’ایسے کیسے پھیلے گی کرکٹ؟‘ سمیع چوہدری کی تحریر

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

آئی سی سی کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کی بدولت وہ کرشمہ ہو پایا جسے فطری طور پہ برپا ہونے کو شاید تین آئی سی سی ایونٹس بھی کم پڑ جاتے۔ امریکی مارکیٹ میں کرکٹ کا فروغ آئی سی سی کا سہانا خواب تھا جس کی عملی تعبیر میں بھرپور مدد پاکستان نے فراہم کی۔

پہلی بار آئی سی سی نے کھیل کے پھیلاؤ کے لیے ایسا انقلابی فارمیٹ متعارف کروایا ہے جہاں دنیا بھر کو نمائندگی دے کر کرکٹ کو گلوبل سپورٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ سو، امریکہ کا اس ایونٹ کی میزبانی کرنا بھلے امریکہ کے لیے نہ سہی، آئی سی سی کے لئے بہت بڑی بات تھی۔

پاکستان کی قیمت پہ امریکی ٹیم اس سپر ایٹ راؤنڈ تک پہنچ پائی جس کی ورلڈ کپ میں شمولیت ہی محض میزبانی کی بنیاد پہ تھی۔ اور پھر جو کچھ اپ سیٹ ہوئے، ان کی بدولت افغانستان اور بنگلہ دیش نے بھی نیوزی لینڈ اور سری لنکا جیسے پرانے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے مرکزی راؤنڈ سے باہر کر دیا۔

ان عوامل نے اگرچہ سپر ایٹ میں مسابقت کی حدت کچھ کم کر دی ہے مگر جنوبی افریقہ، انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے طفیل کچھ رونق باقی بھی ہے۔ گو، ورلڈ ایونٹس کی دو دیرینہ رقابتیں پاک بھارت اور انگلینڈ آسٹریلیا مقابلوں میں نمٹ چکیں، مگر ایک نئی رقابت ابھی انڈیا آسٹریلیا مقابلے میں باقی ہے جو کڑی کرکٹ اور مقابلے کی بھرپور حرارت فراہم کرے گی۔

اگرچہ بنگلہ دیش اپنے ابتدائی دونوں میچز ہار کر سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے مگر ویسٹ انڈیز، امریکہ اور افغانستان کے امکانات ابھی زندہ ہیں۔ البتہ سیمی فائنل تک غیر متوقع رسائی کے لیے انھیں اپنے علاوہ دیگر نتائج پہ بھی انحصار کرنا ہو گا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آج تک کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹونٹی ایونٹس میں کبھی بھی میزبان ٹیم چیمپئن نہیں ٹھہری۔ ویسٹ انڈیز کے پاس البتہ یہ موقع ہے کہ وہ اس ریکارڈ کو بدلے اور دو ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹائٹلز کے فاتح کپتان ڈیرن سامی کی ہونہار کوچنگ میں نئی تاریخ رقم کرے۔

ڈیرن سامی کی قیادت میں قابلِ تعریف پہلو ہمیشہ یہی رہا کہ لمبے ایونٹس میں شروع کی ناکامیوں کو کبھی سر پہ سوار نہیں کرتے تھے اور اپنا دھیان جیت کی کھوج میں اس قدر رچائے رکھتے کہ بوقتِ ضرورت قسمت کو بھی انہی پہ مہربان ہونا پڑتا تھا۔

پاول کی کپتانی اور سامی کی کوچنگ بھی کچھ ایسا معجزہ برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو ویسٹ انڈین کرکٹ کو زوال سے نکال کر، اپنی دیرینہ شہرت کی راہ پہ بحال کر سکے۔ لیکن سیمی فائنل تک رسائی پانے کو انہیں جنوبی افریقہ پہ حاوی ہونا پڑے گا۔

موجودہ ورلڈ کپ نے جہاں نئی امریکی مارکیٹ اور دنیا بھر سے مستعار شدہ امریکی کرکٹ ٹیم متعارف کروائی ہے، وہیں افغان کرکٹ کا شاندار ارتقا بھی واضح کیا ہے کہ کس قدر کم وقت میں افغان کرکٹ ایک ایسی قوت بن چکی ہے جسے ہرانا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہے۔

افغان کرکٹ کا یہ بدلاؤ جوناتھن ٹروٹ کے ساتھ شروع ہوا اور کچھ عرصہ قیادت کی تبدیلیوں سے گزرنے کے بعد اب اسے راشد خان کی شکل میں ایک ایسا کپتان بھی مل چکا ہے جو جارحیت اور بے خوفی سے لیس ہے۔

مگر جس نکتے پہ آئی سی سی کو غور کرنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ اس قدر تسلسل سے ہر سال ورلڈ ایونٹس کروانے کے باوجود ہر بار فائنل فور کی دوڑ گھوم پھر کر انہی چار پانچ چہروں تک کیوں آ جاتی ہے جن سے مانوسی اب بوریت کی حد تک بڑھنے لگی ہے۔

گو بظاہر کسی ممبر کا اس دوڑ تک رسائی پانا یا اس سے بے دخل ہونا آئی سی سی کے اختیار میں نہیں ہے مگر یہ بہرحال آئی سی سی کو ہی دیکھنا ہے کہ اس کا ریونیو ڈسٹری بیوشن ماڈل کس طرح سے کھیل کے صحیح پھیلاؤ میں رکاوٹ بنے جا رہا ہے۔

گو کہنے کو بِگ تھری کب کی ختم ہو چکی ہے مگر کھیل پہ راج آج بھی تین ہی ممالک کا ہے۔ یہی تینوں آپس میں اس قدر دو طرفہ کرکٹ کھیلتے ہیں کہ دیگر ٹیموں کو ان سے اجنبیت ہی ورلڈ کپ میں مہنگی پڑ جاتی ہے۔ کیا افغانستان اور آسٹریلیا کا آمنا سامنا صرف ورلڈ سٹیج پہ ہی ہو گا؟

نہ صرف موجودہ ریونیو ڈسٹری بیوشن ماڈل مضبوط ممالک کو مزید قوت دے رہا ہے بلکہ اس کی بدولت نیدرلینڈز جیسی زرخیز ٹیمیں بھی فنڈز کے لیے سسکتی رہ جاتی ہیں جو اپنے پوٹینشل میں فُل ممبرز سے ہرگز کم نہیں ہیں مگر وسائل کی قلت اور ایکسپوژر کی کمی ان پہ بھاری پڑتی ہے۔

فی الحال تو آئی سی سی سکھ کا سانس لے سکتی ہے کہ اسے نیوزی لینڈ اور پاکستان کی بے دخلی کے باوجود سپر ایٹ میں انڈیا کی کرکٹ مارکیٹ دستیاب رہی ہے اور ایک نئی امریکی مارکیٹ میں بھی کچھ نہ کچھ پر پھیلانے کا موقع ملا ہے۔

مگر کچھ ہی روز میں جب یہ ایونٹ تین چار متوقع فاتحین میں سے کسی ایک کی تاج پوشی پہ ختم ہو گا تو ایک لمحے کو یہ سوچنے کا بھی موقع ہو گا کہ کھیل کے فروغ کے لیے ہر سال کوئی ورلڈ کپ کروانا اور بگ تھری میں سے کسی ایک کی تاج پوشی ہی کافی نہیں۔