آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس ایک ’غلطی‘: سب کا اپنا اپنا موقف، پورا سچ کیسے معلوم ہوگا؟
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد
آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے ہاتھ میں تسبیح لیے، ٹراؤزر شرٹ میں عمران خان بہت ریلیکس اور خوش باش دکھائی دے رہے تھے۔
پیر کی دوپہر ایک بجے کے قریب بنی گالہ کے گیٹ نمبر ایک پر گارڈز کے پاس چند صحافیوں کے ناموں کے فہرست تھی جنھیں عمران خان سے ملنے کی خصوصی اجازت دی گئی۔
ان صحافیوں میں شامل فہیم اختر نے مجھے بتایا کہ `رات کو ملاقات کا پیغام ملا اور یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ عمران خان ہشاش بشاش اور اچھے موڈ میں تھے۔‘
عمران خان نے صحافیوں کو کہا کہ `ہم چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس فائل کریں گے۔ ان کے پاس وقت تھا وہ حلقہ بندیاں کر سکتے تھے لیکن انھوں نے نہیں کیں اور ان کی وجہ سے سپریم کورٹ کے سامنے معاملات خراب ہوئے۔‘
لیکن ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس نشست میں عمران خان سے ایک سوال اس ریفرنس کے بارے میں بھی کیا گیا جو انھوں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔
صحافی فہیم اختر کے مطابق `ملاقات کرنے والے صحافیوں میں سے ایک نے پوچھا آپ کی وکیلوں سے ملاقات ہوئی تھی اور آپ نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ایک غلطی تھی۔‘
جواب میں عمران خان نے کہا `بالکل یہ بات کی ہے ہمیں غیر ضروری طور پر عدالتی امور پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ سال سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی اکثریت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے اور ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل قانون و آئین کے خلاف تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیس کا تعلق جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے اثاثہ جات سے ہے تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی عیسیٰ اور اہلخانہ کا ٹیکس ریکارڈ حکام نے غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا۔
سابق وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے صحافیوں میں ایک اور صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ `اس وقت کی وزارت قانون نے ہمیں کہا تھا کہ یہ ریفرینس لایا تھا میں اس حق میں نہیں تھا یہ ہماری غلطی تھی ریفرینس حکومت نہیں لاتی۔ ہم نے اس وقت بھی بہت بات چیت کی وزیر قانون چاہتے تھے کہ یہ لایا جائے۔‘ تو کیا عمران خان کی جانب سے تسلیم کی جانے والی یہ پہلی غلطی ہے؟ جی ہاں ایسا ہی ہے۔
ذرا پیچھے چلتے ہیں اس ملاقات کی جانب جس کا حوالہ صحافیوں نے اپنے سوال میں دیا۔
نو تاریخ کو شب گیارہ بج کر اٹھاون منٹ پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ تحریک کامیاب ہوئی، حکومت ختم ہوئی اور نتیجتاً عمران خان کو گھر جانا پڑا۔
اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو بنی گالہ میں انصاف لائرز فورم میں شامل وکلا عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالہ آئے۔ سہ پہر چار سے پانچ بجے کے درمیان یہ ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات میں شامل ایک سینئیر وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حالات میں لائرز وونگ کی ضرورت تھی اور عمران خان نے بلایا، ہم آئے تو جہاں اور بہت باتیں ہوئیں وہاں یہ بھی نکتہ زیر بحث آیا کہ کیا غلطیاں ہوئیں؟
لائرز فورم میں شامل وکیل نے بتایا کہ `ہمارے فورم کے سابق صدر عمیر نیازی نے کہا کہ جو قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجا یہ نہیں بھیجنا چاہیے تھا، یہ غلط کیا گیا ۔ عمران خان نے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھے تو نہیں پتہ تھا کہ یہ کیا کرنے جا رہے۔‘
لائرز فورم کے وکلا کا شکوہ ہے کہ پونے چار سال میں بس ایک مرتبہ ہی فورم کے تین چار سینئر ساتھی عمران خان تک رسائی حاصل کر پائے، ہم سے ریفرنس کے بارے میں نہ مشورہ لیا گیا تھا نہ ہی ہم میں سے کسی کو فروغ نسیم نے اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا ہم تو یہی سمجھتے کہ عمران خان اس سے آگاہ ہیں اور وہ فیصلے کر رہے ہیں۔‘
`پارٹی بڑے فرنٹ پر لڑ رہی تھی ایک سینئیر جج کے ساتھ کنفرنٹیشن (محاذ آرائی) کرنا ٹھیک نہیں تھا۔ فروغ نسیم نے پارٹی کو عدالتوں کے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔۔۔ پارٹی کو نقصان پہنچایا۔‘
عمران خان نے تو غلطی تسلیم کی لیکن سابق وزیر قانون جنھوں نے کئی مقدمات میں اپنا استعفیٰ دے کر بھی بہت محاذوں پر حکومت کی معاونت کی کا بیان اس سے بالکل مختلف ہے۔
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ کے حلاف ریفرنس دائر کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے اصرار کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ براہ راست عمران خان کے ماتحت تھا اور انھوں نے اس کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے پر اصرار کیا۔
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس پر ردعمل میں ٹویٹ کی اور کہا کہ ` بطور لا منسٹر آپ کو ذمہ داری لینی چاہیے، حقیقت یہ ہے کہ تمام معاملہ آپ نے کھڑا کیا میں نے کابینہ میں کہا ججز کیخلاف ریفرینس بھیجنا حکومت کا کام نہیں اگر الزامات کے ثبوت ہیں تو بار ایسوسی ریفرنس کر لے لیکن آپ کی اصرار پر ریفرینس بھیجا گیا۔‘
ٹوئٹر پر فواد چوہدری اور فروغ نسیم کی ان باتوں پر یوں سمجھیے ایک بھوچال کی کیفیت ہے۔ صارفین فواد چوہدری کی پرانی ٹوئٹس نکال نکال کر ان کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں اور ان سے سوال کر رہے ہیں کہ اگر آپ اس کے خلاف تھے تو فلاں ٹویٹ کیوں کی پریس کانفرنس کیوں کی؟
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مئی 2019 میں حکومت نے ریفرنس دائر کیا۔
بی بی سی نے سابق وزرا فواد چوہدری اور فروغ نسیم کے بیانات کے حوالے سے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان دونوں وزرا سمیت کسی نے بھی جواب نہیں دیا جبکہ دیگر کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ جو فواد چوہدری نے بتایا دیا ہے اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
کابینہ کے سابق رکن ندیم افضل چن سے پوچھا کہ دونوں وزار بالکل الگ بات کر رہے ہیں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے تو ان کا مختصراً جواب تھا ` دیکھیں اس روز کابینہ اجلاس میں ہوا کیا اس کی مکمل تفصیل تو میں نہیں بتا سکتا تاہم دونوں وزرا آدھا آدھا سچ بتا رہے ہیں۔ پورا سچ کیا ہے مناسب ہو گا کہ وہ خود بتائیں۔‘
انھوں نے اس حوالے سے ٹویٹ بھی کی۔
`بشیر ہمت کرو‘
اگرچہ فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ریفرنس دائر کرنا وزیراعظم کا اصرار تھا تاہم سابق ایف آئی اے ڈائریکٹر بشیر میمن کا دعویٰ ہے کہ انھیں وزیراعظم نے اپنے دفتر میں بلوایا تھا اور وزیراعظم اور وزیر قانون فروغ نسیم دونوں یہی چاہتے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرانس دائر کریں۔
انھوں نے بتایا کہ شہزاد اکبر اور اعظم خان نے مجھے کہا کہ کیس بنانا ہے لیکن وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ کیس سپریم کورٹ کے کسی جج کے حلاف بنانا ہے۔
`وزیراعظم نے قاضی فائز عیسیٰ کا نام لیے بغیر مجھے کہا کہ کہا کہ آپ ہمت کرو آپ کر سکتے ہو آپ بہت اچھے آفیسر ہو مجھےہ معلوم ہے آپ جو کام کرتے ہیں وہ قانونی طور پر بہت اچھا ہوتا ہے اور بہت مضبوط کیسز بنتے ہیں، پھر شہزاد اکبر کے کمرے میں لے کر گئے اور بتایا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیس کرنا ہے میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر وہ مجھے سمجھانے کے لیے تینوں فروغ نسیم کے کمرے میں گئے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ میں نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کا جج ہے یہ سپریم جوڈیشل کا کام ہے ہمارا دائرہ کار نہیں ہے یہ۔ لیکن فروغ نسیم اس پر کنوینس تھے۔‘
`اس میں کوئی شک نہیں کہ کاغذات اے آئی یو نے دیے تھے اور انھیں ایف بی آر کے ڈائریکٹر نے دیے تھے۔‘
بشیر میمن کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ مجھے اس پر جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے، میں نے انکار کیا اور چلا گیا۔
بشیر میمن کہتے ہیں کہ `مجھے کہا گیا منی لانڈرنگ کا کیس کریں آپ کر سکتے ہیں لیکن میرا موقف تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کہہ سکتی ہے اگر وہ کہے تو ہم کر سکتے ہیں۔‘
بشیر میمن کہتے ہیں کہ میں نے اسے کرنے سے انکار کیا تاہم ایف بی آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشفاق کو لگتا تھا کہ یہ ہو سکتا ہے لیکن میرے انکار کے بعد اس دن کے بعد مجھے وزیراعظم کے دفتر سے دوبارہ بلوایا نہیں گیا۔
بشیر میمن یہ بھی کہتے ہیں کہ کافی وقت گزرنے کے بعد بھی ایک بار ’شہزاد اکبر نے مجھ سے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے خاندان کی سفری تفصیلات دیں تو میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ابھی تک آپ لوگوں نے جان نہیں چھوڑی کیا کر رہے ہو مت کرو۔‘
اگرچہ فروغ نسیم بشیر میمن سے ہونے والی اس ملاقات کی تردید کرتے ہیں تاہم بشیر میمن کہتے ہیں کہ اگر کوئی چاہتا ہے تو اس پر اوپن انکوائری کروا سکتا ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں جھوٹ کہہ رہا ہوں یا سچ۔
قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کے بارے میں ایک اہم دستاویز سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ عدالت نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور پھر نو ماہ دو دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے (سابق) چیئرمین بیرسٹر شہزاد اکبر اور وزیرِ قانون فروغ نسیم کی غیر قانونی ہدایات پر ٹیکس حکام نے سرینا عیسیٰ کے مقدمے میں ٹیکس سے متعلق رازداری کے حق کو بھی واشگاف طور پر پامال کیا ہے۔ اضافی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم سرینا عیسیٰ کے خلاف مقدمے میں ٹیکس سے متعلق رازداری کے قانون کو توڑنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔
وزیر قانون اور چیئرمین اے آر یو کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس یحیٰ آفریدی نے لکھا کہ اس عدالت کی جانب سے ان افراد کے اقدامات کو متفقہ طور پر غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیے جانے کے باوجود ان کو عہدے پر برقرار رکھنا متحرم وزیر اعظم کے ان خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کو واضح کرتا ہے۔