پاکستان میں تین درجن سے زائد مذہبی جماعتیں نصابی کتابوں میں حالیہ تبدیلی کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت درسی کتابوں سے جہاد سے متعلق حوالے حذف کردیے گئے ہیں اور تعلیمی نظام کو سیکولر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نئی کتابوں میں اردو، مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات کے مضامین کی کتابوں سے قرآنی آیات نکال دی گئی ہیں۔
مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایڈز کے متعلق جانکاری کے نام پر نصاب میں بےحیائی اور جنسی تعلیم کا باب شامل کیا گیا ہے۔ بائیں بازو اور سیکولر گروہوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ جو کتابیں پڑھائی جارہی تھیں ان میں اقلیتوں، بالخصوص ہندوؤں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والا مواد شامل تھا۔ بعض کا کہنا ہے کہ نظریۂ پاکستان کو ’غیرضروری انداز اور تناسب‘ میں پیش کیا جارہا تھا اور ان سب کی وجہ سے موجودہ نوجوان کو جو مستقبل کے پاکستان کے معمار ہیں، گمراہ کیا جارہا تھا۔
بعض گروہوں نے کہا ہے کہ درسی نصاب عملی زندگی کے بارے میں طلباء کو کچھ نہیں بتاتا۔ ایک طالب علم نے یہ کہا کہ دسویں جماعت میں جو تاریخ پڑھائی جارہی ہے اس میں سکوتِ ڈھاکہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کیے بغیر نئی نسل کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ جبکہ سیکولر گروہوں کا کہنا ہے کہ اسلام کے تاریخی ہیروز کا نام جن کا تعلق پاکستان سے نہیں، نصاب سے نکال دینا چاہئے۔
پاکستان کی تاریخ، نظریۂ قیام پاکستان، اسلامی طریق زندگی، عقائد اور پاکستان کے فرقے اور اقلیتیں، سیکولر اور مذہبی افکار وغیرہ سے متعلق نصاب میں کی جانیوالی تبدیلیوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
ضیاء اللہ مون، ہارون آباد: یہ سب کچھ مسلمانوں کو اسلام اور دوقومی نظریے سے دور کرنے کی سازش ہے۔ کیا جن ممالک میں ایڈز کے متعلق انفارمیشن زیادہ ہے وہاں یہ بیماری ختم ہوگئی ہے؟ یا کم ہوگئی ہے؟
محمد رضوان، لاہور: میں پنجاب یونیورسٹی میں قانون کا طالب علم ہوں۔ نصاب میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ لیکن دوقومی نظریے کے مطابق اور اسلام کے مطابق جدید علوم شامل ہونی چاہئیں۔
وسیم شہزاد، پاکستان: میرے خیال میں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن جہاں تبدیلی آنی چاہئے تھی وہ کتابیں ویسی ہی ہیں۔ سائنس کی کتابیں وہاں پر ہی ہیں اور تبدیلی کی تو اسلامیات اور پاکستان اسٹڈیز میں۔
عابد عزیز، اوکاڑہ: یہ اچھا نہیں ہے۔ ہمیں یورپ کی وجہ سے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ، تعلیم اور روایات ہیں۔
میاں خالد جاوید، لاہور: آنٹی زبیدہ اور انکل مشرف یہ جان لیں کہ پاکستانیوں کو قرآن سے دور نہیں کیا جاسکتا۔
محمد ثاقب، بہار: پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے، خاص کر نصاب میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے ہو نہایت شرمناک کارروائی ہے۔
سید، پاکستان: میری رائے یہ ہے کہ پرویز مشرف ایک بےدین انسان ہیں۔
ذوالفقار احمد چیما، کویت: ہمارے ملک کو جس نصاب کی ضرورت ہے وہ ہمارے حکمران کبھی بھی نہیں دینگے کیونکہ ہماری حکومت کو اوپر سے جو حکم آتا ہے وہ کرتے ہیں۔
رضوان الہی، لاہور: یہ تمام تبدیلیاں صرف اور صرف جہاد کی آیات مبارکہ نصاب سے نکالنے کے لئے کی جارہی ہیں۔
وسیم احسن چودھری، سعودی عرب: تبدیلی ضروری ہے، دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر رہنے کے لئے۔ لیکن ان تبدیلیوں کی ضرورت سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہے۔ سائنس کے نصاب میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی تاریخ اور اسلامیات میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے لیکن ایسا صرف عوام کریں۔
آفتاب عالم، ریاض: یہ تبدیلیاں مغربی ممالک کی غلامی کے مترادف ہیں۔
برنی، سِڈنی: دینِ اسلام معیانہ رویہ کا نام ہے، نصاب کے ساتھ ضروری ہے کہ ترقی و تعلیم بھی جدید ہو۔ اگر اسلام کا نقطۂ نظر صفائی اور طہارت کے احکام بتاتا ہے تو سب کچھ اللہ کے احکامات کے طور پر ہوگا۔۔۔۔۔
محمد عقیل، سیالکوٹ: وزیر تعلیم کی جانب سے کافی اچھی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ نصاب کے بجائے پورے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
شوکت حسین، شارجہ: ہمارے حکمران پاکستانی قوم کو جہالت اور گمراہی میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔
ایم اے خان، کینیڈا: قرآن میں جو بھی باطل کے خلاف لڑنے کی باتیں ہیں وہ تو انجیل سے آئی ہیں۔ یعنی موسی اور فرعون کی کہانی۔ آج کل لوگ امریکہ کو فرعون۔۔۔۔
عمران سیال، کراچی: میرے خیال میں نصاب کی تبدیلی سے ہمیں یہ سب سمجھ جانا چاہئے کہ ہم امریکہ کے کتنے بڑے غلام ہیں۔ کیا اس لئے ہم اپنی دینی تعلیم کو بھی بھولنے کو تیار ہیں۔۔۔۔
محمد شکیل، کراچی: یہ سب کچھ غیرملکی ایجنڈا ہے جو کہ ترقی کے نام پر مسلمانوں پر تھوپا جارہا ہے۔ یہ تبدیلیاں کرنے والے ان غیرسرکاری اداروں کے تنخواہ دار ملازم ہیں جو ترقی کے نام پر مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔
روبینہ، ٹورانٹو: میرے خیال میں نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنے مذہب کے بارے میں زیادہ بتانا چاہئے۔
خان، برطانیہ: میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے جب ہم بچوں کو جدید تعلیم فراہم کریں۔ ہم لوگ کب تک اس نصاب کی پیروی کرتے رہیں گے جس کا کوئی معنی نہیں رہا۔
انعام الحق، برطانیہ: یہ صرف اور صرف امریکہ کو خوش کرنے مشرف کی کوشش ہے۔
چودھری جمیل احمد خان، کمالیہ، پاکستان: نصاب میں حالیہ کی جانیوالی تبدیلیاں اسلام اور پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش ہیں۔
محمد شبیر، اسلام آباد: یہ اچھا نہیں ہے کہ قرآنی آیات کو نصاب سے نکالا جارہا ہے۔ تمام قوموں کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے نصاب میں مذہبی تعلیمات شامل ہوں۔
عبدالرحمان سومرو، پاکستان: نصاب میں تبدیلیاں مضحکہ خیز ہیں۔ مطالعۂ پاکستان اور اردو کے نصاب میں تبدیلیاں طلباء کے لئے اچھی نہیں ہیں۔ نظریۂ پاکستان کو مناسب طور پر نہیں سمجھایا گیا ہے۔ مسلم اسکالر اور صوفی جو اسلام کو پھیلانے میں سرگرم رہے، ان کے بارے میں نصاب میں کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔ نیشنل اور مذہبی ہیرو ایک عام آدمی کی طرح کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ سب اسلام اور پاکستان مخالف عناصر کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔
محمد وقاص، میلبورن: سائنس کے نصاب میں تبدیلی نئی تحقیق کے ساتھ ہوتی رہنی چاہئے مگر مشرف جمالی کمپنی کی تبدیلیاں ملاحظہ کریں۔ میٹرک کی انگلِش میں لو اسٹوری جس کا ایک کردار کلب بھی جاتا ہے، مسلم ممالک سے تعلقات کا باب ختم کیا گیا ہے، اقبال جس نے پاکستان کا خواب دیکھا ان کی وہ مضامین جن میں وہ امت کی بات کرتے ہیں یا اصتحصال کے خلاف ابھارتے ہیں، وہ سب نصاب سے باہر ہیں۔ قومی ہیرو جن سے ہندوؤں کو تکلیف ہوتی ہے وہ سب نصاب سے باہر، مشرف صاب کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ اسلامی تعلیمات تک میں تحریف کروادیں، کونڈیلا رائس ایسے ہی نہیں زبیدہ جلال کے قصیدے پڑھ رہی ہیں۔
محمد فدا، کینیڈا: مجھے لگتا ہے کہ ان تبدیلیوں کی ضرورت تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں کالج میں تھا اس وقت انسان چاند پر اترا۔ ایک دن میں نے یہ بات ایک مذہبی رہنما سے کی اور کہا کہ چاند زمین سے ساڑھے تیرہ ہزار میل دور ہے۔ انہوں نے فوری طور پر مجھے روکا اور کہا کہ تم ان باتوں پر یقین کرنے لگے؟ کس کے پاس اتنی بڑی رسی تھی جس کے ذریعے یہ دوری ناپی گئی؟ یہ سب کچھ سنی سنائی بات ہے۔ آج کے دور میں اب جب سائنسی تجربوں اور تلاش کی وجہ سے دنیا بدل گئی ہے اور ایک عام آدمی بھی حالات سے واقف ہے۔
محمد شاہد، ملتان: ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ تو جب لوگ اپنے مذہب کی خلوص سے پیروی کرتے ہیں تو انہیں فنڈامنٹلِسٹ کہا جاتا ہے۔ نصاب میں تبدیلیاں لوگوں سے مذہب کو جدا کرنے کی کوشش ہیں۔ یہ حکومت کی کارکردگی ہے: پہلے وہ ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے ہیں، پھر لوگوں کے جذبات کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر تبدیلیوں پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔
عمر محمد، پاکستان: تبدیلی بہت ضروری تھی اور بہت پہلے ہونی چاہئے تھی۔ اس کا مقصد اسلام کا اصلی چہرہ چھپانا اور تشدد بھرا مذہب ظاہر کرنا تھا تاکہ مفاد پرست لیڈر ۔۔۔۔
احمد، تھائی لینڈ: مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ کوئی بھی ان تبدیلیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ نصاب ہی نہیں، بلکہ آئین بھی غیرتعلیم یافتہ مولویوں کا بلیک میل کردہ ہے۔ انہیں اسلام کے بارے میں صحیح کچھ نہیں معلوم ہے۔
نامعلوم: ہماری درسی کتابیں جھوٹ، نفرت اور جہالت سے بھری پڑی ہیں۔ خاص کر مدرسوں میں جو حدیثیں پڑھائی جاتی ہیں انہیں کوئی عجنبی پڑھ لے وہ قانون کو ہاتھ لگاتا ہے۔
فیض، امریکہ: یہ سب اسلام مخالف فورسز کی جانب سے کیا جارہا ہے۔
صائمہ راجپوت، پاکستان: نصاب میں تبدیلی ایک خوش آئند علامت ہے مگر کیا اسلامی سورہ کو نصاب سے نکالنا ہی تبدیلی ہے؟ اور سورہ نصاب سے تو نکال سکتے ہیں، کیا قرآن سے بھی نکال سکیں گے؟
حسنین، سرحد: یہ سب کچھ پوری قوم کے لئے باعث شرم ہے۔ نصاب میں یہ تبدیلیاں ہماری تاریخ، تہذیب اور اقدار کے خلاف ہیں۔
فراض علی، ابوظہبی: جو کچھ کیا گیا وہ بالکل صحیح ہے، اس کی ضرورت بھی تھی۔ جہاں تک مولویں کو سوال ہے، اللہ ہی انہیں سمجھائے۔
محمد نثار خان، پاکستان: ہاں، نصاب میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے لیکن یہ تبدیلیاں اسلام کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ہمیں بنگلہ دیش کے بارے میں بھی پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں ہماری تاریخ کی کتابوں میں کچھ بھی نہیں۔
نسیم، دمام: نصاب میں تبدیلی کی ضرورت تو ہے کیونکہ ہمارا نصاب بہت پرانا اور بہت غیرضروری مضامین سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن اس میں تبدیلی نہیں بلکہ بہتری لانی چاہئے اور اس میں اسلامی تعلیم اور تاریخ اور پاکستان کا قیام اور تحریک کے مضامین شامل کریں۔
شفیق اعوان، لاہور: نصاب میں اخلاقیات اور مذہب اور سائنس تینوں کو شامل کریں۔
محمد عثمان، امریکہ: اس سے برا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ سب سے چھوٹی کتاب کون سی پڑھائی جاتی ہے تو وہ کہے گا اسلامیات۔ لیکن اسلامیات کا وقفہ دوسرے مضامین کے ہوم ورک کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔
طاہر طیب خان، کراچی: یہ ٹھیک نہیں ہے۔ جو شخص تبدیلیاں کررہا ہے وہ نہ تو مسلم ہے اور نہ ہی۔۔۔۔
سید شاداب، ٹورانٹو: کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ مشرق اور مغرب آج سے نہیں اجل سے دو مختلف جہاں ہیں، دو مختلف جہاں کی تہذیب کو ایک دوسرے پر تھوپنے سے منفی نتیجے برآمد ہونگے۔
ایم آصف لودھی: درسی نصاب میں تبدیلی امریکہ اور یہودی لوگوں کے کہنے پر کی جارہی ہے، مشرف ان کے دائیں بازو ہیں۔ اسلام کے متعلق باب نکالنے سے اسلام کو ختم نہیں کرسکتے، کیونکہ اسلام آخری دن ہے۔
سید اعجاز شاہ، شیکاگو: مجھے لگتا ہے کہ کتابوں میں محفوظ سیکس کے بارے میں بتایا جارہا ہے تاکہ ایڈز کی بیماری نہ ہو۔
حلال باری، کراچی: سب سے پہلے تو ہم تمام لوگوں کو اس بات کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد پاکستانی۔ کیونکہ مرنے کے بعد قبر میں فرشتے یہ نہیں پوچھیں گے کہ پاکستان کے لئے کیا کیا تھا۔ وہاں جب سب سے پہلے سوالات ہونگے وہ یہی ہونگے کہ بتا تیرا رب کون، بتا تیرا دین کیا؟
محمد آزاد، برٹن، برطانیہ: پاکستان میں درسی کتابوں کا نظام ایک عجیب طرح کا مربا بنا ہوا تھا: نہ وہ سیکولر تھا اور نہ ہی مذہبی۔ ایک طرح ڈاروِن کی تھیوری پڑھائی جاتی تھی تو دوسری طرف قرآن کی آیات کہ انسان کس طرح بنا۔ انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں سر جیمز جینز کا مضمون ہے کہ یہ زمین حادثاتی طور پر بنی ہے۔ جبکہ اسلامیات میں اور باتیں ہوتی ہیں۔ تعلیمی نظام بامقصد ہونا چاہئے۔
شاہ رخ بلوچ، لاہور: ہم نصاب میں تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہے جو اسلامی تشخص کی بنیاد پر قیام پاکستان کے خلاف ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، اسلامی اقدار کی بنیاد پر۔ نصاب میں تبدیلیاں آئین کے خلاف ہیں۔
غلام نبی شیخ، سندھ: یہ سب کفر کو خوش کرنے کا طریقہ ہے۔
محمد عمر چیما، پیرس: جنرل ضیاء کے وقت میں بھی نصابیں بدلی گئی تھیں۔ وہ تبدیلیاں ایک اور فوجی حکومت نے ایک بار پھر تبدیلیاں کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری نسلوں کی پرورش اس لئے کی جارہی ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں کی خدمت کریں۔
ابی ابراہیم، ڈنمارک: یہ سب مغرب کی سازش ہے اسلام کے خلاف جو آہستہ آہستہ منظرعام پر آرہی ہے۔ وہ وقت قریب ہے جب اسلام کو فتح نصیب ہوگی۔
محمد نسیم درانی، سوات: یہ سب امریکہ کے اشارے پر ہورہا ہے۔
آصفہ رشید، بہاول نگر: بہت غلط بھی ہوا اور ایک لحاظ سے ٹھیک بھی ہے کہ ہمارے عوام کو ایڈز کے بارے میں آشنائی کی ضرورت ہے۔ اسلامیات میں سورہ کے خاتمہ کا فیصلہ غلط ہے۔ لیکن ایڈز کو نصاب میں شامل کرنے سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا۔
سعید احمد چشتی، پاک پتن: نصاب میں تبدیلیاں کی جائیں لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔
قیصر، بیجنگ: نصاب میں تبدیلی تو ضروری ہے کیونکہ موجودہ نصاب میں بہت خرابیاں ہیں۔ اب اللہ اللہ کرکے نصاب تبدیل ہوا ہے تو مولویوں نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ہے۔ اصل میں پاکستان کے تمام مسائل صرف اور صرف جاہل مولویں کی وجہ سے ہیں جو پوری قوم کا دماغ خراب کررہے ہیں۔ اب ایڈز کو اگر نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے تو اسے جاہلوں نے فحاشی قرار دینا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ ایڈز کے بارے میں معلومات اگر بچپن سے ہی بچوں کو دی جائیں تو بہت سے مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے۔
طیبہ چودھری، کینیڈا:یہ سب کچھ امریکہ سے مراعات حاصل کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ یہ بہت برا ہے اور ایسے نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہم لوگ ایک آزاد ملک ہیں، ہم اپنے اقدار اور ترجیحات کی قدر کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کو سیکولر بناتے ہیں تو پھر ایک الگ ملک بنانے کا کیا مقصد؟ حزب اختلاف کو حکومت کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔
ایم عمران چٹھہ مانی، پاکستان: تبدیلیاں ہی ملک کے نصاب میں ہوتی ہیں لیکن یہ صرف دنیاوی علوم میں ہونی چاہئیں۔ میرا مطلب ہے صرف ایسے مضامین جن میں ہر روز جدت پیدا ہوتی ہے۔ اسلامیات، پاک اسٹڈیز اور اردو کے مضامین میں تبدیلی کرنا ہمارے بچوں کو اپنی تاریخ سے غافل کرانے کے مترادف ہے۔
بشارت حمید، سمندری، پاکستان: یہ جو نصاب میں تبدیلی لائی جارہی ہے سو فیصد بیرونی طاقتوں کی ایماء پر کی جارہی ہے۔ نصاب میں تبدیلی لاکر موجودہ حکومت نئی نسل کو گمراہ کرنا چاہتی ہے اور بیرونی آقاؤں کا ایجنڈا پورا کررہی ہے، خواہ اس ملک میں عوام کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے۔ لیکن حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے آقا انہیں استعمال کرکے ٹیشو پیپر کی طرح پھینک دیں گے اور ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
چودھری نوید، ملتان: اسلامی اقدار کے خلاف نئی نسل کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ پاکستان کے دشمن ایک ترقی یافتہ پاکستان نہیں پسند کرتے ہیں۔ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ان کے جذبات امریکی مطالعاتی ادارہ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹوں سے واضح ہیں۔
نامعلوم: تبدیلیاں ہونی چاہئیں تاکہ مذہبی تعلیمات میں اضافہ کیا جاسکے، اس لئے نہیں کہ مغربی طرز زندگی کا غلام بن کر رہ جائیں۔
عبدالواحد حاکمی، جرمنی: یہ تبدیلیاں این جی او مافیا اپنے غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈالر سمیٹا جاسکے۔ پورے کے پورے نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس کا مقصد اچھے مسلمان پیدا کرنا ہونا چاہئے نہ کہ لادین معاشرہ۔ اگر کچھ لوگوں کو اسلام سے چِڑ ہے تو بہتر ہے وہ اپنی خدمت سیکولر ممالک میں جاکر پیش کریں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔
عرفان اکرم، راولپنڈی: ہمارے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت تو شدید ہے لیکن جو تبدیلیاں کی جارہی ہیں ویسی نہیں۔ قوم کے پاس پہلے ہی کوئی قبلہ نہیں، کوئی راستہ متعین نہیں اور مزید کنفیوز کیا جارہا ہے۔ اس تبدیلی کی ضرورت پاکستان سے زیادہ امریکہ کو ہے۔