’فیصلہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو داغدار کھلاڑیوں کو کبھی واپس نہ آنے دیتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معروف کرکٹ تبصرہ کار اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین رمیز راجہ عہدے سے برطرفی کے بعد سے خبروں میں ہیں اور اب میچ فکسنگ سے متعلق ان کے لیے حالیہ بیان نے ہلچل پیدا کر دی ہے۔
انھوں نے نیوز چینل سما کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایسے تمام کرکٹرز جن کا کھیل کسی بھی طرح سے داغدار ہے، ان کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ سوال میں ان کے سابق ساتھیوں وسیم اکرم اور وقار یونس کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ میچ فکسنگ سکینڈل اور الزامات کے بعد ان کی واپسی کے حامی تھے۔
دوسری طرف انھوں نے انڈیا کے پاکستان آ کر کھیلنے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔۔ اور یہ بھی کہا کہ انھیں بُلٹ پروف کار اس لیے ملی تھی کیونکہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔
رمیز راجہ: ’داغدار کھلاڑیوں کو واپس نہیں آنا چاہیے‘
محمد عامر کی جانب سے رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کی خبر پر خوشی کا اظہار کرنے کے معاملے پر رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ بطور کھلاڑی سیاست کرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا۔
’اگر آپ ادارے کے بارے میں ٹویٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کی بقا کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔‘
رمیز راجہ کا کہنا تھا ’پی سی پی ایک آجر ہے اور یہ سب پی ایس ایل، فرسٹ کلاس اور سب کے کھلاڑیوں کو بھی ہمارے ذریعے پیسے جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی کھیل ڈسپلن مانگتی ہے۔ آپ کا کام ایک عظیم کھلاڑی بننا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رمیز نے کہا کہ ’ہم نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہت سارے کھلاڑیوں کے ساتھ، یہ کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں۔ جب آپ بیانات دیتے ہیں تو نظم و ضبط تباہ ہوتا ہے۔‘
میچ فکسنگ کے بعد محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی نہ ہونے سے متعلق رمیز راجہ کا اپنے ماضی کے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں برداشت نہیں کر سکتا کہ نو کھلاڑی جیتنے کے لیے زور لگا رہے ہیں اور دو کھلاڑی یہ کر رہے ہیں کہ ہم کسی طرح ہاریں۔ یہ دھوکہ ہے۔ اور یہ وہی سمجھ سکتا ہے جس پر یہ بیتی ہے۔‘
’یہ اگر پہلی دفعہ ہوتا تو ٹھیک ہے ہمارے ہاں ہر چار سال بعد ایسا کچھ ہوتا ہے۔ آپ انھیں معاف کرنے کے لیے کہاں تک جائیں گے۔‘
’جتنے بھی داغدار کھلاڑی ہیں میرے پاس ان کے لیے کوئی محبت نہیں ہے۔‘
وسیم اکرم کے ماضی میں میچ فکسنگ کے الزامات میں ملوث ہونے سے متعلق رمیز راجہ کا کہنا تھا ’ان سمیت کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے (ماضی کے الزمات سے متعلق رپورٹ پر) تعاون نہیں کیا، تفتیش میں اس کا مطلب ہے کہ ان کا معاملہ بارڈر لائن تھا۔ اگر میں اس وقت فیصلہ ساز ہوتا تو کبھی نہ آنے دیتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کو ایک دفعہ سسٹم میں آنے دیا اور ہمیں کہا کہ ان کے ساتھ کھیلنا بھی ہے اور کام بھی کرنا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ مینجمنٹ کی کیا مجبوری تھی۔ داغدار کھلاڑیوں کے لیے میرے دل میں کوئی ہمدردی نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے تھا کہ محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف جسیے کھلاڑی جو سزا کاٹ چکے ہیں، انھیں واپس نہیں آنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جو بھی پی سی بی میں آئے اسے دور پورا کرنے دیں‘
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ انھیں بدل کر نجم سیٹھی کو دوبارہ چیئرمین پی سی بی لگانے پر اعتراض یہ ہے کہ ’یہ ایک ادارے کا معاملہ ہے اور ’ایک شخص کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اس کے آئین و قانون کو بدلا جا رہا ہے۔ جو سراسر اقربا پروری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ہفتے پہلے آسٹریلین ٹیم کے ساتھ ڈنر میں وزیر اعظم نے کہا کہ آپ بہترین کام کر رہے ہیں اور پھر نہ جانے کیا ہوا۔‘
انھوں نے اپنے ’وقار یونس اور مصباح الحق کو بے عزت کر کے نکالنے‘ کے الزامات کے جواب میں کہا کہ ’ایسا نہیں کیونکہ انھیں کنٹریکٹ کے مطابق دو سال کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ مجھے لگا کہ اس وقت تبدیلی ضروری تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اول تو کسی صحافی کا چیئرمین ہونا نامناسب ہے اور اگر قانون وہی رہتا تو بھی مناسب تھا لیکن وہ قانون ہی بدل رہے ہیں۔
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی کی تعیناتی میں وزیرِ اعظم کا عمل دخل ختم کر کے کوئی دوسرا طریقہ کار رکھنا ضروری ہے۔
’ہم حکومت سے پیسے بھی نہیں لیتے۔ خود پیسے کماتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہمیں ان چیزوں سے آزاد ہونا چایے۔ یا جو بھی آئے اسے دور پورا کرنے دیں۔ اسے بیچ میں نہ ہٹایا جائے۔‘
جان کو خطرہ
پی سی بی کے خرچے پر ایک کروڑ 65 لاکھ کی بُلٹ پروف گاڑی رکھنے کے معاملے پر رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی پی سی بی کی ہے اور اور اب آنے والے چیئرمین اسے استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا انھیں جان سے مارنے کا خطرہ تھا۔
ان کا کہنا تھا ’آسٹریلیا ٹور کے آغاز سے ہی مجھے دھمکیاں ملی تھیں۔ ڈی آئی جی صاحب میرے گھر آئے تھے اور (یہ) بتایا تھا۔‘
چیف سلیکٹر کی تبدیلی کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں شاہد آفریدی کے چیف سیلکٹر بننے پر اعتراض نہیں بلکہ صرف آدھی رات کو لوگوں کو ہٹانے کے طریقے پر اعتراض ہے۔
انڈیا سے متعلق سخت مؤقف
انڈیا کے پاکستان نہ آنے پر پاکستان کے بھی وہاں جا کر کرکٹ نہ کھیلنے جیسے سخت مؤقف پر رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے چیئرمین کا عہدہ لیڈر شپ مانگتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیم کو ٹوور کروانا ایک ڈیلیوری ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم واپس گئی تو وہاں لیڈر شپ کام آئی اور وہ دوبارہ واپس آئے۔ ان سے ہم نے پیسے لیے۔ وہ دو اضافی میچ کھیل کر گئے۔ اس کی وجہ تھی کہ ہم نے ایک مؤقف اپنایا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا کمرشل پہلو بھی ہے۔ میرا کہنا تھا کہ ہم کب تک ان کی دھمکیاں سنتے رہیں گے۔
’ہمارے لیے مؤقف اپنا ضروری ہے۔ ہمیں قدم جمانا ہوں گے ورنہ ہمیں ٹورنامنٹ نہیں ملیں گے۔‘
سوشل میڈیا رد عمل
رمیز راجہ کے انٹرویو کے مختلف حصے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔
کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی کے راستے بند کیے جانے سے متعلق رمیز راجہ کے بیان پر کئی سوشل میڈیا صارفین متفق دکھائی دیے تو کئی کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ شاید عہدے سے ہٹائے جانے کا غصہ نکال رہے ہیں۔
ایاز خان نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا ’میں رمیز راجہ کے جذبات سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ مجھے سلمان بٹ یاد ہیں جو میرے پسندیدہ کرکٹرز میں سے ایک تھے اور اللہ نے اُنھیں 26 سال کی عمر میں پاکستان کی کپتانی کرنے کا اعزاز دیا تھا۔ اپنی سزا پوری کرنے کے بعد وہ ٹی وی پر آئے اور بار بار دعویٰ کیا کہ یہ ایک سازش تھی اور قوم کو بیوقوف بنایا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک اور صارف محمد علی کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ نے وسیم اکرم سے بدلہ لیا کیونکہ انھوں نے اہنی کتاب میں کہا کہ فیلڈ میں انھیں کمشنر کے بیٹے ہونے کا فائدہ ملتا تھا۔
خضر نقوی نے سوال اٹھایا کہ ’انھوں نے یہ سب کچھ اپنی دور میں کیوں نہیں کیا۔ وہ چیئرمین تھے اور بہت کچھ کر سکتے تھے، لیکن وہ ناکام رہے۔‘
یاسر خان نامی صارف نے کسی حد تک رمیز راجہ کی بات سے اتفاق کیا اور کہا ’جسٹس قیوم کی رپورٹ پر اگر عمل ہوتا تو آج پاکستان میں کوئی فکسنگ کرنے کی بات نہ کرتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2










