے دو پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے مدرسے کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا جبکہ دوسری طرف تین خواتین کو تاحال ان کی حراست سے نہیں چھڑایا گیا۔ |