سیمی کنڈکٹرز: کیا انڈیا چِپس کا عالمی ’پاور ہاؤس‘ بن سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نکھل انعامدار
- عہدہ, بی بی سی
انڈیا میں سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کی صنعت کو بطور ایک ’قومی مشن‘ سہارا دینے کے لیے دی گئی مراعات کو ڈیڑھ سال گزر گیا ہے لیکن اس حوالے سے پیشرفت میں جلد بازی سے کام لیا گیا ہے۔
امریکی کمپنی مائیکرون نے مغربی ریاست گجرات میں ایک اسمبلی اور ٹیسٹ پلانٹ میں تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
ادھر تائیوان کی ٹیکنالوجی کمپنی فاکس کون نے انڈین کمپنی ویدانتا کے ساتھ چپ پلانٹ بنانے کے اپنے 19.5 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبہ سے دستبرداری اختیار کی ہے۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کم از کم دو دیگر کمپنیوں کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت نے چِپ بنانے والی کمپنیوں کو 10 ارب ڈالر کی مراعات دی ہیں اور اب وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے منتظر ہیں۔ حکومت اس صنعت کو مضبوط کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کا ایک گروپ بنا رہی ہے۔
انڈیا نے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین پر دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے امریکہ کے ساتھ کریٹیکل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی (آئی سی ای ٹی) پر ایک معاہدہ کیا جبکہ گذشتہ ہفتے جاپان کے ساتھ اسی طرح کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
اس کے علاوہ کم از کم تین انڈین ریاستوں نے انفرادی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد اس شعبے میں سرمایہ کاری کو محفوظ بنانا ہے۔
کارنیگی انڈیا کے ایک فیلو کونارک بھنڈاری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک بڑی سبسڈی اور مضبوط پالیسی نے اس شعبے کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے تاہم اس میں پیش رفت کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا کلیدی کردار ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’کمپنیاں ان ٹیکنالوجیز کو لانے کا وعدہ کرتی ہیں یا نہیں، اس کا انحصار کاروباری ماحول، مقامی مارکیٹ، برآمدی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور ٹیلنٹ جیسے متعدد عوامل پر ہو گا۔‘
فی الحال اس صنعت کی کامیابی کی پہیلی کے حوالے سے صرف کچھ حصے ہی ملے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی برتری
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیمی کنڈکٹر دراصل جدید ڈیجیٹل زندگی کے ہر پہلو میں شامل ہیں۔ چاہے وہ چھوٹے سمارٹ فونز ہوں یا میگا ڈیٹا سینٹرز جو انٹرنیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
سیمی کنڈکٹر کی جدید ٹیکنالوجی الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں ترقی کے لیے اہم ہے۔
اس وقت انڈیا چپس کی عالمی مانگ کا پانچ فیصد بناتا ہے۔
صنعتی پیداوار پر تحقیق کرنے والی کمپنی ڈیلوئٹ کے مطابق یہ تعداد 2026 تک دگنی ہونے کا امکان ہے، جس کی وجہ سمارٹ فونز، اپلائنسز اور سیلف ڈرائیونگ کاروں جیسی نئی ٹیکنالوجی کے رجحانات ہیں۔
ڈیلوئٹ کی رپورٹ کے مطابق ’مقامی مارکیٹ واضح طور پر پھل پھول رہی ہے لیکن چپ پروڈکشن ویلیو چین کے اہم مراحل میں پروڈکٹ ڈیویلپمنٹ، ڈیزائن، فیبریکیشن، اے ٹی پی (اسمبلی، ٹیسٹ اور پیکیجنگ) اور سپورٹ شامل ہیں۔
’انڈیا صرف ڈیزائن فنکشن میں مہارت رکھتا ہے۔ جہاں تک مینوفیکچرنگ کی بات آتی ہے تو یہاں اسے صفر سے شروع کرنا ہو گا۔‘
ڈیلوئٹ کے ایک رکن کتھیر تھنڈاوریان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں 50 ہزار انڈینز یہ کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں چپ ڈیزائن میں 20 فیصد عالمی ٹیلنٹ موجود ہے۔
سیمی کنڈکٹر کے اکثر بڑے مینوفیکچررز جیسے انٹیل، اے ایم ڈی اور کوالکام کے پاس انڈیا میں اپنے سب سے بڑے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ مراکز ہیں جو مقامی انجینیئرنگ ٹیلنٹ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ڈیلوئٹ کے مطابق تربیت یافتہ افراد کا حصول کمپنیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کاری شروع ہونے پر ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد کو ویلیو چین میں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لہٰذا اس شعبے میں صنعت اور تعلیمی شعبوں کے درمیان تعاون بہت اہم ہو گا۔
مثال کے طور پر حکومت اپنی ’چپس ٹو سٹارٹ اپ‘ سکیم کے ذریعے 85 ہزار انجینیئروں کو تربیت دے کر انھیں باصلاحیت بنانے پر کام کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی دوڑ میں انڈیا اس لیے پیچھے ہے کیونکہ یہاں لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور بجلی کے مستحکم نظام کی عدم موجودگی ہے۔ یہ عوامل سیمی کنڈکٹرز کی صنعت میں پیش رفت کے لیے اہم ہیں۔
علاقائی سیاست بھی انڈیا کے حق میں نظر آتی ہے۔ امریکہ نے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے کچھ حصوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے انڈیا کو چین کے متبادل کے طور پر دیکھا ہے۔
تھانڈاورین کے مطابق ایک قریبی اتحادی کی حیثیت سے انڈیا امریکی کمپنیوں کے لیے ایک قابل عمل حل ہے جہاں اس کی پیداوار کے کسی شعبے کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی، خاص طور پر آر سی ای پی (علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری) جیسے کثیر الجہتی تجارتی معاہدوں میں اس کی عدم موجودگی، مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
بھنذاری کہتے ہیں ’اگر چین سے باہر قائم سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کو متنوع بنایا جاتا ہے، اگر انھیں ویتنام منتقل کیا جاتا ہے تو انھیں اپنے اجزا پر لاگو ٹیرف سکیم میں بڑی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کا امکان نہیں ہو گا۔
’اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کے درمیان زیادہ یکسانیت کا امکان ہے جو اسی علاقائی تجارتی انتظام کا حصہ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رکاوٹیں
چپ بنانے والوں کے لیے خود کو ایک عالمی آپشن کے طور پر پیش کرنے میں نئی دہلی کو ایسے چیلنج کا سامنا ہے جو صنعتوں کے مینوفیکچررز کے لیے بہت زیادہ جانا پہچانا ہوتا ہے۔
یہ ملک اپنی سافٹ ویئر کی مہارت کے لیے جانا جاتا ہے مگر فی الحال ہارڈ ویئر کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا۔
جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا حصہ سالوں سے جمود کا شکار رہا ہے کیونکہ سہولت فراہم کرنے والے ماحول کی کمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو اسے تبدیل کرنے اور اپنے سیمی کنڈکٹر مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ’بنیادی اور پائیدار اصلاحات‘ کی ضرورت ہو گی۔
امریکہ میں قائم انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن فاؤنڈیشن کے سٹیفن ایزل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس میں سرمایہ کاری کی رکاوٹوں جیسے کسٹمز ٹیرف، محصولات اور انفراسٹرکچر کو دور کرنا شامل ہے۔‘
’انڈیا، چین، یورپی یونین یا امریکہ سے مقابلہ نہیں کرسکے گا اگر یہ صرف مراعات کے ذریعے سیمی کنڈکٹر اے ٹی پی اور فیبس کو متوجہ نہ کرسکا۔‘
مراعات کی یہ پالیسی دنیا بھر کے دوسرے ملکوں میں بھی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ اس شعبے میں کہیں زیادہ مراعات دیتا ہے۔
بھنڈاری کہتے ہیں کہ زیادہ تر کمپنیاں سبسڈی کے لیے اپنے آپریشنز کو منتقل نہیں کریں گی کیونکہ ان کے پاس سپلائرز، پارٹنرز، صارفین، لاجسٹکس نیٹ ورک کا موجودہ ایکو سسٹم موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کی سبسڈی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ فی الحال ملک اپنی طاقت کے مطابق کھیل سکتا ہے۔
مثال کے طور پر یہ انجینیئروں کے لیے تربیتی سکولوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے یا چپس کی اصل تیاری کے بجائے سیمی کنڈکٹر اے ٹی پی اور ڈیزائن سپورٹ میں اپنی مسابقت کو دوگنا کرسکتا ہے جو انتہائی سرمائے پر مبنی اور طویل عمل ہے۔
ایزل نے متنبہ کیا کہ انڈین حکومت کو صرف اس شعبے کی چمک دمک دیکھ کر متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس میں قدم جمانا ہوں گے جس کے لیے حکومت کی مزید سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششیں صحیح سمت ہے۔
بھنڈاری کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر فیبریکیشن کی سہولیات نہ ہونے سے انڈیا کی درآمدی لاگت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ گھریلو الیکٹرانکس کی پیداوار 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایک بڑا جُوا
انڈیا کے سیمی کنڈکٹر جوئے کے ساتھ بہت کچھ واضح طور پر داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ماضی میں اس کی شروعات غلط ثابت ہو چکی ہیں لیکن برسوں کی تاخیر کے بعد ایک پر عزم پالیسی صحیح سمت میں صرف پہلا قدم ہے۔
بھنڈاری کہتے ہیں کہ یہ پچھلی غلطیوں کو درست کرنے کا ایک تازہ موقع ہے جس کے لیے خطے کی سیاست بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
تقسیم شدہ سپلائی چین کے ساتھ الجھی ہوئی دنیا میں انڈیا خود کو ایک چوراہے پر کھڑا محسوس کرتا ہے۔ وہ یا تو ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی سنجیدہ کوشش کر سکتا ہے یا ایک اور موقع ضائع کر سکتا ہے۔











