|
نصابی کتب کا تنازعہ پھرگرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جماعت اسلامی نے درسی کتب میں تصحیح کے لیے حکومتی کمیٹی اور اصلاحات کو مسترد کر دیا ہے جس سے نصابی کتب میں تبدیلی کا تنازعہ ایک بار شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ پاکستان کا جو نصاب تعلیم بنایا گیا ہے وہ اسے پڑھنے (ذریعہ تعلیم ماننے ) سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کی درستگی کے لیے جدو جہد کریں گے۔ یہ بات انہوں نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی کے عہدے کے پانچویں بار حلف اٹھانے کی تقریب میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوۓ کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک پالیسی کے تحت تمام مسلمان ممالک کا تعلیمی نصاب تبدیل کرنا چاہتا ہے اور بقول ان کے پاکستان میں نصاب کی تبدیلی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ قبل ازیں ایم ایم اے کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور جماعت اسلامی پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کی تصحیح کے لیے پارلیمان میں ایک پندرہ رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اس میں ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندگان کو بھی شامل کیا جائے گا لیکن پھر حکومت نے پیپلز پارٹی کےصرف ایک نمائندے کو شامل کرکے باقی سرکاری اراکین پر مشتمل کمیٹی بنا دی جو کہ وعدہ خلافی ہے۔ لیاقت بلوچ نے اس سرکاری کمیٹی اور اس کمیٹی کے ذریعے کی جانے والی تصحیح کو مسترد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ نصاب کی بحالی تک ان کی جدو جہد جاری رہے گی۔ دریں اثناء نوجوانوں کی ایک تنظیم شباب ملی کے تین درجن سے زائد کارکنوں نے اس سلسلہ میں پریس کلب لاہور کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ حکومت نے نصاب تعلیم پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی تنقید کے بعد اس میں کئے جانے والے متنازعہ ردوبدل کی تصحیح کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ کے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی نے درسی کتب کی تقسیم روک دی تھی اور پہلے سے تقسیم شدہ کتب میں اضافے کے لیے ایک تصحیح نامہ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق ان کے اس اعلان سے قبل ہی اسی فی صد سے زائد کتب تقیسم ہو چکی تھیں۔اب تمام طلبہ تک یہ تصحیح نامہ پہنچانا ایک مشکل کام ہے ۔اب اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت نے اس تصیح نامہ کو ہی مسترد کرکے ایک بار پھر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ۔ پاکستان کے تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب تعلیم میں اس تنازعہ کا طلبہ پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ سندھ میں بڑی تعداد میں طلبہ تک نصابی کتب ہی نہیں پہنچیں جبکہ پنجاب میں بھی مختلف علاقوں میں سرکاری درسی کتب کی عدم دستیابی کی شکایت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||