بھارتی بچی، دنیا کا سات اربواں انسان

،تصویر کا ذریعہplan international
بھارت میں پیدا ہونے والی بچی کو دنیا کا سات اربواں انسان قرار دیا گیا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ’پلان انٹرنیشنل‘ کے مطابق نرگس نامی یہ بچی بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے مال نامی گاؤں میں صبح سات بج کر پچیس منٹ پر پیدا ہوئی۔ والدین نے اس بچی کا نام نرگس رکھا ہے۔
پلان انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نرگس کو علامتی طور پر منتخب کیا گیا ہے، کیونکہ اس بات کا پتہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ اصل میں سات اربواں بچہ یا بچی کہاں پیدا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس اندازے کا اعلان کیا تھا کہ پیر کو دنیا کی آبادی 700 ملین یعنی سات ارب ہو جائے گی اور اس نرگس کی پیدائش اور انتخاب کے ساتھ اس اندازے کی تکمیل ہو گئی ہے اور دنیا کی آبادی سات ارب کا سنگ میل عبور کر کے آگے کی طرف چل پڑی ہے۔
پیر کو ہی کو اس سے قبل منیلا کے ایک ہسپتال میں پیدا ہونے والے ایک بچی کو علامتی طور پر 700 كروڑوای یا سات اربواں انسان قرار دیا گیا تھا۔
ایک منٹ میں اکیاون بچے
بھارت کے بارے میں اعداد شمار اب تک سامنے آئے ہیں ان کے مطابق بھارت میں ہر ایک منٹ کے دوران اکیاون بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے گیارہ بچے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے اتر پردیش میں پیدا ہوتے ہیں.
پلان انٹرنیشنل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نرگس کے والدین کا نام ونيتا اور اجے کمار ہے اور نرگس کی پیدائش صوبائی دارالحکوت لکھنو سے تقریبا 50 کلومیٹر دور مل گاؤں کے ایک چھوٹے سے سرکاری ہسپتال میں پیر کی صبح ہوئی ہے۔
تنظیم نے بتایا ہے کہ نرگس کے والدین غریب کسان ہیں اور نرگس کو سات اربویں انسان کے طور پر منتخب کرنے کی وجہ بھارت میں لوگوں کی توجہ لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے اور پیدا ہوتے ہی مار ڈالنے اور جنسی تناسب کی جانب دلانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت میں ہر سال ہزاروں بچیاں قتل کر دی جاتی ہیں اور اس رحجان کو ختم کرنے کے لیے بھارتی حکومت ملک میں دوران زچگی جنس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے الٹراساؤنڈ تکنیک کے استعمال غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔
بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش، فلپائن اور کمپوچیا میں بھی یکساں وقت پر پیدا ہونے والے بچوں کو علامتی طور پر سات اربویں انسان منتخب کیا گیا ہے۔







