نواز شریف مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے بھی نااہل

پاکستان کی سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’نواز شریف لڑائی کو بڑھائیں گے‘

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے نجی ٹی وی اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے ذاتی خیال میں نواز شریف آنے والے دنوں میں لڑائی کو بڑھائیں گے، ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہو گئے ہیں اور بات مقبول بھی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں آگے نیب کا فیصلہ آنا ہے، اس فیصلے کے بعد شہباز شریف کو اپنی جماعت اور سسٹم کو بچانے کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی پارٹی کی صدارت سنبھالنا پڑے گی۔‘

  2. ’نوازشریف آپ جیت گئے ہیں‘

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ٹویٹ کی ہے کہ’نوازشریف آپ جیت گئے ہیں ۔انصاف کے اعلی ترین ادارے آپ کے خلاف فیصلے نہیں بلکہ آپ کی سچائی کی گواہی اور موقف کے حق میں ثبوت پیش کر رہے ہیں۔‘

  3. ’ مسلم لیگ نون سربراہ کے بغیر‘

    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب سیاسی جماعتوں کی فہرست میں موجود پاکستان مسلم لیگ ن کے نام کے آگے موجود خانے میں سے پارٹی سربراہ کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

  4. ’الیکشن جیتنے کے لیے کسی حریف کو نااہل نہ کرنا پڑتا‘

    سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کاش میرے ملک کی سیاسی پارٹیاں آپس میں تصادم کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیتیں تو نہ الیکشن جیتنے کے لیے کسی حریف کو نااہل کرنا پڑتا اور نہ حریف کی برائی۔ مگر تنقید کرنا آسان ہے اور خدمت کرنا محنت طلب اور لیڈر ہمارے سست ہیں۔

  5. ’ نواز شریف اور شہباز شریف کی ملاقات‘

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور کے قریب واقع ان کی رہائش گاہ جاتی امرا پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  6. سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل

    سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو مسلم لیگ نون کی صدارت سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد ٹوئٹر پر ’سپریم کورٹ‘ اور ’عوام کی ضد نواز شریف ‘ کے ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گئے ہیں۔ ’عوام کی ضد نواز شریف ‘ پر مسلم لیگ نون کے حامی نواز شریف کے حق میں ٹویٹ کر رہے ہیں جبکہ ’سپریم کورٹ‘ کے ٹرینڈ میں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف نواز شریف کی پارٹی صدارت جانے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    Twitter

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

  7. سازشیں اور مقدمات سیاست کا دھارا بدل سکے نہ بدل سکیں گے: خواجہ سعد رفیق

  8. سینیٹ کا الیکشن کا کیا ہوگا؟

  9. بریکنگ, ’مسلم لیگ نیا قائد منتخب کر کے آگے بڑھے‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کا فیصلہ ہر لحاظ سے تاریخی ہے اور تاریخ رقم کرنے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کی تعریف کی جانی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس تاریخی فیصلے سے ایک اہم اصول طے کر دیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے پارٹی کی صدارت کے لیے نااہل شخص کا راستہ کھول کر سیاست کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی۔ مسلم لیگ ن کو نئی سازشیں کرنے کی بجائے اس فیصلے کو تسلیم کر لینا چاہیے اور نیا قائد منتخب کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔

  10. ن لیگ کو دھچکہ؟

  11. قانونی طور پر اب نواز شریف کے پاس کیا راستہ ہے؟

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) طارق محمود کا انٹرویو سنیے

    ،آڈیو کیپشنسپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود
  12. سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا تجزیہ

    نواز شریف ایک طرف تو قانونی لڑائی ہارتے جا رہے ہیں اور دوسری جانب سیاسی جنگ میں بظاہر ان کی کامیابیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

    ،آڈیو کیپشنسینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا تجزیہ
  13. نواز شریف کے تمام فیصلے کالعدم

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے بطور پارٹی صدر نواز شریف کی طرف سے 28 جولائی کو سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد کیے جانے والے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    ان فیصلوں میں آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے ٹکٹوں کا اجرا بھی شامل ہے۔ مختصرعدالتی فیصلے میں سینیٹ کے انتخابات کے التوا کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی اقدام کرنے کا مجاز ہے۔

  14. انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017

    انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف اکتوبر 2017 میں اپنی جماعت کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے تاہم اس انتخابی اصلاحات بل کو حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔

  15. سپریم کورٹ کا فیصلہ

    چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کی اور چیف جسٹس نے کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہ اترنے والا شخص سیاسی جماعت کی کی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔