http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 15 April, 2005, 16:48 GMT 21:48 PST

اسد اللہ
کراچی

پاکستان میں مذہبی آزادی کا مطالبہ

عیسائیوں کے پروٹیسٹنٹ فرقے کی ایک انجمن نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ عیسائیوں کو اسرائیل سفر کرنے کی اجازت دی جائے تا کہ وہ اپنے عقیدے کی مناسبت سے یروشلم میں مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کر سکیں۔

گاڈز پیپلز فیلوشپ آف پاکستان کے ڈائریکٹر پادری بوئز فلپس نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ عیسائیوں کا حج نہ تو اٹلی میں ہوتا ہے نہ ہی سیالکوٹ میں کیونکہ انجیلِ مقدس کے مطابق انھیں دعا کے وقت اپنا رخ یروشلم کی طرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انھوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جب وہ ہندوستان کو تسلیم کر سکتی ہے تو اہلِ کتاب اسرائیل کو تسلیم کرنےمیں کیا حرج ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ عیسائیوں کے اس دیرینہ مطالبہ کے حوالے سےان کی حکومت سے بات چیت ہوتی رہتی ہے اور ان کے خیال میں صدر مشرف اس سلسلے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں مگر مجلسِ عمل کے احتجاج کے باعث اس مسئلہ پر کوئی پیش رفت نھیں ہوسکی ہے۔

دی یونائیٹڈ پریسبیٹیرین چرچ آف پاکستان کے صوبائی موڈریٹر پادری فلپس کے خیال میں پاکستان کو امریکی دباؤ میں آ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بجائے اس ضمن میں خود ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے لیکن کم از کم پاکستانی عیسائیوں کو ہیکلِ سلیمانی یسوع مسیح کی جائے پیدائش اور ان کی قبر کی زیارت کی غرض سے اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ پر درج ہدایات کے مطابق یہ سفری دستاویز ہر ملک کے سفر کے لئے کارآمد ہے سوائے اسرائیل کے۔

فادر فلپس کاکہناہے کہ عیسائیوں کا کسی بین ا لاقوامی جھگڑے میں کوئی کردار نہیں ہے لہذا ان کی مذہبی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہئیے۔