ایران کے لوگ امریکہ کے ساتھ تنازع پر کیا رائے رکھتے ہیں؟

ایران کی امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو ایران کے اندرونی حالات کا جائزہ لینے کا منفرد موقع ملا ہے۔ ایران کے لوگوں میں اس بات پر سخت غصہ پایا جاتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ برس ایران امریکہ نیو کلیئر معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
بی بی سی کی ٹیم ایران کے دو شہروں تہران اور قم گئی اور وہاں ایرانی باشندوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کی۔ اس ٹیم میں بی بی سی کے نمائندے مارٹن پیشنس، کیمرا مین نک ملارڈ اور پروڈیوسر کارا سوِفٹ شامل تھیں۔
ایران میں کسی بھی غیر ملکی میڈیا کی ریکارڈنگ پر حکومتی کنٹرول رہتا ہے اس وجہ سے ایک حکومتی نمائندہ بھی ہر وقت بی بی سی کی اس ٹیم کے ساتھ ہر جگہ موجود رہا۔
مزید پڑھیے
شدید گرمی کے باوجود بھی ایران کے دارالحکومت سے نظر آنے والی البروز کی پہاڑیوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی نظر آتی ہیں۔
تقریباً نو ملین کی آبادی والے شہر تہران کے امیر ترین علاقے ان پہاڑیوں کی ڈھلوانوں کے قریب ہیں اور شہر کی گرمی اور آلودگی سے کسی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

اختتامِ ہفتہ پر ہاتھوں میں چھڑیاں تھامے اور ٹریک سوٹ پہنے ایرانی لوگوں کی بڑی تعداد، جن میں جوان اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں، شہر کے شور شرابے سے نکل کر ہائیکنگ کے لیے ان پہاڑیوں کا رخ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ان صاف ستھری پہاڑیوں کی چوٹی پر بھی امریکی پاپندیاں ان کا پیچھا کرتی ہیں۔
ان پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہاں پر موجود ایک شخص نے بی بی سی کے سوال پر کہا کہ ’آخر کون ان پابندیوں سے متاثر نہیں ہو رہا ہے؟‘ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے بی بی سی کو اپنے بیلٹ پر لٹکے کلپ کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اب یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں چار گنا مہنگا ہو چکا ہے۔
گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے چھ ملکوں کے نیو کلیئر معاہدے سے یکطرفہ طور پرعلیحدگی اختیار کرلی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی صدر کا موقف ہے کہ یہ ’ڈیل‘ ایران کو بہت رعائتیں دیتی ہے اور یہ ایران کو بیلسٹک میزائل بنانے اور مشرق وسطیٰ میں بے جا مداخلت کی کھلی چھٹی بھی دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے خواہاں ہیں۔ کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ ایران غصے میں ہے۔ ایران کو لگتا ہے امریکہ نے اسے دھوکہ دیا ہے جبکہ معاہدے کے یورپین فریق۔۔ یو کے، فرانس اور جرمنی۔۔ جو ابھی بھی اس معاہدے کی حمایت میں ہیں، اسے تنہا چھوڑ چکے ہیں۔
امریکہ کے ان اقدامات نے یہاں شدت پسندوں کے اس موقف کو تقویت پہنچائی ہے کہ واشنگٹن پر کسی صورت بھروسہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ایران میں امریکہ اور یوکے کے بارے میں 1953 کی فوجی بغاوت کے بعد سے بہت زیادہ بد اعتمادی پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک اس بغاوت کے پیچھے تھے جس کے ذریعے ایران کے پہلے منتخب وزیر اعظم کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
ان پہاڑیوں پر ایک چھوٹا سا کیفے ہے۔ اس کیفے کے مالک ہادی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم ایرانی (قوم) ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور ہم ہمیشہ مشکلات کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘
دلکش پہاڑیوں میں واقع یہ کیفے آدھا ہی تعمیر کیا گیا ہےاور اس کی چھت ایک ترپال سے ڈھانپی ہوئی ہے لیکن پھر بھی اس نے مجھے چائے اور دیگر پھلوں سے تواضع کرنے کے لیے کیفے کے اندر آنے کی دعوت دی۔ بی بی سی سے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے ہادی نے کہا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ پابندیوں سے ایران میں فسادات پھوٹ پڑیں گے اور ایران کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔
لیکن کیفے کے مالک کے خیال میں پابندیوں کا الٹا اثر یہ ہوا کہ ان اقدامات نے ملک بھر میں آزاد خیال اور قدامت پسند ایرانیوں کو متحد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہماری قوم متحد ہے، جس قدر مشکل صورتحال ہوتی ہے، لوگ اس قدر ہی متحد ہو جاتے ہیں۔‘
ان پہاڑیوں سے دور خطرناک دھول میں لپٹے تہران کے جنوبی دیہی علاقے میں ان امریکی پابندیوں کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ تنگ گلیوں والا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مکان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایران کی ورکنگ کلاس رہتی ہے۔
یہ پابندیوں سے پہلے ہی مشکل حالات میں تھے لیکن گذشتہ برس کی پابندیوں نے ان کی اکثریت کو غربت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، معیشت خراب ہونے کی وجہ سے اکثریت ضروریات زندگی سے نمٹنے کے لیے کام کاج ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے۔
تین بچوں کی ماں زہرے فرزانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کپڑے سیتی ہیں جس سے انہیں روزانہ تقریباً دو ڈالر مزدوری مل جاتی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ صدر ٹرمپ ہمیں نقصان پہنچا کر کیا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان امریکی پابندیوں سے ان کی فیملی غربت کی چکی میں پس رہی ہے اور یہ کہ اب وہ اپنے خاندان کے لیے گوشت اوراپنے دمہ کی بیماری کے لیے دوا نہیں خرید سکتی ہیں۔
وہ اپنے 11 برس کے بچے کو ایک خیراتی ارادے کے دفتر بھیجتی ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کے لیے ایک وقت کا کوئی مناسب کھانا لے آئے۔ کسی سے مدد کی اپیل کرنا انھیں بہت دکھ پہنچاتا ہے۔ زہرے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا اور پنیر موجود ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کے ’چلیں کم ازکم ایران میں ابھی امن تو ہے، جنگ تو نہیں ہورہی ہے۔‘
اپنے دس دن کے سفر کے دوران میں نے جس بھی ایرانی شہری سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کی یہ رائے ان امریکی الزامات کے باوجود یہی ہے جن میں کہا گیا کہ ایران نے خلیج اومان میں تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے اور یہ کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر ایک امریکی جاسوس ڈرون کو مار گرایا ہے۔
ایران کے سابق نائب وزیر خارجہ حسین شیخ الاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے امکانات نہیں ہیں۔ یقیناً یہ ممکن ہے کہ کسی سے غلطی ہو جائے۔ لیکن ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ ’میرا یقین ہے کہ صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ان کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ہمارے خلاف جنگ کا مطلب ہے کہ امریکی فوجیوں کی لاشیں۔۔ اور وہ واشنگٹن میں کوئی جنازے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہونگے۔‘
میں نے تہران کے گرد پہاڑیوں میں اپنا سفر جاری رکھا جہاں ایک صاف پانی والی ندی تیزی سے بہہ رہی ہے۔ وہاں میری ملاقات ایک نوجوان خاتون نسیم سے ہوئی جو اپنے دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ ہائیکنگ کررہی تھیں۔
میں نے ان سے پوچھا آپ کا ٹرمپ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ وہ کِھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ ایسے اوپر کیے اور مٹھی بند کی جیسے انھیں کچھ معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں کیا کہیں۔ لیکن اس کے بعد جو بات انھوں نے بتائی اس نے مجھے بھی حیرت میں ڈال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے جنگ ہی ہمارے لیے اچھی ہو۔
میں نے پوچھا کہ کیسے کوئی جنگ کا حامی ہو سکتا ہے؟ نسیم کا کہنا تھا اس سے شاید ہمارے ملک کے طرز حکمرانی میں کوئی تبدیلی واقع ہو جائے اور یہ کوئی بہتری کا سبب بن سکے۔ لیکن اگر یہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرجائے تو پھر ایسا نہیں ہونا چاہیے اور پھر یہ ہمارے لیے کسی صورت بہتر نہیں ہو سکتا۔
جب 2009 میں احمدی نژاد متنازعہ انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو نسیم کی طرح کے بہت سے لوگ نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اسے سبز انقلاب کا نام دیا گیا۔ یہ وہ رنگ تھا جو صدارتی انتخابات ہار جانے والے اپوزیشن رہنما حسین موسوی نے انتخابات میں استعمال کیا تھا۔ ایرانی حکام نے حسین موسوی کو تب سے ہی گھر پر نظر بند رکھا ہوا ہے۔
ایرانی حکام نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور کہا کہ ملک میں کوئی موثر حزب اختلاف کی تحریک موجود ہی نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران مخلتف نظریات رکھنے والے افراد کا ملک ہے۔ یہاں پر شدت پسند مذہبی قدامت پسند بھی ہیں اور آزاد خیال بھی ہیں جو شاید ابھی اپنا سر نہیں اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح کی تقسیم کو صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اس ملک کو سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ چلا رہے ہیں۔ لیکن جب امریکہ ایران سے ٹکرائے گا تو پھر ایسی صورت میں آزاد خیال اور قدامت پسند اپنے ملک کو ترجیح دیں گے۔








