ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ ہزاروں انڈین نوجوان اچانک اپنے مستقبل کے حوالے سے غیریقینی کا شکار کیوں؟

ملازمتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اکتوبر میں جب روی (فرضی نام) اور ان کے کئی ساتھیوں نے محسوس کیا کہ ایک بڑی انڈین ایڈ ٹیک فرم میں ان کی ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے، تو انھوں نے فوری طور پر ایک نجی پیغام رسانی گروپ قائم کر لیا۔

جلد ہی گروپ روی اور ان کے ساتھیوں کے لیے اپنے خدشات، انتظامیہ سے بات کرنے کے لیے مشوروں اور مزدوروں سے متعلق قوانین کے بارے میں گفتگو کے لیے ایک ’محفوظ جگہ‘ بن گیا۔

روی کہتے ہیں ’اس نے ٹیم کے بہت سے لوگوں کو کمپنی سے نکالے جانے کی بہتر پالیسیوں پر بات چیت کرنے میں مدد کی۔‘

ملازمتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پچھلے کچھ مہینے پرائیویٹ کمپنیوں خصوصاً ٹیکنالوجی سیکٹر میں انڈین کارکنوں کے لیے خاصہ مشکل رہے ہیں۔ ایڈٹیک کمپنیاں ’بیجوز‘ اور ’ان اکیڈمی‘ نے سینکڑوں ملازمتیں ختم کیں۔ ٹوئٹر نے انڈیا میں اپنا نصف سے زائد عملہ فارغ کر دیا، اور فیس کی بک کی بانی کمپنی میٹا کی جانب سے اپنے 87 ہزار کے عملے سے 13 فیصد کو نوکری سے نکالے جانے پر بھی انڈینز کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی۔

برطرفی کے سلسلے نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کو جنم دیا ہے اور متاثرہ افراد میں سے بہت سے انٹرنیٹ کا رخ کر رہے ہیں، تاکہ اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر سکیں اور دوسرے ممالک میں اپنے جیسےدوسرے افراد کو مدد فراہم کر سکیں۔

وہ غیر رسمی برخاستگیوں کے بارے میں ٹویٹ کر رہے ہیں، لنکڈ اِن پر ملازمتیں مانگ رہے ہیں، اور ساتھیوں کے ساتھ اپنے حقوق پر بات کرنے کے لیے اور صحافیوں کو معلومات دینے کے لیے واٹس ایپ اور سلیک جیسے میسجنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔

پرتھا دت، جو کہ مینجمنٹ اور ڈویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ چند دہائیاں قبل بھی برطرفی کا امکان زیادہ تر ’کارکردگی کی بنیاد‘ پر ہوتا تھا۔

وہ کہتی ہیں، ’آج برطرفیاں اور حجم کم کرنا قبول شدہ کاروباری طریقہ کار بن گیا ہے، اس لیے برطرفی اب کوئی ممنوع موضوع نہیں رہی۔‘

یہ طے نہیں کہہ ہے کہ سوشل میڈیا کتنا موثر ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سےمتاثرین کو متحد کرنے اور آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے، خاص طور پر ایسے میں جب ٹریڈ یونینیز اب اتنی طاقتور نہیں ہیں جتنی پہلے تھیں۔

اگرچہ لاکھوں انڈین مزدور ابھی بھی ٹریڈ یونینوں سے جڑے ہیں، مجموعی طور پر یہ تحریک برسوں سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے متعدد عوامل ہیں بشمول پرائیویٹ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی ملازمتیں، لیبر کی نئی اصلاحات اور کنٹریکٹ پر کام میں اضافہ، ان سب وجوہات نے یونینیز کی رکنیت اور طاقت کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

انڈین اسکول آف بزنس میں تنظیمی رویے اور پریکٹس کے پروفیسر چندر شیکھر سری پادا کہتے ہیں کہ ’آجروں کو زیادہ قابل رسائی بنانے کے ساتھ، سوشل میڈیا ملازمین کو ان کی شکایات کو مالکان تک پہنچانے کےلیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، اس طرح یہ ایک ثالث کی ضرورت کو بھی کم کر رہا ہے، ایک کردار جو روایتی طور پر یونینوں کے ذریعے ادا کیا جاتا ہے۔‘

ملازمتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈین ٹیکنالوجی کمپنی بیجو کی جانب سے اکتوبر میں یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ وہ اپنا منافع بڑھانے کے لیے 2500 ملازمین کو برخاست کر رہا ہے، اس کے کئی ملازمین نام ظاہر کیے بغیر کمپنی کے ماحول اور وہاں درپیش دباؤ کے بارے میں میڈیا کو بتاتے رہےہیں۔

ٹوئٹر کے نوکری سے نکالے جانے والے ملازمین نے اپنی جھنجھلاہٹ ظاہر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ٹوئٹر کے ایک سابق ملازم نے لکھا ’تصدیقی ای میل کے بغیر ہی نکال دیا گیا، پستی کا ہمیشہ ایک نیا درجہ ہوتا ہے۔‘ پرتھا دت کہتی ہیں نوکریاں نہ ہونے کے باوجود ملازمین اپنی صلاحتیوں کو پیش کرنے کے معاملے میں کافی پر اعتماد ہیں اس لیے وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں چاہے اس طرح نام لینے سے ان کے اس شخص یا کمپنی سے تعلقات خراب ہی کیوں نہ جائیں۔

اور اس طرح عوامی ردعمل سے کبھی کبھی مدد بھی ملتی ہے کہ عملے کو غیر حساس انداز میں نوکری سے نکالنے یا کام کی جگہوں پر نقصان دہ ماحول کے لیے معذرت کرتے ہیں۔

لیکن پرتھا خبردار کرتی ہیں کہ یہ کامیابی محدود اور جزوقتی ہو سکتی ہے اور یہ شاید ہر ایک کو میسر بھی نہ ہو، کئی لوگ شاید اس خوف سے بول نہ سکیں کہ یہ ان کی مستقبل کی ملازمتوں پر برے اثرات ڈالے گا یا ان کے آجر ان کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔

اس لیے بہت سے ملازمن اپنی تکالیف کا اظہار کرنے اور حقوق کے لیے لڑنے کے لیے دوسرے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

انڈیا کے شمالی شہر تِرواننت پورم میں بیجو کے 140 ملازمین نے الزام عائد کیا کہ انھیں مستعفی ہونے کے لیے مجبور کیا گیا۔ وہ کیرالہ کے ریاستی وزیر سے بھی ملے جنھوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ یہ حکومت بائیں بازوں کی جماعتوں کے اتحاد کی ہے جو ملازمین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔

بعد ازاں بیجو نے اعلان کیا تھا کے وہ تِرواننت پورم میں اپنی کارروائیاں بند کرنے کے اپنے فیصلے کو واپس لے رہی ہے۔

ملازمتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایڈ ٹیک فرم میں کام کرنے والے تین سابقہ ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ معاوضہ اور ٹوٹس پیریڈ کے معاملے پر کمپنی سے بات کرنے کے لیے ٹریڈ یونینز کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔

آل انڈیا آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ای ایس ایمپلائیز یونین ایک رجسٹرڈ ٹریڈ یونین جو کہ 2018 سے سینکڑوں ٹیک ملازمین کی مزدوری کے تنازعات میں مدد کر رہی ہے۔ اس کے بنگلور چیپٹر کے صدر سمن دشماہاپترا کا کہنا ہے کہ تنظیم کی رکنیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملازمین کی کل تعداد کے مقابلے میں یہ اب بھی بہت کم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بیشتر لوگ اب بھی ٹریڈ یونینوں کا حصہ بننے میں جھجھک رہے ہیں کیونکہ انھیں انتظامیہ کی طرف سے انتقامی کارروائی کا خوف ہے، یا ’وہ خود کو ’مزدور‘ کے طور پر نہیں دیکھتے۔‘

لیکن دشماہاپترا کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ انڈیا میں ملازمین کی تنظیمیں دوبارہ سر اٹھائیں گی کیونکہ عالمی اقتصادی صورتحال میں اتار چڑھاؤ کے باعث ملازمتیں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں امریکی کمپنیوں ایمازون، سٹاربکس اور ایپل ’کے کارکنوں نے یونینز بنائیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یونین سازی کے مطالبات بڑھنے اور صنعتوں تک پھیلنے کا امکان ہے۔

تاہم پروفیسر چندر شیکھر سری پادا اس سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹریڈ یونینوں کے پھیلاؤ اور مضبوطی کو معمول بننے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کام کی جگہیں پہلے ہی ترقی پسند، عوام پر مبنی پالیسیاں اپنانے کے بارے میں زیادہ باشعور ہو چکی ہیں۔

’یونینز بری انتظامیہ کی وجہ سے بنتی ہیں۔ جب آجر ناکام ہو جاتے ہیں تو یونینیں بڑھ جاتی ہیں۔ آج آجروں کے پاس مشاہدہ موجود ہے لہٰذا ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے انتظام کو کاروبار کا مرکز بنائیں۔‘

’لیکن اگر تنظیمیں لوگوں کو غیر حسّاس اور بے وقوفانہ انداز میں برخاست کرتی رہیں، جیسا کہ ہم اکثر ہوتے دیکھ رہے ہیں ، تو کہانی مختلف ہو سکتی ہے۔‘