آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنوبی کوریا: جلد ہی لوگوں کی عمریں ایک سال کم کیوں ہو جائیں گی؟
’آپ کی عمر کیا ہے؟‘ یہ ایک سادہ سا سوال ہے جس کا جواب واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے، لیکن جنوبی کوریا میں رہنے والوں کے لیے اس سوال کا جواب دینا اتنا اسان نہیں ہے۔
جنوبی کوریا میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے اس کی پیدائش پر ہی ایک سال کا تصور کیا جاتا ہے۔ نئے سال کے پہلے دن اس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے یہ کہ دسمبر میں پیدا ہونے والا بچہ صرف چند ہفتوں میں دو سال کا تصور کیا جائے گا۔
عموماً نیا سال آتے ہی اس ملک میں لوگ اپنی عمر میں ایک سال بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب صورتحال بدلنے والی ہے اور جنوبی کوریائی باشندے سنہ 2023 میں اپنی موجودہ عمر سے ایک یا دو سال چھوٹے ہو جائیں گے، کم از کم سرکاری کاغذات کی حد تک۔
رواں ہفتے جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے کوریا کے عمر کے حوالے سے دو روایتی طریقوں کو ختم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا، یہ وہ روایتی طریقے ہیں جن کے تحت جنوبی کوریا میں عمر کی گنتی کی جاتی تھی۔
جون 2023 سے، نام نہاد ’کورین ایج‘ سسٹم کی سرکاری دستاویزات میں مزید اجازت نہیں ہو گی اورصرف معیاری، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ باقی رہے گا یعنی جنوبی کوریائی باشندوں کی عمروں کا حساب اس طریقے سے ہو گا جیسے کسی بھی عام انسان کی عمر کا ہوتا ہے۔
جنوبی کوریا کی حکومت باقی دنیا میں عمر کو جانچنے کے نظام کو اپنا کر عوام کی پریشانی کو کم کرنے کے لیے مہم کا وعدہ پورا کر رہی ہے۔
فی الحال، کوریا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حساب کا طریقہ نام نہاد ’کورین ایج سسٹم‘ ہے، جس میں ایک شخص پیدائش کے وقت ایک سال کا ہوتا ہے اور پھر ہر نئے سال کے پہلے دن اس کی عمر ایک سال بڑھ جاتی ہے۔
ایک دوسرے طریقے میں ایک شخص کی عمر پیدائش کے وقت صفر سے شمار کی جاتی ہے مگر نئے سال کے آغاز پر یعنی یکم جنوری کو ایک سال کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بنیادی طور پر شراب اور سگریٹ نوشی کی قانونی عمر کا حساب لگانے کے لیے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن جنوبی کوریا عالمی سطح پر تسلیم شدہ نظام کا بھی استعمال کرتا ہے جس میں کسی فرد کی سالگرہ کے حساب سے عمر کا حساب لگایا جاتا ہے اور پہلی سالگرہ پیدائش کے 365 دن بعد ہی منائی جاتی ہے۔
اگر ان تینوں نظاموں کے تحت دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر، 8 دسمبر 2022 تک، 31 دسمبر 2002 کو پیدا ہونے والے شخص کی عمر بین الاقوامی نظام کے تحت 19، گنتی کے نظام کے تحت 20 اور کوریائی نظام کے تحت 21 سال ہے۔
حکمران پیپلز پاور پارٹی کے یو سانگ بم نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’نظرثانی کا مقصد غیر ضروری سماجی و اقتصادی اخراجات کو کم کرنا ہے، کیونکہ عمر کا حساب لگانے کے مختلف طریقوں کی وجہ سے قانونی اور سماجی تنازعات کے ساتھ ساتھ الجھن بھی برقرار رہتی ہے۔‘
نظام بدلنے کی ضرورت کیوں پڑی؟
ہو سکتا ہے کہ باقی دنیا کے لیے آپ کی عمر محض ایک عدد ہو، لیکن جنوبی کوریا میں عمر کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف کوریا کے کوریائی زبان اور ادب کے شعبے سے منسلک، پروفیسر شِن جی ینگ کے بقول ’جنوبی کوریائی لوگوں کے لیے کسی کا نام جاننے سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ کوئی شخص ان سے بڑا ہے یا نہیں۔ لوگوں کے لیے یا جاننا ضروری ہوتا ہے کہ آپ نے کسی شخص کو احترام سے مخاطب کرنا ہے یا نہیں۔‘
کوریا میں عمر شمار کرنے کی روایت چین اور ایشیا کے کئی دیگر حصوں سے آئی ہے، لیکن اب تک دنیا میں جنوبی کوریا وہ واحد ملک تھا جہاں عمر کا حساب روایتی طریقے سے کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ہانسنگ یونیورسٹی کے قانون اور پالیسی کے شعبے کے پروفیسر کِم یونجو کہتے ہیں کہ ’کوریائی لوگوں کو عمر شمار کرنے کے بین الاقوامی طریقے کے بارے میں آگاہی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے اثرات نوجوانوں پر زیادہ ظاہر ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوریا میں رائج روایتی طریقے کی وجہ سے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔‘
قطع نظر اس تمسخر کے، ملک میں رائج مخلتف طریقوں کی وجہ سے جنوبی کوریائی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً، کئی والدین ماضی میں اپنے بچوں کی عمروں کے حوالے سے سرکاری حکام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔خاص طور وہ والدین جن کے بچے دسمبر میں پیدا ہوئے، کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ ان کے بچے کی عمر زیادہ شمار ہو گی جس کی وجہ سے اسے سکول میں داخلے اور بعد کی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کورونا کی وبا کے دوران بھی کئی والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے لوگوں کا مطالبہ تھا کہ عمر کا ایک یکساں معیار مقرر کیا جائے۔ کورونا کی ویکسین لگانے کے لیے سرکاری حکام کبھی تو بین الاقوامی معیار استعمال کر رہے تھے اور کبھی کوریا کا روایتی طریقہ، جس کے باعث کئی نوجوانوں کو معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ویکسین کے حقدار ہو چکے ہیں یا نہیں۔
مسٹر لی اس سے قبل بھی ’کورین ایج‘ کے نظام کی وجہ سے کئی افراد کے لیے’غیر ضروری معاشرتی اور معاشی اخراجات‘ کی بات کر چکے ہیں۔ اس وقت انھوں نے ایک مقدمے کا بھی ذکر کیا تھا جس میں اضافی تنخواہ اور ریٹائرمنٹ کی عمر سے متعلق ملکی قوانین کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔