گوادر میں چینی قافلے پر خودکش حملہ: چین کا پاکستان سے اپنے شہریوں کی سکیورٹی بڑھانے، حملے کی مکمل تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان میں چینی سفارتخانے نے گوادر بے ایکسپریس وے پروجیکٹ پر چینی قافلے پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے اور حملے کی مکمل تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ روز بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک خود کش حملے میں کم از کم دو بچے ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے اس دھماکے میں چینی انجینیئروں اور کارکنوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا جس میں ایک چینی شہری زخمی ہوا۔
چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد انھوں نے فوری طور پر ہنگامی پلان نافذ کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ زخمیوں کا مناسب علاج کرنے کے ساتھ ساتھ حملے کی مکمل تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزائیں دے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ’پاکستان میں تمام متعلقہ محکموں سے چینی شہریوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات میں تیزی اور سکیورٹی کے معاملے میں شراکت داری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔‘
دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین اپنے ممالک کے عوام کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں اور دونوں ممالک اس باہمی تعاون کو لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
ٹوئٹر پر اس خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دھماکہ گوادر کے کس علاقے میں ہوا؟
گوادر میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ نگوری وارڈ کے علاقے میں زیر تعمیر ایکسپریس وے پر ہوا۔ گوادر کے مشرقی ساحل پر یہ روڈ گذشتہ تین سال سے زیرتعمیر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت داخلہ پاکستان کی ایک پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کی شام تین گاڑیوں میں چینی شہریوں کو فوج اور پولیس کی نگرانی میں لے جایا جارہا تھا۔
جب چینی شہریوں کا قافلہ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر ماہی گیروں کی کالونی کے قریب پہنچا تو وہاں سے ایک نوجوان لڑکا نکلااور چینی شہریوں کی گاڑیوں کو ہدف بنانے کے لیے بھاگا۔
اس موقع پر سادہ کپڑوں میں ملبوس فوج کے اہلکار حملہ آور کو روکنے کے لیے بڑھے تو حملہ آور نے اپنے آپ کو قافلے سے 15سے 20 میٹر کے فاصلے پر اڑا دیا۔
محکمہ داخلہ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری زخمی ہوا۔ انھیں گوادر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
چین کا حملے کی مکمل تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ
پاکستان میں چینی سفارتخانے نے گوادر بے ایکسپریس وے پروجیکٹ پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دونوں ممالک کے زخمیوں کے ساتھ ہمدردی اور پاکستان میں بے گناہ متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
سفارت خانے کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہوئی ہے۔ پے در پے کئی دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں کئی چینی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
چینی سفارت خانے نے پاکستان میں موجود چینی شہریوں کو چوکنا رہنے، حفاظتی تدابیر کو بہتر بنانے، غیر ضروری طور پر کم سے کم باہر جانے اور موثر حفاظتی اقدامات کرنے کی ایک بار پھر سے یاد دہانی کروائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAsim Abbasi
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ان خطرات کے پیش نظر حکومت پاکستان پہلے چینی بھائیوں کے تحفظ کے اقدامات پر جامع نظرثانی کررہی ہے اور ترقی کے سفر میں پاکستان میں قیام کے دوران ان کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت چینی بھائیوں کو ان خطرات سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بیان میں معصوم پاکستانی بچوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے دونوں ممالک اپنی دوستی اور تعاون کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اکھٹے کھڑے ہیں۔
اس دھماکے کے حوالے سے جائے وقوعہ کی جو تصاویر سوشل میڈیا آئیں اس میں انسانی اعضا بکھرے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
گوادر میں چینی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود
ضلع گوادر میں چینی کارکنوں کی آمد کا سلسلہ سابق صدر پرویز مشرف کے دورمیں اس وقت شروع ہوا جب گوادر پورٹ کی تعمیرکا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا گیا۔
پورٹ کی تعمیر کے بعد نہ صرف پورٹ کو چلانے کے لیے ایک چینی کمپنی کے حوالے کیا گیا بلکہ سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے بھی چینی کارکن گوادر آئے۔
چینی کارکنوں کو ماضی میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہ@Muhamma45149821/TWITTER
مارچ 2004 میں ایک بم حملے میں گوادر میں تین انجنیئر ہلاک ہوئے تھے۔
گوادر کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے حب اور بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں بھی چینی کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
سنہ 2018 میں کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں واقع چینی قونصل خانے پر مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا تاہم اس کارروائی میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین حملہ آور، دو عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔
گذشتہ ماہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اپر کوہستان کے علاقے میں بھی چینی کمپنی غضوبہ کی بس کو پیش آنے والے ایک حادثے کے دوران نو چینیوں سمیت کل 13 ہلاکتیں اور 27 افراد زخمی ہوئے تھے۔
گوادر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔
اس ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی بم حملوں اور بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔










