پاکستان میں سیلاب: ’زمین کا خشک ٹکڑا ہوتا تو شاید بہنوئی کی جان بچ جاتی‘

راجن پور

،تصویر کا ذریعہALI KAZMI

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’اگر بستی میں زمین کا کوئی ٹکڑا خشک مل جاتا تو گڑھا کھود کر اس میں بہنوئی غلام یاسین کو رکھ دیتے۔ شاید اس کی جان بچ جاتی مگر افسوس کہ ہمیں زمین کا ایک خشک ٹکڑا بھی نہ مل سکا۔‘

یہ کہنا ہے پنجاب کے ضلع راجن پور کے علاقے کوٹ مٹھن کے رہائشی جام فیض اللہ کا جن کے بہنوئی غلام یاسین کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے متعلق دعوی کیا گیا کہ ان کی میت سیلانی پانی میں سے لے جائی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس وڈیو کے بارے میں دعوے سو فیصد حقیقت نہیں لیکن اس کی حقیقت پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ غلام یاسین کون تھے اور ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔

جام فیض اللہ بتاتے ہیں کہ ضلع راجن پور کی بستی کلر قصبہ کے رہائش غلام یاسین ایک سے آٹھ سال کی عمر کے چار بچوں کے والد تھے جو کرائے کی موٹر سائیکل پر ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک لوگوں کو پہنچانے کا کام کرتے تھے۔

جام فیض اللہ بتاتے ہیں کہ غلام یاسین اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ کچھ عرصہ قبل انتقال کر گئی تھیں جبکہ ان کے والد انتہائی بیمار ہیں۔

’غلام یاسین ہی اپنے والد کا خیال رکھتے تھے۔ جب سے ان کے والد کو اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کا علم ہوا ہے، ان کی طبعیت پہلے سے زیادہ بگڑ چکی ہے۔‘

غلام یاسین کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جام فیض اللہ کہتے ہیں کہ یہ ایک دو دن پہلے کا واقعہ ہے۔

غلام یاسین کی پوری بستی میں سیلابی پانی آیا تو وہ گھر سے اپنا گھریلو سامان منتقل کرنے اور اس کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

’اس موقع پر ان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ سامان کو چھوڑیں اپنی جان بچاتے ہیں تو غلام یاسین کا کہنا تھا کہ دوبارہ یہ سامان خریدنے کی سکت نہیں ہے۔‘

اسی دوران غلام یاسین نے پنکھے کو اٹھایا تو اس میں دوڑتے کرنٹ کے باعث وہ اس سے چپک کر رہ گئے۔

گھر والوں کے شور پر علاقے کے لوگوں نے کسی نہ کسی طرح غلام یاسین کو پنکھے سے الگ کیا لیکن تب تک وہ تڑپ رہے تھے۔

جام فیض اللہ کا کہنا تھا کہ سارے گاؤں میں جگہ جگہ پانی کی موجودگی کی وجہ سے غلام یاسین کو طبی امداد فراہم کرنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ علاقے کے لوگوں نے ایک ڈاکٹر کو فون کیا جس کا بتایا ہوا حل ناممکن ہو چکا تھا۔

خشک گڑھے کی دستیابی

جام فیض اللہ کہتے ہیں کہ غلام یاسین بے ہوش تھے۔

’ڈاکٹر نے کہا کہ ایک گڑھا کھود کر اس میں غلام یاسین کو رکھ دیا جائے تو کرنٹ کا اثر زائل ہو جائے گا اور وہ ہوش میں آ جائیں گے لیکن گاؤں میں ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں پانی کھڑا نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے لوگوں نے غلام یاسین کو چارپائی پر ڈالا اور طبی امداد کی تلاش میں نکل پڑے۔

راجن پور

،تصویر کا ذریعہALI KAZMI

یہ بھی پڑھیے

یہ افراد سیلابی پانی میں تقریبا تین کلو میٹر تک چلتے رہے اور اسی وقت کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریبا تین کلو میٹر کے بعد ریسیکو اہلکار ملے جنھوں نے غلام یاسین کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی موت ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا۔

اب ایک اور مسئلہ درپیش تھا کہ غلام یاسین کو کہاں دفن کیا جائے۔

جام فیض اللہ کہتے ہیں کہ ’غلام یاسین کی بستی میں تو پانی ہی پانی تھا۔ وہاں پر تو جنازہ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔‘

قریب کی بستی کے لوگوں کے تعاون سے وہاں جنازہ کروایا گیا اور میت کو ان کے ہی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

راجن پور

،تصویر کا ذریعہALI KAZMI

ان کا کہنا تھا کہ ’اب سارے بستی والے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ کوئی اور موت نہ ہو کیوں کہ ایک تدفین کے انتظامات میں بھی انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

کوٹ مٹھن کی بستی میں پیش آنے والا یہ کوئی واحد واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات کی کچھ اور ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار علی کاظمی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایسے ہی ایک واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

علی کاظمی بتاتے ہیں کہ وہ سیلاب پر رپورٹنگ کے لیے راجن پور میں موجود تھے۔

جب وہ راجن پور شہر سے کچھ مسافت پر واقع گاؤن ببلی کے لیے روانہ ہوئے تو سیلاب والے علاقے میں ان کی گاڑی پھنس گئی تھی جس کو مقامی لوگوں نے دھکا دے کر نکالا۔

علی کاظمی بتاتے ہیں کہ اس گاؤں میں ایک ادھیڑ عمر خاتون کی موت ہوئی تو اہلیان علاقہ نے ایک قریبی ٹیلے پر خاتون کی تدفیق کی کیونکہ گاؤں میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔