’ادلے کا بدلہ‘: انڈیا میں ویمنز ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار پر پاکستان کے میچز سری لنکا منتقل

خواتین کے کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلیں جائیں گے۔

سری لنکا رواں سال ویمنز ورلڈ کپ کے ان میچوں کی میزبانی کرے گا جس میں پاکستان شرکت کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچوں کے حوالے سے جاری انتظامات کا حصہ ہے۔

رواں سال کے اوائل میں انڈیا کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے دونوں ممالک کی میزبانی میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں نیوٹرل مقامات متعارف کرائے تھے، جسے ہائبرڈ ماڈل بھی کہا جاتا ہے۔

دسمبر میں اعلان کردہ منصوبے کے تحت کوئی بھی ملک آئی سی سی ایونٹ کے لیے دوسرے ملک کا سفر نہیں کرے گا۔

تیس ستمبر سے دو نومبر تک جاری رہنے والے ویمنز ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے انڈیا کے شہروں بنگلورو، گوہاٹی، اندور اور وشاکھاپٹنم کے ساتھ اب سری لنکا کا شہر کولمبو بھی شامل ہوگا۔

کولمبو پاکستان کے سات گروپ میچوں کی میزبانی کرے گا جس میں انڈیا اور انگلینڈ کے خلاف میچ بھی شامل ہیں۔ اگر پاکستان ٹورنامنٹ میں آگے تک پہنچ جاتا ہے تو یہ سیمی فائنل اور فائنل کی میزبانی بھی کرے گا۔

بنگلورو افتتاحی میچ کی میزبانی کرے گا جس میں انڈیا شامل ہوگا اور اگر پاکستان فائنل تک نہیں پہنچتا تو فائنل بھی یہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ اپریل میں ہی واضح طور پر یہ کہہ چکے تھے کہ پاکستان کی جانب سے خواتین کی ٹیم انڈیا نہیں جائے گی اور اب ’انڈیا کو انتظامات کرنے ہیں کہ (پاکستان کے) میچز کہاں ہوں گے۔‘

آٹھ ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ کے شیڈول کی مکمل فہرست کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

آسٹریلیا دفاعی ورلڈ کپ چیمپیئن ہے، جس نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے پچھلے ٹورنامنٹ کے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔

میچوں کی سری لنکا منتقلی سے ایک ممکنہ مسئلہ موسم ہو سکتا ہے کیونکہ اکتوبر سری لنکا میں سال کے نمی والے مہینوں میں سے ایک ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ ماہ ہونے والی کشیدگی سے قبل بھی دونوں ممالک بڑے ٹورنامنٹس کے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف میچ نہیں کھیل رہے تھے۔

چیمپیئنز ٹرافی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اگرچہ پاکستان نے 2023 میں مردوں کے 50 اوورز کے ورلڈ کپ کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا لیکن انڈیا نے اس سال کے اوائل میں پاکستان کا سفر نہیں کیا تھا۔

آئی سی سی کے انتظامات کے تحت انڈیا نے اپنے میچ دبئی میں کھیلے اور ہر میچ ایک ہی مقام پر کھیلنے کے بعد ٹرافی اپنے نام کی۔

مئی میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار فوجی حملوں کے باعث انڈین پریمیئر لیگ اور پاکستان سپر لیگ دونوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔

تاہم اب آئی پی ایل کا فائنل منگل کو کھیلا جائے گا۔

پاکستانی شائیقن کرکٹ کا کہنا یہ ادلے کا بدلہ ہے کیونکہ انڈیا پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کرتا رہا ہے تو اس بار پاکستان نے بھی وہی کیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف عمر فاروق نے لکھا ’پاکستان نے ادلے کا بدلہ دیتے ہوئے آئی سی سی ایونٹ کے لیے انڈیا کا دورہ کرنے سے انکار کیا کیونکہ انڈیا نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کیا تھا۔‘