آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کواردو کی ’صلیب‘: کیا یہ گلگت بلتستان میں عیسائیت کی قدیم نشانی ہے یا کچھ اور؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں سکردو کے قریب صلیب نما وزنی پتھر ملنے کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا اس پہاڑی خطے میں عیسائیت کی کوئی تاریخ موجود ہے یا نہیں۔
بحث کا آغاز رواں برس 14 جون کو ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نعیم خان اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سکردو سے دریا سندھ کے دوسرے پار دس، بارہ کلومیٹر دور موضع کواردو میں ایک ’صلیب نما‘ پتھر کی کھوج میں نکلتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق یہ ’صلیب‘ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور کئی دہائیوں سے یہاں رہنے والے بتاتے ہیں کہ صرف یہ پتھر ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں کچھ عرصے پہلے تک کھنڈرات بھی موجود تھے تاہم ان کی باقیات لوگ اٹھا کر لے گئے اور جو بچا اس پر قدرت نے پردہ ڈال دیا۔
لیکن یہ مضبوط صلیب نما اب بھی اسی پہاڑی پر موجود ہے۔ چھ سے سات فٹ لمبا اور چوڑا اور قریباً چار ٹن وزنی یہ پتھر محسوس کرنے میں سنگِ مرمر معلوم ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی کوئی اتفاق نہیں، ایسے لگتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر صلیب کی شکل میں تراشا گیا ہے۔
صلیب کو ’عیسائیت کی نشانی‘ ماننے والوں کی کیا رائے ہے؟
واجد بھٹی جنوبی ایشیا میں عیسائیت کے ماہر ہیں اور قائد اعظم یونیورسٹی سے منسلک رہے ہیں۔ ان کی رائے میں کواردو کی صلیب واقعی مسیحی نوادرات کا ایک نمونہ ہے۔
ان کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بلتستان کے علاقے میں کئی ایسی نقش و نگار والے پتھر موجود ہیں جن پر صلیب کے نشانات پائے گئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال بلتستان کے علاقے دم سم سے ’نستورین (Nestorian) کراس‘ کی دریافت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ٹیکسلا کے وہ علاقے، مثلاً سِرکپ، جہاں پر بودھ دور کے نقش و نگار موجود ہیں، وہاں بھی ایسے نشانات ملتے ہیں۔
واجد بھٹی کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس خطے میں عیسائیت کی تاریخ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے کسی زمانے میں شاہراہِ ریشم یا سلک روٹ گزرتا تھا اور اس خطے کے افغانستان، چین اور وسطی ایشیا کے ذریعے یورپ تک رابطے تھے۔
اس کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ رومی سلطنت کے ساتھ بھی اس خطے کے لوگوں کے تجارتی تعلقات تھے۔ ان کے مطابق جس شکل کی صلیب سکردو کے قریب ملی ہے، برصغیر میں زیادہ تر اسی شکل کی صلیبیں استعمال کی جاتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کینیڈا کی ولفریڈ لایئر یونیورسٹی کے شعبہ مذہب اور ثقافت کے سربراہ ہیں اور انھوں نے گلگت بلتستان میں کئی سال تحقیق کرتے گزارے۔ ان کے خیال میں یہ صلیب ان مسیحی مبلغوں کی نشانی ہو سکتی ہے جنھوں نے 18ویں اور 19ویں صدی میں گلگت بلتستان کا رخ کیا تھا۔
جیسن نیلس کے مطابق نستورین کراس بھی اسی خطے سے ملا تھا تاہم ان کی رائے میں ہو سکتا ہے کہ یہ دریافت اتنی پُرانی نہ ہو جتنی تصور کی جا رہی ہے اور ان کے خیال میں یہ 19ویں صدی میں یہاں آنے والے موروویئن (Morovian) مبلغوں کی نشانی ہو سکتی ہے۔
بلتستان کے حکمرانوں کے محل اور ان کے کھنڈرات
بلتستان کے پرائڈ آف پرفارمنس یافتہ تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ محمد یوسف حسین اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ محمد یوسف حسین کو بھی نوادرات اکٹھی کرنے کا شوق ہے اور انھوں نے تقریباً پانچ ہزار قدیم اشیا پر مبنی اپنا ایک میوزیم بنایا ہوا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ جس علاقے سے یہ صلیب نما پتھر ملا ہے اس کے بارے میں تاریخی شواہد ہیں کہ وہاں چار پانچ صدیوں قبل بلتستان کے حکمران علی شیر خان انچن اور ان کی ملکہ کے الگ الگ محل ہوا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ سنہ 2007 میں علاقے کے لوگ ان کے پاس آئے اور بتایا پہاڑ کے اوپر ماربل کی صلیب پڑی ہوئی ہے اور اگر میں چاہوں تو اس کو اپنے میوزیم میں رکھنے کے لیے لے جا سکتا ہوں تاہم ان کے مطابق جب انھوں کچھ تحقیق کی تو انھوں معلوم ہوا کہ اس وزنی پتھر کو وہاں سے ہٹانا بہت مشکل ہے۔
ان کے خیال میں یہ صلیب نہیں بلکہ تعمیراتی مقاصد کے لیے بنایا گیا کوئی ستون یا پتھر ہے۔
مقامی صحافی اور مصنف محمد قاسم نسیم بھی اس بات سے متفق ہیں۔
ان کے نزدیک گلگت بلستان کی تاریخ پر شائع ہونے والے غیر متنازعہ کتب میں کواردو کے اس پہاڑ کا ذکر ملتا ہے۔
سنہ 1936 میں اس خطے کے پولیٹیکل ایجنٹ رہنے والے مولوی حشمت اللہ کی ’تاریخ جموں‘ ہو یا 1968 تک پولیٹیکل ایجنٹ رہنے والے گل خان آفریدی کی ’بلتستان ان ہسٹری‘، ابوفضل کا ’اکبرنامہ‘ ہو یا محمد ذکااللہ کی ’تاریخ ہندوستان‘، سب میں ایک ہی جیسی تاریخ بیان ہے۔
یہ ذکر گلگت بلتستان کے حکمران علی شیر خان انچن اور اکبر بادشاہ کا ہے۔ مورخ لکتے ہیں کہ علی شیر خان انچن کی ایک بیٹی کی شادی اکبر بادشاہ کے بیٹے شہزادہ سلیم سے ہوئی تھی جبکہ ایک مغل شہزادی، جس کا نام گل خاتون بتایا جاتا ہے، کی شادی علی شیر انچن سے ہوئی تھی۔
محمد قاسم نسیم کے مطابق کوردو کے اس پہاڑ پر علی شیر انچن کا محل تھا جبکہ گل خاتون نے دریا کے کنارے اپنا محل تعمیر کروایا تھا جس کے لیے ماربل پر کام کرنے کے لیے سنگ تراش کشمیر اور دیگر علاقوں سے لائے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا علی شیر انچن کے اس محل کے کچھ آثار اب بھی باقی ہیں جبکہ گل خاتون کے محل کے آثار چند سال پہلے تک موجود تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی لوگوں نے انھیں کھنڈارت کی صورت میں دیکھا ہوا ہے اور وہ پتھر جسے صلیب کہا جا رہا ہے، یہ بھی یہاں کے لوگوں کے لیے اجنبی چیز نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کھنڈرات سے پتھر اور دیگر تعمیراتی سامان اٹھاتے گئے تاہم اس پتھر کے وزن کی وجہ سے کویی ابھی تک اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکا۔
موضع کواردو کے رہائشی پروفیسر حشمت علی کمال الہامی سکردو ڈگری کالج کے سابق پرنسپل ہیں اور آج کل بلتستان یونیورسٹی اور سکردو ڈگری کالج میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ بھیڑ بکریاں لے کر اوپر پہاڑوں میں نکلتے تو اس وقت بھی ان سمیت کئی لوگوں نے یہ آثار دیکھے اور مقامی لوگوں کے خیال میں یہ سب بچا کھچا تعمیراتی مواد تھا۔
پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کے مطابق ان آثار میں ماربل کا یہ صلیب نما پتھر بھی موجود تھا۔ ’وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں وہاں سے غائب ہو گئیں، کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے، مگر یہ جس پتھر کو صلیب کہا جا رہا ہے اسے وہاں سے اٹھانا ممکن نہیں تھا، اسی لیے یہ کئی سالوں سے وہاں ہی پڑا رہا ہے۔
محمد یوسف حسین کے مطابق اس خطے میں عیسائیت کی تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے۔ اس علاقے میں ہندو اور بدھ مت کے بعد اسلام رائج ہونے کے شواہد ملتے ہیں تاہم عیسائیت کی تاریخ کے بارے میں مؤرخ خاموش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں قدیم زمانے سے بدھ مت کے کئی پیروکار بستے تھے اور ان کے بہت سارے آثارات آج بھی موجود ہیں جبکہ اسلام یہاں ایران سے آئے ہوئے شاہ ہمدان کی بدولت داخل ہوا تھا۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان میں عیسائیت کا تعارف 18ویں صدی میں ہوا تھا جب مسیحی مبلغ اس علاقے میں آئے اور چند برس یہاں رہنے کے بعد واپس چلے گئے۔
اس کے بعد سنہ 1915 میں بھی ایک مشن آیا تھا جو دوسری عالمی جنگ تک یہاں رہا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے یہ مذہب قبول کیا مگر مشن کے جانے کے بعد معلوم نہیں کہ وہ لوگ کدھر گئے۔
معمہ حل کرنے کا ایک ہی طریقہ
اپنے شکوک کے باوجود محمد یوسف حسین مانتے ہیں کہ یہ دریافت تاریخی ہے اور ملنے والے پتھر کا تعلق کسی پرانی ثقافت سے ہے۔ لیکن اس کا پس منظر کیا ہے اور یہ کس دور سے تعلق رکھتا ہے، اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین طریقہ کاربن ڈیٹنگ ہے جس کے ذریعے ماہرین اس پتھر کی عمر کا تعین کر سکتے ہیں۔
صلیب نما کو نئے سرے سے دریافت کرنے والے بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نعیم خان اس پتھر کی متنازع تاریخ کے بارے میں کہتے ہیں: ’اگر یہ صلیب ہے تو پھر ہمارا خیال ہے کہ یہ کوئی 1800 یا 1900 سال پرانی ہے لیکن اگر یہ صلیب نہیں بھی ہے تو پھر بھی اس کی تاریخ چار، پانچ سو سال پرانی ہے۔‘ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا تعلق علی شیر خان انچن سے بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق بلتستان یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کے علاوہ یورپی ماہرین سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس صلیب نما کی کاربن ڈیٹنگ کرائیں تاکہ اس کی عمر اور دور کا تعین ہو سکے تاہم کورونا وائرس مزید تحقیق کی راہ میں حائل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جونہی وبائی صورتحال ختم ہوگ ی تو یہ کام ان کی پہلی ترجیحات میں شامل ہو گا۔
ڈاکٹر نعیم خان کہتے ہیں کہ ہمالیہ اور قراقرم کے یہ پہاڑی سلسلے 19ویں صدی کے آغاز میں دنیا میں منظر عام پر آئے تھے اور یہاں آنے جانے کے وسائل بہتر ہونے کی بات بھی زیادہ پرانی نہیں۔
’یہ علاقے ابھی بھی اپنے اندر بہت تاریخ چھپائے رکھے ہیں اور ابھی بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دنیا کو ان کے بارے میں تمام معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔
۔