بلاول کی تسبیح اور ’وزیراعظم کے جذبات‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کشمیر پر انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد بلائے جانے والے پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے باوجود ارکان کی ایک بڑی تعداد ایوان میں موجود تھی اور تقریر کو سنجیدگی سے سنا بھی گیا اور چند ایک موقعوں پر جو وزیراعظم نواز شریف نے انڈیا کے خلاف قوم کے متحد ہونے کی بات کی تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر داد بھی دی۔
وزیراعظم کی تقریر کے اختتام سے پہلے ہی پہلی نشستوں پر بیٹھے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے پاس رقعے آنا شروع ہو گئے تھے جس پر وہ کچھ تحریر کرنے پر مصروف دکھائی دے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعظم کی تقریر ختم ہوئی تو ایوان میں ہلجل مچ گئی اور چند ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر جانے لگے جبکہ حکومتی بینچوں میں بیٹھے چند ارکان کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کے بعد قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا خطاب شروع ہوا جس میں انھوں نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ کشمیر اور ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا اور اس میں حکومت اور حزب اختلاف میں کوئی دو آرا نہیں ہوں گی۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید شروع کی تو ایوان کا مزاج تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔
خورشید شاہ نے اس دوران خارجہ پالیسی میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کی تعریف کی تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر خیرمقدم کیا۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کی تقریر میں خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں پکڑے گئے انڈیا کے مبینہ جاسوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’کیا نام تھا اس کا بوش وانی، اس پر ساتھ بیٹھے اعتزاز احسن نے کہا کہ کلبھوشن یادو، تو خورشید شاہ نے کہا کہ کلبھوشن وانی تو اس کے ساتھ ہی ایوان میں درست نام پکارا جانے لگا جس میں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بیٹھے وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی شامل تھے تو خورشید شاہ نے کہا کہ یادو، ہاں اگر نام اسحاق ڈار ہوتا تو جلدی یاد رہتا۔'
خیر انھوں نے دوبارہ نام نہیں لیا لیکن ایوان میں مبینہ جاسوس کا نام کچھ دیر کے لیے گونجتا رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ خورشید شاہ نے کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر عالمی سطح پر لابنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ ’مگر یہ کیسے ہو گا، ہمارے پاس کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے؟' اس پر حزب اختلاف نے ڈیسک بجاتے ہوئے شیم شیم کہا۔
انھوں نے گیلری کے ایک کونے میں تنہا بیٹھے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر طارق فاطمی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا، 'دو مشیر ہیں، ایک کل جماعتی کانفرنس میں تھا اور ایک آج بیٹھے ہوں گے۔۔۔ کیا نام ہے ان کا تو ایوان میں متعدد ارکان بولے سرتاج عزیز، تو خورشید شاہ بولے وہ تو نظر نہیں آ رہے تو ان کو 'طارق فاطمی' کو کم از کم یہاں بٹھا لیں اگر وزیر خارجہ یہاں نہیں تو انڈیا ہمارے اوپر دباؤ کیوں نہ ڈالے؟'

،تصویر کا ذریعہPM HOUSE
خورشید شاہ نے حکومت پر تنقیدی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک موقعے پر تاریخی حوالہ دینے کے لیے ڈیسک پر موجود کاغذات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 'میاں صاحب کو تو سہولت ہے کہ وہ روسٹرم سامنے رکھ کر تقریر پڑھ لیتے ہیں لیکن میرے پاس نہیں اور مجھے تھوڑی رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔'
اس پر انھوں نے تقریر دوبارہ شروع کی تو وزیر خزانہ نے ایک اہلکار کو اشارہ کیا اور وہ خورشید شاہ کے پاس گیا تو انھوں نے منع کر دیا اس کے بعد دوبارہ تقریر شروع کی تو وزیراعظم نواز شریف نے ان سے کچھ کہا تو خورشید شاہ بولے کہ اس خطرناک وقت پر بڑی تبدیلی آ جائے گی کیونکہ وزیراعظم نے پیشکش کی ہے کہ وہ یہاں ان کی جگہ آ جائیں اور وہ ان کی جگہ چلے جاتے ہیں،‘ اس پر ایوان قہقوں سے گونج اٹھا۔
ایک اور موقعے پر خورشید شاہ نے جب کہا کہ عالمی فورم میں تقریر میں چہرے کے تاثرات اور بات کرنے کے سٹائل کی بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن 'میاں صاحب اب اس عمر میں وہ جذبات کہاں سے لائیں،' اس پر حزب مخالف کے ارکان کے قہقے بلند ہوئے اور حکومتی ارکان خاموش بیٹھے رہے۔
خورشید شاہ نے اس کے ساتھ تقریر کے اختتام پر پامانا لیکس کے حوالے سے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہیے تو اس پر حزب مخالف نے ڈیسک بجا کی انھیں داد دی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جیسے ہی تقریر کا اختتام ہوا تو گیلری میں بیٹھے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو مسلسل تسبیح کر رہے تھے، اٹھ کر باہر جانے لگے تو ان کے ساتھ ان کی جماعت کے اکثر ارکان بھی سیٹوں سے اٹھ گئے اور پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد باہر نکل گئی۔
اس کے بعد ایوان خالی ہونا شروع ہو گیا تاہم وزیراعظم نواز شریف ایوان میں موجود رہے لیکن وہ برابر میں بیٹھے وزیر خزانہ کے ساتھ کسی گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ ساتھ میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تقریر شروع کی تو اس کی ان کی جانب توجہ نہیں تھی۔
مولانا نے پانچ دس منٹ اس کو برداشت کیا اور ایک موقعے پر بول پڑے کہ ’وزیراعظم صاحب، اسحاق ڈار صاحب آپ کی توجہ چاہتا ہوں انڈیا کی جارحیت جیسے اہم مسئلے پر بات کر رہا ہوں۔ اس پر دونوں نے اپنی گفتگو ختم کر دی اور دھیان ان کی جانب کر دیا۔‘
مولانا فضل الرحمان کی تقریر ختم ہونے پر سپیکر نے 20 منٹ کے وقفے کا اعلان کیا تو وزیراعظم نواز شریف ایوان سے باہر جانے لگے تو ارکان ان کے اردگرد جمع ہو گئے اور انھیں پرچیاں دینے لگے جو وہ اپنی جیب میں ڈال رہے تھے۔
وقفے کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ارکان کی گنتی انگلیوں پر کی جا سکتی تھی اور اس میں جب ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو تقریر کی دعوت دی گئی تو وہ بول پڑے اگر کشمیر کے مسئلے پر 'یہ اجلاس خانہ پوری کے لیے بھی بلایا گیا تو ایوان میں ارکان کی موجودگی لازمی ہونا چاہیے تھی۔'








