جب کاجول کی ساس نے کہا ’بچے ہم سنبھالیں گے تم کام کرو‘

،تصویر کا ذریعہUNIVERSAL PR
- مصنف, سوپریا سوگلے
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
انڈین اداکارہ کاجول کی زندگی میں جب ان کی بیٹی نیاسا نے قدم رکھا تو ان کی زندگی بھی ان کے گرد گھومنے لگی۔ پھر ان کی ساس نے کہا کہ 'بیٹا کام کرنا بھی ضروری ہے۔'
جمعہ کو ریلیز ہونے والی فلم 'سلام وینکی' کے موقعے پر اداکارہ کاجول نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔
فلم 'سلام وینکی' میں کاجول ایک ایسی ماں کا کردار ادا کر رہی ہیں جس کا بیٹا مسکولر ڈسٹروفی (ڈی ایم ڈی) نامی بیماری میں مبتلا ہے۔
اس بیماری میں مریض کے اعضا بتدریج کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ فلم میں ماں کا کردار ادا کرنے والی کاجول اپنے مرتے ہوئے بیٹے کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
کاجول بتاتی ہیں کہ شروع میں وہ فلم 'سلام وینکی' میں کام نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن ڈائریکٹر ریوتی کی موجودگی کی وجہ سے وہ اس کردار سے انکار نہیں کر سکیں۔
حقیقی زندگی میں کاجول دو بچوں کی ماں ہیں۔
اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کاجول نے کہا کہ جب بیٹی نیاسا زندگی میں آئی تو ان کا پہلا سال بہت پاگلوں جیسا تھا، زندگی کا مرکز صرف بیٹی تھی۔
کاجول کا کہنا ہے کہ وہ اس 'امتحان' میں فیل نہیں ہو سکتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’خدا نے میرے ہاتھ میں ننھی سی زندگی دی ہے اور مجھے اس کی صحیح دیکھ بھال کرنی ہے۔'
کاجول بتاتی ہیں کہ جب بیٹی ایک سال کی ہوئی تو انھیں کـچھ سکون ملا۔

،تصویر کا ذریعہUniversal PR
جب ساس نے کہا ’بچے ہم سنبھالیں گے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کئی خواتین کا کہنا ہے کہ ماں بننے کے بعد خواتین کے کریئر میں ایک وقفہ یا خلا آ جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خاندانی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ہندی فلموں کی اداکارائیں بھی ان سے مختلف نہیں ہیں۔ جب کاجول ماں بنیں تو وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھیں۔ ان کے کريئر میں بھی ایک وقفہ آیا۔
تاہم کاجول کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ وقفہ بہت احتیاط سے سوچ سمجھ کر لیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں مالی طور پر مستحکم ہوں، فلموں میں کام نہ کرنا میرا فیصلہ تھا۔ یہ وقفہ نہ تو میرے بچے چاہتے تھے اور نہ ہی ان کا مطالبہ تھا۔ مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنا تھا۔ اگر میں کام کر رہی ہوتی تو ایسا نہیں کر پاتی۔ بطور خاص ایسی صورت میں جب کہ میں جس رفتار سے کام کرتی ہوں اگر اس رفتار سے کام کرتی رہتی تو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس فیصلے میں اجے (دیوگن، کاجول کے شوہر) یا کسی اور کا کوئی دخل نہیں تھا۔ میں نے کسی سے نہیں پوچھا۔ یہ میرے بچے ہیں، میں ان کا خیال رکھوں گی، یہ میرا فیصلہ تھا۔‘
کاجول نے اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد دو سے تین سال کا وقفہ لیا۔ کاجول کا خیال ہے کہ شاید وہ اس وقفے کو کبھی پورا نہیں کر پائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
جب وہ اپنی بیٹی کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں تو ان کی ساس نے ان سے ایسی بات کہی جس سے انھیں فلموں میں واپسی کی خواہش پیدا ہوئی۔
کام کرنے والی خواتین کے خاندان سے تعلق رکھنے والی کاجول کہتی ہیں کہ ان کی ساس ایک بے مثال خاتون ہیں۔
کاجول نے بتایا کہ ’جب نیاسا 10 ماہ کی تھیں تو میری ساس نے مجھ سے کہا کہ بیٹا، کام کرنا ضروری ہے، یہ مت سوچو کہ اگر بچہ پیدا ہو جائے تو تمھیں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
کاجول خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ان کے ارد گرد ایسی خواتین ہیں جو انھیں کام پر جانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان میں ان کی ماں، دادی، ساس اور بھابھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی بچے بھی انھیں کام پر جانے کی تلقین کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUNIVERSAL PR
16 سال بعد عامر خان کے ساتھ فلم
سنہ 2006 میں عامر خان کے ساتھ فلم ’فنا‘ میں کام کرنے والی کاجول تقریباً 16 سال بعد ایک بار پھر ’سلام وینکی‘ میں عامر کے ساتھ نظر آئیں۔
کاجول کہتی ہیں کہ ’اتنے سالوں کے تجربے کے باوجود، عامر خان نے اداکاری میں کسی قسم کا کوئی مخصوص انداز قائم نہیں کیا ہے۔ وہ اپنی فلموں میں جو بھی کردار ادا کرتے ہیں اس میں وہ اپنا 500 فیصد دیتے ہیں۔ وہ اب بھی ہر فلم میں بہتر اداکار بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اس فلم میں بھی ایسا ہی ہے۔‘
کاجول نے اپنے کریئر میں کئی جذباتی کردار ادا کیے ہیں لیکن اب وہ لوگوں کو ہنسانا چاہتی ہیں۔ وہ ایک کامیڈی فلم کرنا چاہتی ہیں۔
کاجول نے پہلی بار ہدایت کار ریوتی کے ساتھ کام کیا ہے۔ کاجول ان کی طرح بہادر بننا چاہتی ہیں۔ کاجول کا ماننا ہے کہ ریوتی نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہت سے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں۔
ریوتی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’سلام وینکی‘ میں کاجول کے علاوہ وشال جیٹھوا، آہنا کامرا، راہول بوس اور پرکاش راج کے اہم کردار ہیں۔ یہ فلم نو دسمبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی ہے۔











