کراچی: پی ٹی آئی کی رہنما زہرہ شاہد کے قاتلوں کو سزائے موت

زہرہ شاہد

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 کے عام انتخابات میں ڈیفینس اور کلفٹن پر مشتمل حلقے میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کے جاری احتجاج کے دوران زہرہ شاہد کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رہنما زہرہ شاہد کے قتل کے الزام میں دو ملزمان کو سزائے موت سنائی ہے۔ دونوں ملزمان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی شعبۂ خواتین سندھ کی صدر زہرہ شاہد کو 19 مئی سنہ 2013 کو ڈیفینس میں واقع ان کے گھر کے باہر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

پولیس نے چار ملزمان راشد عرف ٹیلر، زاہد عباس زیدی، عرفان عرف لمبا اور کلیم کو گرفتار کیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

یہ مقدمہ سینٹرل جیل کراچی میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تین روز قبل فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو جمعے کو سنایا گیا۔

زہرہ شاہد

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کی شعبۂ خواتین سندھ کی صدر زہرہ شاہد کو آٹھ مئی سنہ 2013 کو ڈیفینس میں واقع ان کے گھر کے باہر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا

عدالت نے ملزم راشد ٹیلر اور زاہد عباس زیدی کو سزائے موت کا حکم سنایا جبکہ عرفان اور کلیم کو عدم ثبوت پر بری کر دیا۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ڈیفینس اور کلفٹن پر مشتمل حلقے میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کے جاری احتجاج کے دوران زہرہ شاہد کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔

سنہ 2013 میں ہونے والے عام اتنخابات میں حلقہ این اے 250 کے ابتدائی نتائج میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت کو کامیاب قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کی قیادت میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شروع کی گئی اس احتجاجی تحریک کے دوران کلفٹن اور تین تلوار پر دھرنا بھی دیا گیا۔ اسی دھرنے کے دوران ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سامنے آئی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ڈیفینس کے لوگوں نے یہ سلسلہ نہ روکا تو وہ اپنے کارکنوں کو حکم دیں گے اور وہ انھیں سبق سکھائیں گے۔

تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن نے این اے 250 کے 43 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا تاہم پولنگ سے چند روز قبل زہرہ شاہد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس قتل میں ایم کیو ایم کو ملوث قرار دیا تھا جس کے بعد میٹرو پولیٹن پولیس کو الطاف حسین کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

حکومت سندھ نے زہرہ شاہد کے قتل میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرنے کے لیے 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ مقدمے سے بری کیے جانے والے ملزم عرفان عرف لمبا نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ رینجرز نے اسے 28 مارچ سنہ 2013 کو گھر سے حراست میں لیا تھا جبکہ زہرہ شاہد کا قتل 18 مئی کو ہوا تھا۔

زہرہ شاہد کے قتل کے بعد سے ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے تعلقات کشیدہ رہے تاہم کراچی آپریشن اور ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آنے کے بعد ان تعلقات میں بہتری آئی اور حالیہ انتخابات کے بعد دونوں جماعتیں قریب آئیں۔

ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو وزیر اعظم کے منصب کے لیے ووٹ دیا اور مرکزی حکومت میں شمولیت اختیار کی۔